میرے سامنے ہاتھ جوڑ کر کیوں رونے لگا؟

معروف مذہی سکالر مولانا طارق جمیل نے اپنے ایک خصوصی بیان میں کہا کہ گھوٹکی کے قریب ایک کچہ علاقہ ہے . وہاں میرا ایک بیان تھا اور سندھ کے ڈاکوئوں کا ایک بہت بڑا سردار میرے بیان میں آیا ہوا تھا . اگلے دن میں جب ناشتے پر بیٹھا تھا تو

ڈاکوئوں کا وہ سردار مجھ سے ملنے آیا اور میرے سامنے بیٹھ گیا. اس ڈاکو کی اتنی دہشت تھی کہ میں توبہ کرنے لگا . اسی اثنا میں ڈاکو نے سندھ کے اندازمیں ہاتھ باندھ کر مجھے سندھی لہجے میں کہا کہ سائیں! آپ نےجو نبی ﷺ کے آبائو اجدا یعنی ان کے شجرہ نسب کو رات بیان کیا وہ انتہائی دل کو چھو لینے والا ہے. اس کے ساتھ ہی وہ ڈاکو رونے لگ گیا. اس نے صرف آپ ﷺ کا شجرہ نسب سن کر ہی تمام گناہوں سے توبہ کر لی اور اسی دن سے ڈاکوئوں والا پیشہ چھوڑ دیا. اس ڈاکو کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے تھی. دوسری جانب معروف مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل نے اپنی ایک خصوصی بیان میں کہا کہ میں ایک روز عصر کی نماز پڑھ کر نکلا تو ایک نوجوان میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ طارق جمیل ہیں، میں نے کہا ، جی!آپ نے کیسے پہچانااور آپ کہاں کے ہو؟ اس نوجوان نے جواب دیا کہ’’ میں جنوبی افریقہ سے تعلق رکھتا ہوں، آپ کے ساتھ مجمع دیکھاتو پوچھا کہ یہ کون جا رہا ہے؟ تو مجھے بتایا گیا کہ یہ پاکستان کے طارق جمیل ہیں‘‘ نوجوان نے کہا کہ’’ میں آج عصر کی نماز پڑھنے پہلے آ گیا تو مجھے بیٹھے بیٹھے نیند آ گئی ، میں نے خواب میں اللہ کے نبی ﷺ کی زیارت کی، آپ ﷺ نے مجھے فرمایا کہ طارق جمیل کو میرا سلام پہنچا دوتو میں نے یہ کام کر دیا‘‘.مولانا طارق جمیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی کے دل میں کوئی نہیں جھانک سکتا، میں اپنی قسم بھی نہیں کھا سکتا کہ میں خطابات اور تبلیغ کا کام اللہ کیلئے کر رہا ہوں، میری نیت کا اور میرے معاملات کا قیامت کے روز پتہ لگے گا.مولانا طارق جمیل نے کہا کہ ہمیں اپنی نبی ﷺ کی معاشرت سے سیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کیسے تجارت کرتے تھے، خاوند کیسے تھے، طاقت میں آئے تو کیسے تھے. تبلیغ کا مقصد یہی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مبارک زندگی کو سیکھا جائے. م

Sharing is caring!

Comments are closed.