میڈیا نے اس واقعہ کو یکدم اتنا زیادہ ہائی لائٹ کیوں کیا تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اور پاک فوج کے سابق افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بعض چینلوں پر ایسے ڈرامے دکھائے جاتے ہیں جن میں دیور بھابھی، چچی بھتیجا اور خالو بھانجی کے رشتوں کی تقدیس کی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں۔ اگر میڈیا کا کام

عوام کو انفارم اور ایجوکیٹ کرنا ہے تو یہ کہاں کی انفارمیشن اور ایجوکیشن ہے؟ اور پھر ہم صبح شام چیخنے لگتے ہیں کہ لاہور۔ سیالکوٹ روڈ پر رات 2بجے ایک اکیلی دکیلی عورت کو اس کے بچوں کے سامنے ’بے توقیر‘ کیا گیا۔ آپ کو یاد ہوگا پورا مہینہ وہ کیس ہمارے تمام میڈیا چینلوں کی ’زینت‘ بنا رہا لیکن اس کا انجام کیا ہوا، سیاہ کار آج کس حال میں ہے، کیس کی سماعت کس مرحلے میں ہے، کون مجسٹریٹ یا جج اس کی سماعت کر رہا ہے، وکلاء کون ہیں اور ان کی آراء اور دلائل کا لب لباب کیا ہے، ان تمام باتوں سے وہ ناظرین و سامعین بے خبر ہیں جن کو صرف چند ماہ پہلے دن رات مبتلائے عذاب رکھا گیا تھا۔میڈیا پرنٹ ہو، سوشل ہو یا مین سٹریم اس کے آداب مقرر ہونے چاہیں لیکن ایسا نہیں ہو رہا۔ جن معاشروں نے ترقی کی ہے انہوں نے ان کے آداب اور ضابطے بھی بنائے ہیں۔ لیکن ہم جیسے ترقی پذیر معاشرے اس ضمن میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ہم یہ تسلیم تو کرتے ہیں کہ میڈیا حکومت کا چوتھا ستون ہے، اس کی تاثیر عالمگیر ہے اور وہ انسانی فکر و نظر کی گہرائیوں اور گیرائیوں کا عکاس ہے لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ اس کی اس ہر دلعزیزی، قوتِ جاذبہ اور عامتہ الناس میں اس کی مقبولیت کے ساتھ ساتھ اس کی چند ذمہ داریاں بھی ہیں۔ ان کا خیال رکھنا کس کی ذمہ داری ہے؟ کیا مالکان کی یا ان لوگوں کی جو اس کے آپریشن کے کلیدی کردار ہوتے ہیں۔3۔۔ذرا 50،60اور70کی دہائیوں میں پرانی فلموں کو یاد کیجئے…… ان کی سٹوریاں، مکالمے، اداکاری، گیت اور موسیقی کے علاوہ ان میں ایک سبق بھی ہوتا تھا۔جب سے وہ سبق ناپید ہوا ہے پرانی فیچر فلموں کا بھٹہ بیٹھ گیا ہے۔یہ بھٹہ مالکان یا سرمایہ داروں نے نہیں بٹھایا بلکہ ہدایت کاروں، موسیقاروں،مکالمہ نگاروں اور گیت اور سٹوری لکھنے والوں نے بٹھایا ہے……آج کے ٹی وی چینل کے مالکان اتنے قابلِ گرفت نہیں جتنے اس کے پروگرام پروڈیوسرز اور ہدایت کار ہیں۔ خبریں پڑھنے والوں کو جو لوگ سلیکٹ کرتے اور جو سکرپٹ تیار کرتے اور ناظرین و سامعین تک پہنچاتے ہیں ان حضرات سے گزارش ہے کہ پاکستان کی رائے عامہ کو تقسیم ہونے سے بچائیں۔ اس راہ کا انتخاب کریں جو پاکستان کو خوشحالی کی طرف لے جائے۔ سیاسی رسہ کشی سے جتنا پرہیز کیا جائے گا، اتنا ہی ملک اور قوم کے حق میں بہتر ہوگا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *