میری روز کی آمدن 15 ہزار روپے کردو ، پھر پٹرول کا ریٹ بے شک 500 روپے کردینا ۔۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نجم ولی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔میں مہنگائی کو چیزوں کی قیمت کے حوالے سے ماپتا ہی نہیں۔ اگر میری جیب میں قیمت چکانے کے لئے رقم موجود ہے تو پھر کوئی شے مہنگی نہیں ہے۔ جب سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے سستی روٹی سکیم شروع کی

تو ایک میٹنگ اس کی تعریف کروانی چاہی۔ میرا کہنا تھا، میاں صاحب، اگر غریب کی چھ سات سو کی دیہاڑی لگ جاتی ہے تو وہ سات روپے کی روٹی بھی خرید لے گا لیکن اگر اس کی دیہاڑی نہیں لگتی تو اس کے لئے دو روپے کی روٹی بھی مہنگی ہے، آپ روٹی سستی کرنے سے زیادہ غریب کی دیہاڑی پر توجہ دیں۔میں پہلے بھی بیان کرچکا، اگر میرے پاس دس کروڑ روپے پڑے ہوئے ہیں تو میرے لئے چا ر کروڑ کی لینڈ کروزر بھی مہنگی نہیں ہے اور پچپن لاکھ کی ایم جی تو بہت سستی ہے لیکن اگر میرے پاس دو، چار لاکھ روپے ہیں تومیرے لیے بائیس لاکھ کی کلٹس بھی بہت مہنگی ہے۔ایک بندہ جو دن کے پانچ سو روپے کماتا ہے اور مہینے کے پندرہ ہزار سے کم، وہ اگر میرے ساتھ نیلا گنبد جاتا ہے اور وہاں پرانی روایتی سٹینڈرڈ سائیکل کی قیمت سولہ سے اٹھارہ ہزار سنتا ہے تو اس کے لئے وہ بھی مہنگی ہے کہپورے مہینے کی کمائی دے کر ایک سائیکل خریدلینا گھاٹے کا سودا ہے۔ اگر انگلینڈ میں آپ چار سو روپوں کے لگ بھگ ایک لیٹر پٹرول کی بات کرتے ہیں تووہاں عام انگریز مہینے کا پاکستانی روپوں میں آٹھ سے نو لاکھ روپے کماتا ہے۔ آپ مجھے مہینے کی اتنی ہی آمدن دے دیں اور پٹرول کا رخ بھی وہی کر دیں مگر حالات یہ ہیں کہ لوگ تیزی سے بے روزگار ہو رہے ہیں۔ ستم یہ ہے کہ میرے ملک کا امیر، امیر ترین ہو

رہا ہے اوریہی وجہ ہے کہ مہنگی ترین گاڑیوں کی سیل بڑھتی جا رہی ہے اور غریب، غریب ترین ہو رہا ہے۔ سب سے بری حالت اس کی ہے جس کی فکسڈ انکم ہے، جو سیلریڈ پرسن ہے۔ ہمارے وزیراعظم کے لئے بجلی اور پٹرول سے ٹریولنگ تک فری ہے مگر ان کا لاکھوں میں بھی گزارا نہیں ہوتا اور جس نے یہ سب بل ادا کرنے ہیں وہ کیا کرے، آہ، بجلی کے بلوں میں دو طرح سے اضافہ ہو رہاہے۔ ایک آئی ایم ایف کے دباؤ پر پونے دو روپے بڑھے ہیں اور دوسرے ہر مہینے فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پرایک سے تین روپے بڑھ جاتے ہیں۔اگر آپ لاکھوں روپے کماتے ہیں تو آپ اس شخص کا مسئلہ سمجھ ہی نہیں سکتے جو چند ہزار کماتا ہے۔ گھروں میں جھگڑوں اور طلاقوں کے اکثریتی معاملات کی وجہ معاشی ہے۔اگر آپ ائیرکنڈیشنڈ روم میں ہیں تو آپ باہر کی گرمی کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ وہ وزیر ٹرانسپورٹ کبھی ٹرانسپورٹ کے مسائل حل نہیں کرسکتا جس نے کبھی خود لاری اڈے سے بس میں بیٹھ کے سفر نہ کیا ہو۔اس نے مسافروں اور ڈرائیوروں کی گفتگو نہ سنی ہو۔حکمران اور عوام الگ الگ جزیروں کے رہائشی ہو چکے ہیں۔ ایک طرف وہ جزیرے ہیں جن کے گرد باڑیں لگ رہی ہیں، بڑی بڑی دیواریں بن رہی ہیں اور دوسری طرف عوام کے سمندر ہیں۔ہمارے حکمران بہت اچھی باتیں کرتے ہیں مگر غریبوں کے پیٹ باتوں سے نہیں بھرتے۔ حکومت، اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کے مسائل کچھ اور ہیں اور عوام کے کچھ اور۔