میرے تین سوالوں کے جواب دے دو ۔۔۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے تازہ ترین کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ہم سب لوگ زندگی کی چھوٹی چھوٹی مشکلوں کے دوران وہ پیرا شوٹ بھول جاتے ہیں جن کی وجہ سے ہم بڑی مصیبتوں سے بچ گئے تھے‘ ہم پیراشوٹ دینے والوں کو بھی فراموش کر بیٹھتے ہیں‘

ہم کبھی رک کر ان کا شکریہ ادا نہیں کرتے‘ بقراط نے کہا تھا ہم انسانوں کواگر شکر اور شکریہ کی قیمت کا اندازہ ہو جائے تو ہم زندگی میں تھینک فل ہونے کے علاوہ کوئی کام نہ کریں‘ مہاتما بودھ کی پوری زندگی بھی شکر کی تبلیغ میں خرچ ہو گئی‘ بودھ جب شہزادہ تھا تو اس کے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا تھا ’’انسان دکھی کیوں ہوتا ہے‘‘ اس نے اپنی زندگی اس سوال کے جواب کے لیے وقف کر دی۔سلطنت چھوڑی‘ محل چھوڑا‘ اپنی حسین ترین بیوی یوشودھرا چھوڑی‘ اپنا سات دن کا بیٹا راہول چھوڑا اور جنگلوں میں مارا مارا پھرنے لگا‘ وہ اپنے وقت کے ہر جوگی‘ ہر پنڈت اور ہر رشی کے پاس گیا مگر اس کو اپنے سوال کا جواب نہ ملا‘ اس نے آخر میں مجبور ہو کر گیا کے چھوٹے سے گائوں میں برگد کے درخت کے نیچے پناہ لے لی‘ آلتی پالتی ماری اور آسمان کی طرف دیکھ کر کہا‘ تم اگر وہاں ہو تو تمہیں میرے سوال کا جواب دینا ہو گا ورنہ میں اس درخت کے نیچے بیٹھا بیٹھا چل بسوں ا‘ وہ دھن کا پکا تھا چناں چہ ایک رات آسمان سے بجلی گری اور اسے اپنے سوال کا جواب مل گیا۔قدرت نے اسے بتایا ’’انسان کو صرف اور صرف خواہش دکھ دیتی ہے‘ خواہش بڑی ہو گی تو دکھ بڑا ہو گا‘ خواہش چھوٹی ہو گی تو دکھ چھوٹا ہو گا‘‘ یہ پیغام خوشی کے محل کی کنجی تھا‘ بودھ نے لوگوں کو بتانا شروع کر دیا‘ خواہشیں چھوڑ دو‘ سکھ پا جائو گے‘ پورا بودھ مت اس نظریے پر کھڑا ہے‘ یہ لوگ دو چادروں‘ لکڑی کے سلیپرو‘

ایک جھولے اور بھیک کے چھوٹے سے کشکول کے ساتھ پوری زندگی گزار دیتے ہیں‘ خواہشوں کی گٹھڑی اٹھا اٹھا کر نہیں پھرتے‘ ان کی دوسری عادت شکر ہے‘ یہ روز صبح اٹھنے کے بعد اللہ کی نعمتیں گنتے ہیں اور پھر ایک ایک نعمت کا نام لے کر رب کا شکر ادا کرتے ہیں۔یہ شکریے کو بھی ادھار سمجھتے ہیں اور اس ادھار کو کبھی اپنے ذمے نہیں رہنے دیتے‘ بودھوں کی مقدس کتاب میں لکھا ہے نروان کے بعد مہاتما بودھ کا ایک دن اپنی ریاست کپل وستو سے گزر ہوا‘ اس کی بیوی نے سنا تو اس نے اپنے بیٹے راہول کو بودھ کے پاس بھجوا دیا لیکن خود محل میں رہی‘ بودھ نے بیٹے سے پوچھا ’’تمہاری ماں کیوں نہیں آئی‘‘ اس نے جواب دیا ’’وہ کہہ رہی تھیں بودھ کے ذمے میرا ایک ادھار ہے‘ یہ اگر واقعی کسی کا ادھار نہیں رکھتا تویہ پھر میرا ادھار ادا کرنے کے لیے خود میرے پاس آئے گا‘‘ بودھ نے سنا‘ مسکرایا اور خالی پائوں محل کی طرف روانہ ہو گیا۔بیوی نے پردے کے پیچھے سے پوچھا‘ میرے تین سوال ہیں‘ مجھے ان کے جواب چاہییں‘ بودھ سنتا رہا‘ اس نے کہا‘ راجپوت عورتیں لڑائیوں میں بھی اپنے خاوندوں کو خود تیار کر کے بھجواتی ہیں لیکن آپ نے ایک معمولی سے جواب کی تلاش میں جانے سے پہلے مجھے بتانا بھی مناسب نہ سمجھا‘ آپ چوری چھپے محل سے بھاگ گئے‘ کیوں؟ بودھ نے جواب دیا‘ میرا خیال تھا میں نے اگر بتایا تو پھر میں تمہیں چھوڑ کر نہیں جا سکوں گا‘

