میر ظفراللہ خان جمالی کی وزارت عظمٰی سے فارغ ہونے کی اصل کہانی سامنے آگئی

لاہور (ویب ڈیسک) میر ظفر اللہ جمالی کے حوالے سے چوہدری شجاعت حسین اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں پرویز مشرف کے دور میں صدر مشرف کو میر ظفراللہ جمالی سے پہلی شکایت یہ تھی کہ وہ سست اور کاہل آدمی ہیں سرکاری فائلیں کئی کئی روز تک ان کے دفتر میں ان کے دستخطوں کے

انتظار میں پڑی رہتی ہیں لیکن ان کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی ۔ دوسری شکایت مشرف کو اس وقت ہوئی جب میر ظفراللہ جمالی بطور وزیراعظم امریکہ کےدورے پر گئے اور واپسی پر انھوں نے صدر پرویز مشرف کو جو بریفنگ دی وہ اس بریفنگ سے مختلف تھی جو پرویز مشرف کو ذرائع سے ملی تھی۔چوہدری شجاعت مزید لکھتے ہیں کہ صدر پرویز مشرف نے انھیں اور پرویز الٰہی کو بتایا کہ وزیراعظم اٹھتے ہی بارہ بجے ہیں دوسرا ان کا دورہ امریکہ کے بارے میں طرح طرح کی باتیں ہو رہی ہیں بطور وزیراعظم وہ ان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں آپ ان سے کہیں کہ فوری مستعفی ہو جائیں۔صدر کا یہ پیغام لے کر جب وہ وزیراعظم ہاؤس پہنچے تو جمالی نے کہا کہ آپ صدر صاحب سے کہیں انھیں اس طرح بے توقیر کر کے نہ نکالیں وہ خود ہی مستعفی ہو جاتے ہیں۔صدر مشرف کی خواہش تھی کہ جمالی خود شوکت عزیز کا نام تجویز کریں جمالی نے کہا کہ میں آپ کا نام تجویز کر سکتا ہوں شوکت عزیز کا نہیں۔میر ظفر اللہ جمالی نے شان و شوکت کے بجائے سادہ زندگی گزاری اور کسی کو ذاتی اور سیاسی طور پر رنج نہیں پہنچایا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے سابق ایم ڈی اختر وقار عظیم اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ سادگی میں میر ظفراللہ جمالی اپنی مثال آپ تھے عام دنوں کی طرح وزارت عظمی کے زمانے میں بھی ان کے مزاج اور رہن سہن میں سادگی کا عنصر نمایاں رہا ۔ ‘وہ جتنے عرصے وزیراعظم رہے ان کے بیوی بچوں

نے وزیراعظم ہاؤس کا رخ نہیں کیا۔ جیسا کہ عام پر طور وزیراعظم بننے والے اہل وعیال حتٰی کہ رشتہ داروں کو بھی لے جاتے ہیں بدستور کراچی کے گلشن اقبال میں اپنے گھر میں مقیم رہے۔ ان کے گھر پر حفاظت یا پولیس کے پہرے کا کوئی بھرپور انتظام نہیں تھا۔’ ‘ایک بار وزیراعظم کراچی ہی میں تھے کہ کسی ہنگامی طور پر قوم سے خطاب کرنے کی ضرورت پڑ گئی وزیراعظم کے گھر پر ہی ریکارڈنگ کا وقت طے ہوگیا۔’ ‘میں نے سنا اور دیکھا ہے کہ عام طور پر سرکاری افسر اور سیاست دان اپنے ذاتی گھروں کی تزئین و آرائش بھی سرکاری خزانے سے کروا لیتے ہیں کیونکہ وقتاً فوقتاً انہیں وہاں رہنا ہوتا ہے۔ جمالی صاحب کے یہاں ایسا کچھ نہ تھا۔ہم ان کے گھر پہنچے تو وہاں کوئی ایسی چوڑی اور بڑی میز نہ مل سکی جس پر مناسب طریقے سے مائیکرو فون رکھ کر ریکارڈنگ کی جا سکتی۔”ایک چھوٹے سے سٹول پر بہت سی کتابیں رکھ کر اس حد تک اونچا کیا گیا کہ اس پر مائیکروں فون لایا جا سکے۔ کتابوں کے سائیز مختلف تھے اس لیے عارضی طور پر بنائی گئی میز کی شکل چوکور یا مستطیل ہونے کے بجائے مخروطی بن گئی۔”وزیراعظم نے خاموشی سے اس پر ریکارڈنگ کروائی اور ٹی وی عملے کا شکریہ ادا کیا۔ایک آدھے مرتبہ تو وہ کراچی میں گاڑی چلاتے ہوئے بھی دیکھے گئے۔ ایسے سادہ مزاج اور صاف گو آدمی کا زیادہ عرصہ تک حکمران رہنا ممکن نہ رہا اور یہی وجہ ہے کہ مقتدر حلقے جلد ان سے ناراض ہوگئے

Sharing is caring!

Comments are closed.