میڈم : آپ نے زندگی میں کل کتنے عشق کیے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ایاز امیر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ہمارا گھٹیا پن بھی ملاحظہ ہو ۔ جو بیچارے میزبان تماش بینی کا اہتمام کرتے ہیں اُن پر تو ہم تبرے کس رہے ہیں لیکن تمام تر نفاستِ مزاج کے مظاہرے کی کوشش کے باوجود اُن محفلو ں میں ہم پہنچ تو جاتے ہیں ۔

میزبانی کا لطف بھی اٹھاتے ہیں ، موسیقی گھٹیا بھی لگے تو اُس پر تھوڑا بہت جھومتے ہیں یعنی ہمارے دوہرے معیار کی بھی کوئی مثال نہیں ۔اِتنا نازک مزاج ہے تو وہاں جائیں نہیں لیکن جاتے ہیں اور نخرا بھی کرتے ہیں۔اوروں کو ہدایت اللہ سے کیا ملنی ہے کچھ ہمیں ہی مل جائے۔لیکن چھوڑیں اِن بیکار کی باتوں کو ۔ کل ملکہِ ترنم نورجہاں کا جنم دن تھا۔ ریڈیو سیلون کا پروگرام پرانی فلموں کا سنگیت میڈم کی نذرہوا۔ وہی گانے جن سے ہم مانوس ہیں سنائے گئے۔ لیکن کیا آواز تھی، خدا کی دین۔ ایسا پروگرام ہو تو فلم جگنو کا وہ دوگانہ ضرور سنایا جا تاہے ‘یہاں بدلہ وفا کا بیوفائی کے سوا کیا ہے‘جو میڈم نے محمد رفیع صاحب کے ساتھ گایا ہے۔اِس گانے کا اِس لئے ذکر ضروری سمجھا کہ محمد رفیع صاحب کی آواز کا جادو پہلی بار بھرپور انداز سے سامنے آیا۔ اُن جیسا بھی کوئی نہیں تھااور شاید کوئی نہیں آئے گا۔ اِتنی عظمت کو کوئی پہنچے وہ بھی خدا کی دین ہے۔ اُس زمانے میں نور جہاں اپنا مقام بنا چکی تھیں البتہ محمد رفیع صاحب کی شروعات تھی۔اِس ایک گانے کے ساتھ اُن کا ڈنکا بجنے لگا۔نورجہاں بے مثال گائیکہ تو تھیں ہی لیکن اپنے حسن اور ایکٹنگ کیلئے بھی مشہور تھیں۔ ہمارے مرحوم دوست خالد حسن نے انگریزی میں میڈم پر ایک بہت خوبصورت فیچر لکھا تھا ۔ اُس کے لیے انہوں نے میڈم کا انٹرویو کیا اور دوران انٹرویو انہوں نے میڈم سے اُن کے معاشقوں کے بارے میں پوچھا۔ جیسے اپنے سے باتیں کررہی ہوں میڈم آہستہ سے اپنی زندگی کے دلچسپ واقعات گننے لگ گئیں اور پھر بولیں ‘ ہائے وے ، ناں ناں کردے وی سولہ اٹھارہ ہو جاندے نیں‘ ۔

Comments are closed.