میں جمشید چیمہ کو 30 سال سے جانتا ہوں ، وہ میدان چھوڑنے والا شخص ہرگز نہیں ۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کے جمہوری نظام میں قومی الیکشن کو بالعموم اور بلدیاتی الیکشن کو بالخصوص عوام کی چاندی قرار دیا جاتا ہے اور اگر کسی قومی حلقے کا رکن ِ اسمبلی فوت ہو جائے اور وہاں ضمنی الیکشن کا اعلان ہو اس حلقے کے عوام اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتے ہیں،زیادہ دور کی بات نہیں،

نامور صحافی میاں اشفاق انجم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈسکہ الیکشن سیالکوٹ کا الیکشن ہمارے سامنے ہے۔ این اے133 کی تاریخ سب کے سامنے ہے۔پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے درمیان مقابلہ رہا ہے۔طاہر القادری اور علیم خان بھی اس حلقے سے مدمقابل رہے ہیں۔ 2018ء کے الیکشن میں پی ٹی آئی بھی تھوڑے ووٹوں سے پرویز ملک سے ہاری تھی،5دسمبر کے ضمنی الیکشن کے لئے ووٹ خریدنے اور فروخت کرنے کے چرچے ہیں۔یہ تو معمول کی باتیں ہیں۔ سوشل میڈیا نے ہمارا کچا چٹھا بے نقاب کرنا شروع کر دیا ہے۔ ورنہ من حیث القوم ہم ایک دوسرے کو بے وقوف بنانے،ذاتی مفاد کے حصول کے لئے سب کچھ کر گزرنے کی دوڑ میں برابر کے شریک ہیں مجھے بڑا افسوس ہوتا ہے کہ ہمارا میڈیا اور صحافی حضرات اور اینکر پارٹی بن جاتے ہیں،اور پھر ثابت کرتے ہیں۔مسلم لیگ(ن) کی وڈیو فیک ہے اور پیپلزپارٹی کی ووٹ خریدنے کی وڈیو اصلی ہے،حالانکہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی علیحدگی علیحدہ وڈیو منظر عام پر آنے سے دو دن پہلے ہمارا فوٹو گرافر جو بہار کالونی کا رہائشی ہے، زیادہ کرسچن کی آبادی پر مشتمل ہے۔ مجھے بتا رہا تھا ہم سے شناختی کارڈ مانگے جا رہے ہیں اوراس کے بدلے دو دو ہزار دیئے جا رہے ہیں۔میرا شناختی کارڈ تو اسی علاقے کا ہے، ووٹ اس علاقے میں نہیں ہے، میری رہنمائی کریں، میں اس کو خوش کرنے کے لئے کہہ رہا تھا آپ ووٹ تبدیل کرا لیں،حالانکہ مجھے پتہ ہے اب پولنگ ہونے جا رہی ہے۔

ووٹ تبدیل نہیں ہو گا،پھر اس نے ساری تفصیل مجھے بتائی جو ان کے گھروں کے قریب دفاتر میں گیم ہو رہی تھی، میں نے اس کو حوصلہ دینے کے لئے کہا آپ وڈیو بنا لیں تو وہ خوش ہو گیا،مجھے اس کی حالت ِ زار کا اندازہ ہے دفتر سے15ہزار ملتے ہیں اور چار بچے ہیں، کھانے پینے کے علاوہ ان کی تعلیم اور صحت کا علاج، وہ فوری دو ہزار سمجھ رہا تھا اس نے مجھے تفصیل بتائی کہ میرے فلاں عزیز نے دو شناختی کارڈ دے کر چار ہزار حاصل کر لئے ہیں اور فلاں دوست نے 5شناختی کارڈ دے کر10 ہزار حاصل کر لئے ہیں،اصل میں یہ ہمارے جمہوری نظام کے ثمرات ہیں کہ عوام اس طرح سوچنا شروع ہو گئی ہے،انہیں اندازہ ہے الیکشن جتنے کے بعد اسلم گل ہو یا میڈم شائستہ پرویز نے دوبارہ ہمارے حلقے میں آنا ہے یا نہیں،اب جو مل رہا ہے اس سے فوری استفادہ کیا جائے اس لئے میں اس بحث میں نہیں پڑھنا چاہتا۔پی ٹی آئی نے الیکشن میں حصہ اس لیے نہیں لیا اسے شکست کا خوف تھا وہ اپنی عزت بچا گئی۔میں اس لئے تجزیہ نگار،کالم نگار اور اینکر کے موقف کو نہیں مانتا،جس میں کہا جا رہا ہے۔جمشید چیمہ نے منصوبہ بندی کے ساتھ سارا منصوبہ بنایا تھا کہ وہ الیکشن کی دوڑ میں شامل ہی نہیں ہونا چاہتے تھے،کم لوگوں کو علم ہو گا۔جمشید اقبال چیمہ اسلامی جمعیت طلبہ کا سابق رکن ہے اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کا مقبول عام دبنگ لیڈر رہ چکا ہے میں اسے 1988ء سے جانتا ہوں، کم از کم دعوے سے کہہ سکتا ہوں۔جمشید اقبال چیمہ میدان چھوڑنے والا شخص نہیں ہے