یوشودھرا کا دوسرا سوال تھا آپ کہتے ہیں کائنات کو بنانے والا ہر جگہ موجود ہے‘ اگر وہ ہر جگہ ہے تو کیا وہ آپ کو محل میں نہیں مل سکتا تھا‘ آپ نے وہ کیوں چھوڑا؟ بودھ کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا‘ اس نے اس کے بعد پوچھا‘ آپ اپنے بیٹے راہول کو دنیا میں کیا دے کر جائیں گے‘ بودھ مسکرایا اور اپنا کشکول اپنے بیٹے کے ہاتھ میں دے دیا اور اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا‘ یہ دنیا کی سب سے بڑی سچائی‘ سب سے بڑی نعمت ہے۔بودھ بھکشو کہتے ہیں آپ شکر کرتے جائیں آپ کی نعمت اور خوشیاں بڑھتی جائیں گی اور آپ شکریہ ادا کرتے جائیں آپ کی خوشیوں اور نعمتوں میں رنگ‘ذائقہ اور خوشبو آتی جائے گی‘ نبی اکرمؐ نے بھی فرمایا تھا‘ جو شخص انسانوں کا احسان نہیں مانتا وہ اللہ کا احسان بھی تسلیم نہیں کرتا۔آپ یقین کریں اگر ہمارے منہ کا لعاب سوکھ جائے‘ کان میں میل پیدا نہ ہو یا ناک میں بال نہ اگیں تو ہم کروڑوں روپے خرچ کر کے بھی یہ نعمتیں حاصل نہیں کر سکتے‘ ہمارے ٹیسٹ بڈز (ذائقہ محسوس کرنے کے سیل) میں سے اگر ایک گروپ خراب ہو جائے تو ہم ساری دنیا کی دولت دے کر بھی وہ واپس حاصل نہیں کر سکتے‘ ہماری ایک دن کی آکسیجن اور ایک دن کی روشنی کی قیمت 8 لاکھ روپے ہے اور یہ ان 16لاکھ نعمتوں میں سے صرف دو ہیں جو اللہ نے ہمیں مفت دے رکھی ہیں مگر ہم اس کے باوجود اس کا شکر ادا نہیں کر تے‘ کیوں؟ کیوں کہ ہم نے آج تک ان لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کیا جن کے پیرا شوٹس کی وجہ سے ہم زندہ بھی ہیں اور زندگی میں آگے بھی بڑھ رہے ہیں۔آپ یاد رکھیں انسان شکریے سے شکر تک جاتا ہے‘ آپ جب تک شکریے کی عادت نہیں ڈالتے آپ شکر کی نعمت تک نہیں پہنچتے چناں چہ آئیے آج سے شکریہ ادا کرنا شروع کرتے ہیں‘ ان سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں جن کی کھال کے جوتے پہن کر ہم زندگی میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *