میگھن مارکل پر عائد سب سے بڑی پابندی کیا تھی ؟

لندن (ویب ڈیسک) برطانوی شاہی محل کے مدیر اومڈ اسکوبی نے انکشاف کیا ہے کہ میگھن کو اپنی ماں کے ساتھ کافی کے لیے بھی جانے کی اجازت نہیں تھی۔برطانوی شہزادہ ہیری اور اُن کی اہلیہ میگھن مارکل کے اوپرا ونفرے کو دیے گئے تہلکہ خیز انٹرویو کے دنیا بھر میں چرچے ہیں،

انٹرویو پر مسلسل دنیا بھر سے ملا جلا ردعمل سامنے آرہا ہے۔اب شاہی مدیر اومڈ سکوبی نے امریکی میگزین ہارپربازار کے لیے لکھی جانے والی اپنی تحریر میں انکشاف کیا ہے کہ میگھن مارکل کو محل میں بالکل تنہا کردیا گیا تھا انہیں اپنی ماں ڈوریا رگلینڈ کے ساتھ کافی کے لیے محل سے باہر جانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔اسکوبی نے لکھا کہ دوستوں کے ساتھ باہر کھانے کے لیے جانے سے میگھن کے حوصلے بلند ہوسکتے تھے لیکن شاہی محل کی جانب سے میگھن کے سماجی سفر پر پابندی عائد تھی کیونکہ شاہی خاندان اور ان کے معاونین کا کہنا تھا کہ اس سے ان کی شاہی حیثیت پر فرق پڑے گا۔اسکوبی نے اپنی تحریر میں مزید لکھا کہ میگھن کی تنہائی ان کی والدہ کے لیے پریشانی کا باعث تھی۔ میگھن کی والدہ ڈوریا رگلینڈ 2019 میں جب فروگمور کوٹیج میں میگھن سے ملنے گئیں تو یہ بات ان کے لیے بہت حیران کن تھی کہ وہ اور اُن کی بیٹی ایک ساتھ کافی کے لیے بھی باہر نہیں جاسکتے اور اس وقت ڈوریا نے میگھن سے کہا کہ آپ یہاں پھنس گئی ہیں۔واضح رہے کہ ونفرے کو دیے گئے انٹرویو میں میگھن نے کہا تھا کہ وہ شاہی خاندان کا حصہ بن کر تنہا ہوگئیں۔ ڈچزآف سسیکس نے یہ بھی بتایا تھا کہ انہیں دوستوں کے ساتھ باہر کھانے کے لیے جانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ انہوں نے شاہی خاندان پر نسی تعصب کے الزاما ت بھی عائد کیے تھے۔میگھن کا یہ بھی کہنا تھا کہ آزاد ماحول میں گفتگو کرتے ہوئے وہ اچھا محسوس کررہی ہیں کہ کوئی ان کی ٹوہ میں نہیں ہے۔

Comments are closed.