،دوسرا اس حلقے سے85ہزار سے زائد ووٹ لینے والے پی ٹی آئی پنجاب کے صدر اعجاز احمد چودھری کے حوالے سے رائے بنائی جا رہی ہے،میں ان کو بھی31 سال سے جانتا ہوں، انسانوں سے غلطیاں ہو سکتی ہیں،مگر اعجاز چودھری نے جماعت اسلامی کی تربیت کو استعمال کر کے جو پی ٹی آئی کی تنظیم سازی کر دی ہے، بلدیاتی الیکشن میں ضرور نظر آ جائے گی،البتہ ایک موقف جو زیادہ پذیرائی حاصل نہیں کر سکا ہے وہ ہے۔پی ٹی آئی کے مخالفوں نے کام دکھایا ہے اور حکمت سے انہیں الیکشن سے باہر کر دیا ہے۔ایک لمحے کے لئے مان لیا جائے جمشید اقبال چیمہ یا ان کی پارٹی کی سادگی کی وجہ سے ان سے ہاتھ ہو گیا ہے تو میں کہوں گا ان کی پارٹی سے ہاتھ نہیں ہوا ہے۔ این اے133 کے دو لاکھ سے زائد ووٹرز سے ہاتھ ہو گیا ہے۔اگر حکومتی پارٹی میدان میں ہوتی تو کم از کم این اے133کے سینکڑوں نوجوانوں کو نوکریاں مل جانی تھیں،اربوں روپے کے منصوبوں کا اعلان ہو جانا تھا،کروڑوں روپے کے ترقیاتی کام ہو جانے تھے،اب جو دو ہزار میں ووٹ بک رہا ہے اس کی قیمت بھی شاید 10ہزار سے اوپر ہو جاتی اور پورے حلقے این اے 133 میں بہاریں ہی بہاریں ہوتیں۔ مسلم لیگ (ن) کا ووٹ کا عزت دینے کا نعرہ پیپلز پارٹی کا ووٹرز کو عزت دینے کا دعویٰ سب موج مستیاں اور عوام کو رام کر کے ووٹ حاصل کرنے کے حربے ہیں۔جب سے ہوش سنبھالہ ہے ایک بات صحافیوں اور اینکرز کے ساتھ ساتھ سیاست دانوں سے سنتے آ رہے ہیں

کہ کوئی الیکشن شفاف نہیں ہوا ہے، دھاندلی کا الزام اب الزام نہیں، بلکہ عملاً ڈسکہ الیکشن کی رپورٹ نے تہلکہ مچا دیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے ان حالات میں بھی انتخابی اصلاحات کے لئے کوئی جماعت تیار نہیں ہے،حتیٰ کہ اصلاحات کے لئے تجاویز دینا تو دور کی بات اصلاحات کے لئے قائم کمیٹی میں بیٹھنے کے لئے بھی تیار نہیں ہے۔ ای وی ایم کا خوف کیوں ہے؟ کیا ہم نہیں جانتے۔ایک ایک حلقے میں کتنے کتنے جعلی یا اصلی ووٹ سیاست دانوں نے بنا رکھے ہیں۔دوسروں کی بات یا مثال کیا دینا آج کل ووٹرز کی تصدیق کے لئے اساتذہ حضرات گھر گھر جا رہے ہیں، ووٹوں کی تصدیق کر رہے ہیں۔ایک ماسٹر صاحب ہمارے گھر آئے، میں نے اپنا ووٹ دیکھنے کے لئے فہرست لی اور کئی منٹ تک دیکھتا رہا، مجھے اپنا ووٹ نہیں ملا، مگر ایک بات کا انکشاف ہوا کہ50نمبر میں میرا ووٹ نہیں ہے، 604نمبر جس میں کرائے دار ہیں چند ماہ ہوئے آئے ہیں اس کا سیریل نمبر7 ہے، سات دفعہ604 لکھا ہے اور 10سے زائد ووٹ ہیں،اب کیا کہیں گورکھ دھندے کو اسی لئے کہا جاتا ہے نعرے لگانا آسان ہے۔عمل کرنا مشکل ہے۔ قرآن عظیم الشان میں بھی اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ تم وہ بات کیوں کہتے ہو، جو کرتے نہیں ہو، جہاں مجھے سید مودودیؒ کا قول یاد آ گیا۔پاکستان اور اس کی قوم کا المبہ یہ ہے جہاں ہر بندہ کہتا ہے انقلاب آ جائے، اسلام آ جائے،اصلاح ہو جائے،کرپشن ختم ہو جائے، تبدیلی آ جائے،مگر دوسرے میں،یہی حال ہماری انتخابی اصلاحات کا ہے،انتخاب شفاف ہونا چاہئے، کیسے ہونا چاہئے اس کے لئے ہم کیوں بیٹھیں جو مزا الزامات میں ہیں، کام کرنے یا اصلاح میں کہاں۔ میں این اے 133 کے عوام کے دُکھ میں برابر کا شریک ہوں جو موجیں حکومتی امیدوار کے میدان میں ہونے سے ہوئی تھیں اس سے محروم رہے ہیں۔اب دو دو ہزار کو ہی کافی سمجھیں۔ اگلے کسی ضمنی الیکشن کا انتظار کریں۔

Comments are closed.