میرے ڈرائنگ روم میں سگریٹ نہ پیو ورنہ

لاہور (ویب ڈیسک) ویسے تو پاکستان کی بری فوج نے جنرل پرویز مشرف کی قیادت میں بارہ اکتوبر کی شام وزیراعظم نواز شریف کی منتخب حکومت کا تختہ الٹا تھا لیکن اس حکومت میں شامل بعض اہم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انھیں کئی ہفتے پہلے ایسی اطلاعات مل چکی تھیں کہ فوجی سربراہ نے حکومت پر قبضہ

نامور خاتون صحافی سحر بلوچ بی بی سی کے لیے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ کرنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔ان میں سے ایک واقعہ 14 ستمبر 1999 کا ہے جس کی تفاصیل اس وقت کی نواز شریف کابینہ کے اہم ترین رکن اور وزیر اطلاعات مشاہد حسین نے بی بی سی کو بتائی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نواز شریف بطور وزیرِ اعظم، متعدد وزرا (جن میں مشاہد حسین سید خود بھی شامل تھے) اور دیگر حکام کے ہمراہ سکردو گئے جہاں انھیں لینے کے لیے چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف اور فوج کی اعلیٰ کمانڈ کے افسران موجود تھے۔مشاہد حسین کے مطابق وہیں طے ہوا کہ شام کو محفل منعقد ہو گی جس میں پرانے گانے گائے اور سنے جائیں گے۔ ’اُسی خوشگوار محفل کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جنرل پرویز مشرف اور ان کے ساتھ موجود فوج کے دیگر افسران نے ’نواز شرف زندہ باد‘ کے نعرے بھی لگائے۔‘سینیٹر مشاہد حسین بتاتے ہیں کہ اس دوران انھوں نے نوٹ کیا کہ راولپنڈی کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمود، جن کے ماتحت شمالی علاقہ جات بھی آتے تھے، وہاں موجود نہیں تھے۔وہ کہتے ہیں کہ اس موقع پر انھوں نے جنرل پرویز مشرف سے پوچھا کہ جنرل محمود کہاں ہیں؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ راولپنڈی میں مصروفیات کی بنا پر نہیں آ سکے۔مشاہد حسین کہتے ہیں کہ عموماً ایسا نہیں ہوتا، اس وقت یہ واضح ہو گیا کہ حکومت کا تختہ الٹنے کی تمام تر پلاننگ ہو چکی تھی اور اگر سکردو میں کسی وجہ سے بات بگڑ جاتی

اور جنرل پرویز مشرف کو گرفتار کر لیا جاتا تو متبادل پلان پنڈی سے بغاوت کرنے کا تھا۔مشاہد حسین کہتے ہیں کہ ستمبر 1999 کے دوران وزیرِ اعظم ہاؤس کا گارڈ بھی تبدیل کر دیا گیا اور 111 بریگیڈ، جس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کسی بھی قسم کی فوجی بغاوت کے دوران یہ بریگیڈ سب سے پہلے حاضر ہوتی ہے، اس کا کمانڈر تبدیل کر دیا گیا تھا۔وہ مزید بتاتے ہیں کہ اگست کے اواخر اور ستمبر کے اوائل میں چند سیاسی و سماجی کارکنان، جن میں انسانی حقوق کے کارکنان اور وکلا بھی شامل تھے، سے مبینہ طور پر پاکستان کی افواج سے منسلک اہلکاروں نے بات کی اور اس دوران انھیں بتایا گیا کہ حکومت جانے والی ہے اور کیا آپ نئی حکومت میں بطور وزیر شامل ہونا پسند کریں گے؟مشاہد حسین کے مطابق دونوں طرف سے تیاری مکمل تھی۔ اور میاں نواز شریف کو بھی سمجھ آ چکا تھا کہ موجودہ حالات میں گزارا نہیں ہو سکتا۔ لیکن انتظار اس بات کا تھا، کہ پہل کون کرے گا؟سابق فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف اس تاثر کی تردید کرتے رہے ہیں کہ انھوں نے کسی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نواز شریف کو اقتدار سے علیحدہ کیا۔ وہ ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ نواز شریف کے خلاف فوج نے ایک ادارے کے طور پر ایکشن لیا تھا اور اس کی وجہ اپنے سربراہ کی غیر منصفانہ اور غیر شفاف برطرفی کی کوشش تھی۔مشاہد حسین سیّد کہتے ہیں ‘12 اکتوبر کی شام سات بجے میں اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا۔

سات بج کر پانچ منٹ پر مجھے آپریٹر کا فون آیا اور اس نے کہا کہ فوج آ گئی ہے۔‘وہ بتاتے ہیں کہ اسی وقت مجھے یہ بھی پتا چلا کہ میرے گھر آنے سے پہلے وزیرِ اعظم ہاؤس کا محاصرہ کیا جا چکا ہے۔مشاہد حسین سیّد کہتے ہیں کہ ‘میرے گھر کے شیشے اور دروازے توڑے گئے۔ میں اوپر کی منزل پر تھا، بوٹوں کی آواز آئی اور میں سمجھ گیا کہ فوجی بغاوت ہو چکی ہے۔ اب ایسی صورتحال میں شروع کے چند لمحات بڑے خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ گھبراہٹ پھیل چکی ہوتی ہے اور خوف بھی طاری ہوتا ہے۔ ایک میجر سامنے آیا اور اس نے ہتھیار نکالا ہوا تھا، میں نے انھیں کہا ‘ریلیکس میجر، یہاں کسی کے پاس ہتھیار نہیں ہے۔ ہتھیار مت چلانا۔‘مشاہد حسین کہتے ہیں کہ انھیں ڈر تھا کہ ان کے گھر والوں کے سامنے کچھ ہو نہ جائے ۔میجر نے انھیں اسی آرام سے جواب دیا ‘سر، وی ہیو ٹیکن اوور۔ آپ آرام سے بیٹھ جائیں۔‘مشاہد حسین کہتے ہیں ‘میں نے پھر انھیں بتایا کہ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ کھانا کھا رہا ہوں، آپ ڈرائنگ روم میں بیٹھ جائیں۔ اس وقت میری اہلیہ کو یہ فکر تھی کہ یہ لوگ ڈرائنگ روم میں سگریٹ پی رہے ہیں۔ تو انھوں نے ایک دو کو ڈانٹتے ہوئے کہا کہ یہ سموکنگ ایریا نہیں ہے یہاں سگریٹ نہ پیئں۔‘مشاہد حسین کا دعویٰ ہے کہ اس وقت منسٹرز کالونی میں اور بھی وزیر تھے لیکن ان کے گھر فوج نہیں گئی۔ جس کے بعد انھیں یہ بھی پتا چلا کہ پی ٹی وی کا بھی محاصرہ کیا جا چکا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *