میری ابھی عمر ہی کیا ہے ۔۔۔؟؟

عورت جب بھی اپنی عمر کی دوسری عورتوں سے ملتی ہے تو غیر ارادی طور پر اپنے آپ کو دوسروں سے چھوٹا گردانتی ہے اور یہ سمجھتی ہے کہ میں تو اپنی دوسری ہمعمروں سے کم عمر ہی لگتی ہوں. اُس کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا. ادھیڑ عمری کو پہنچنے کے بعد اپنی بتیسی کا

پہلا لرزیدہ دانت نکلوانے جب وہ دانتوں کے ڈاکٹر کے کلینک میں پہنچی تو ڈاکٹر کا نام پڑھ کر ٹھٹک سی گئی. اس نام نے اس کے ذہن میں اپنے کالج کے اولین زمانے کے ایک لمبے چوڑے خوبصورت اور گھنے بالوں والے خوبرو لڑکے کی یاد تازہ کر دی جو کسی حوالے سی اس کی اولین یکطرفہ محبت بھی گردانا جاسکتا تھا. اس خیال کے آتے اس کے دل کی دھڑکن کچھ بے ترتیب سی ہوگئی کہ یہ ڈاکٹر کہیں وہی لڑکا ہی تو نہیں ہے. اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے سارا وقت وہ ماضی کی خوشگوار یادوں کی جگالی کرتی رہی.کچھ دیر بعد جب وہ ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ہوئی تو اندر ایک کشمش کی طرح مرجھائی ہوئی جلد والے مکمل گنجے شخص کو دیکھ کر اس کے ارمانوں پر حقیقت کا کھردرا پَوچَھا پِھر گیا. دانت کی ضروری کارروائی کے بعد اس نے برسبیلِ تذکرہ ڈاکٹر سے پوچھا “کیا آپ سن 1985 میں گورنمنٹ کالج میں پڑھتے تھے؟” “جی بالکل ” ڈاکٹر نے کچھ متجسس ہوتے ہوئے جواب دیا. ” آپ کو شاید یاد نا ہو لیکن آپ میری ہی کلاس میں ہوتے تھے…. ” اس نے ڈاکٹر کے تجسس کی چنگاری کو ہوا دیتے ہوئے بات کو آگے بڑھایا. ” اچھا!…. ” اس گنجے اور بڈھے ڈاکٹر نے تجسس اور دلچسپی کے ساتھ کِھلتے ہوئے پوچھا ” کون سا مضمون پڑھاتی تھیں آپ؟….. “وہ دن ہے اور آج کا دن، وہ گنجے، بڈھے اور کھڑوس لوگوں میں بے وجہ دلچسپی لینے سے اجتناب برتتی ہے….

Comments are closed.