مینا کماری کو فلموں میں کام کرنے کی اجازت کن شرائط پر ملی تھی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور مضمون نگار ریحان فضل بی بی سی کے لیے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کمال امروہی نے مینا کماری کو فلموں میں کام کرنے کی اجازت دی لیکن ان پر تین شرائط عائد کر دیں۔ونود مہتا لکھتے ہیں ’پہلی شرط یہ تھی کہ مینا کماری شام ساڑھے 6 بجے تک گھر لوٹ آئیں۔

دوسری شرط یہ تھی کہ مینا کماری کے میک اپ روم میں ان کے میک اپ مین کے علاوہ کوئی اور شخص نہیں بیٹھے گا اور اس کی آخری شرط یہ تھی کہ مینا کماری ہمیشہ اپنی ہی گاڑی میں جائیں گی جو انھیں سٹوڈیو میں لے جاتی اور پھر گھر واپس لاتی۔لیکن جس دن مینا کماری نے ان شرائط پر دستخط کیے اسی دن سے ہی انھوں نے ان کو توڑنا بھی شروع کر دیا۔ پہلا واقعہ اس وقت ہوا جب راج کپور نے ’شاردہ‘ فلم کی عکسبندی کے دوران مینا کماری کو پارٹی میں مدعو کیا۔ونود مہتا لکھتے ہیں ’ہوا یوں کہ ایک روسی فلمی وفد ممبئی آیا تھا۔ راج کپور ان کے اعزاز میں استقبالیہ دے رہے تھے۔ مینا کماری نے ان کی دعوت قبول کی اور اپنے شوہر کو فون کیا اور کہا کہ وہ دیر سے گھر واپس آئیں گی۔ انھوں نے راج کپور کی پارٹی کا ذکر نہیں کیا یہ کہا کہ ان کا فلم کا کام دیر تک جاری چلے گا۔اگلے ہی دن کمال امروہی کی ملاقات اتفاق سے ان مہمانوں سے ہوئی جو راج کپور کی پارٹی میں موجود تھے۔ ان سے انھیں معلوم ہوا کہ ان کی بیگم فلم کی عکسبندی میں مصروف نہیں تھیں بلکہ پارٹی میں شامل ہوئی تھیں۔ جب وہ گھر واپس آئیں تو انھوں نے کمال کو اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ بعد میں جب کمال نے ان سے ’بے ضرر‘ دھوکہ دہی کا ذکر کیا تو مینا کماری نے کہا کہ وہ ان کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی تھیں۔

معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ ایک دن کمال امروہی کے سیکریٹری باقر نے مینا کماری کو اداکار پردیپ کمار کی گاڑی سے اترتے ہوئے دیکھ لیا۔ بعد میں کچھ دوسرے واقعات پیش آئے اور مینا کماری نے فیصلہ کر لیا کہ وہ کبھی کمال امروہی کے گھر واپس نہیں جائیں گی۔تاجدار امروہی کا کہنا ہے ’مینا کماری کمال کے گھر سے نکلنے کے لیے کسی بہانے کی تلاش میں تھیں تاکہ وہ آزاد پرندوں کی طرح زندگی بسر کر سکیں۔ جب چھوٹی امی گھر سے چلی گئیں، بابا نے بطور شوہر اپنا فرض نبھایا۔‘’وہ محمود صاحب کے یہاں چلی گئی تھیں۔ وہ وہاں گئے تو چھوٹی امی نے اپنے آپ کو ایک کمرے میں بند کر لیا۔ بابا دروازہ پیٹتے رہے اور کہا منجو باہر آؤ، مجھ سے بات کرو۔ آپ کو کیا شکایت ہے؟ مجھے بتاؤ۔ لیکن وہ باہر نہیں آئیں۔‘محمود نے کہا کہ ’وہ ابھی نہیں مانے گی تھوڑی دیر میں اس کا غصہ ٹھنڈا ہو جائِے گا آپ بعد میں آ جانا۔ بابا نے دروازے پر تین چار بار آواز لگائی اور پھر کہا منجو تم اندر ہو اور میری بات سن رہی ہو۔ اب میں جا رہا ہوں میں اب واپس نہیں آؤں گا۔ میں نے آپ کو سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن آپ نہیں سمجھیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کا مجھ پر کوئی حق نہیں ہے۔ ہمارے گھر کے دروازے ہمیشہ آپ کے لیے کھلے رہتے ہیں اور کھلے رہیں گے۔ جب چاہو آ جانا۔‘اس دوران کچھ اور ایسے واقعات ہوئے ہیں جنھوں نے کمال

امروہی اور مینا کماری کے درمیان فاصلے کم کرنے کے بجائے انھیں بڑھا دیا۔ ونود مہتا لکھتے ہیں ’سہراب مودی نے مینا کماری اور کمال امروہی دونوں کو ایروز سنیما میں فلمی پریمیئر کے لیے مدعو کیا۔‘سہراب نے مینا کماری کو مہاراشٹر کے گورنر سے متعارف کرایا اور کہا یہ مشہور اداکارہ مینا کماری ہیں۔۔۔ اور وہ ان کے شوہر کمال امروہی ہیں۔ اس سے پہلے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہیلو کہتے کمال امروہی نے کہا ’نہیں، میں کمال امروہی ہوں اور یہ میری اہلیہ ہیں۔۔۔ مشہور فلمی اداکارہ مینا کماری۔‘ یہ کہنے کے بعد وہ سنیما ہال سے باہر چلے گئے اور مینا کماری کو تنہا بیٹھ کر وہ فلم دیکھنا پڑی۔ذاتی زندگی کے اس خلل نے فلموں میں ان کی اداکاری کو بالکل بھی متاثر نہیں کیا۔ انھوں نے ایک سے بڑھ کر ایک فلموں میں اداکاری کی اور فلمی نقادوں کی ستائش حاصل کی۔ساون کمار جو مینا کماری کو قریب سے جانتے ہیں کہتے ہیں ’مینا کماری کی بہت سی فلمیں ہیں، ہر فلم کے مختلف رنگ ہیں۔ مثال کے طور پر ’دل ایک مندر‘ ان کی آخری فلم ’پاکیزہ‘ دیکھیں یا ’پرنیتا‘ انھوں نے ہر ایک کردار کو مختلف انداز میں بخوبی نبھایا ہے۔‘ان کا کہنا تھا اتنے دن لوگوں کے دلوں پر راج کرنا کوئی مذاق نہیں ہے۔ ’صاحب بی بی اورغلام‘ ان کی حیرت انگیز فلم تھی۔ مجھے فلم کا ایک منظر پسند ہے جہاں رحمان صاحب اپنی گرل فرینڈ کے پاس جا رہے ہیں اور مینا یہ گانا گا کر انھیں روکتی ہیں۔ ’نہ جاؤ سیاں چھڑا کے بئیاں‘ ایسی اداکاری اور کوئی اداکارہ یہ کام نہیں کر سکتی۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *