“میں عمران خان کے ساتھ ہوں ” بمقابلہ “عمران خان سیلیکٹڈ”۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) آئی سٹینڈ ود‘: پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان کے حق میں ٹوئٹر ٹرینڈ کے بعد سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے دیکھے گئے۔ یہ بحث دوسرے دن بھی جاری رہی جب ایک اور ٹرینڈ ’ریجیکٹڈ سلیکٹڈ‘ سامنے آیا۔جہاں بدھ کے روز پی ٹی آئی کے وزراء اور رہنماؤں کی طرف سے

عمران خان کی حمایت میں سارا دن ٹویٹ ہوتے رہے وہیں جمعرات کا دن پی پی پی کے نام رہا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے جمعرات کو ٹویٹ کیا کہ ’میرا نام بلاول بھٹو زرداری ہے اور میں پاکستان کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوں جنھوں نے سلیکٹڈ کو ریجیکٹ(ریجیکٹڈسیلیکٹڈ) کیا ہے۔‘بلاول کی ٹویٹ کے بعد پی پی پی کے دوسرے رہنماؤں پر بھی لازم ہو گیا کہ وہ بھی حصہ ڈالیں۔ قمر زمان کائرہ نے بھی اپنے نام کے ساتھ وہیں بات کہی جو بلاول نے اپنی ٹویٹ میں کہی تھی۔ ایک وقت پر ٹویئٹر پر ’ریجیکٹڈ سیلیکٹڈ‘ پاکستان میں پہلے نمبر پر ٹرینڈ کر رہا تھا۔’کیا میں وہ واحد شخص ہوں جسے یہ معلوم ہی نہیں کہ سب عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونے کا دعویٰ کیوں کر رہے ہیں؟‘ٹوئٹر پر اس معصوم صارف کی ٹویٹ پاکستان کے سیاسی منظر نامے کا خلاصہ کرتی دکھائی دے رہی ہے جہاں قریب ہر کوئی ’آئی سٹینڈ ود‘ (میں کھڑا/کھڑی ہوں) کے انگریزی الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے کسی نظریے پر اپنے ایمان کی یقین دہانی کراتا دکھائی دے رہا تھا۔اس کے بیج حکمراں جماعت تحریک انصاف کے وزرا اور کارکنان نے بوئے تھے۔گذشتہ روز پاکستان کی حکمران جماعت تحریک انصاف کی جانب سے چند صوبائی اور قومی اسمبلی کے اراکین پر مشتمل ایک ہم خیال گروپ بنانے کی پیشرفت سامنے آئی جسے بدعنوانی کی تحقیقات کا سامنا کرنے والے پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین کی حمایت حاصل ہے۔تحریک انصاف کے اس ہم خیال گروہ کے اراکین ٹی وی پر لگاتار وزیر اعظم عمران خان سے انصاف مانگتے دکھائی دے رہے ہیں۔

جب یہ خبر سامنے آئی کہ تحریک انصاف کے ترین گروپ میں کئی ممبران قومی و صوبائی اسمبلی شامل ہیں تو حکمراں جماعت کی موجودہ قیادت میں بظاہر ایک ہلچل محسوس کی گئی جسے سوشل میڈیا پر بھی بھانپا جاسکتا ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ کئی وفاقی وزرا اور تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں نے ’آئی سٹینڈ وِد عمران خان‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ اپنی وفاداری کا اظہار کیا۔اس کے بعد ٹوئٹر پر کچھ دلچسپ تبصرے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ نوشین شمس لکھتی ہیں کہ ’کھڑے ہونے والے تمام لوگوں کے لیے کھڑے ہو کر تالیاں۔۔۔ اب سب مہربانی فرما کر بیٹھ جائیں۔‘علی مرتضیٰ کا ردعمل کچھ ایسا تھا جیسے کسی مہمان کو گھر میں خوش آمدید کیا جاتا ہے۔ ’ارے آپ کھڑی کیوں ہیں۔ آپ تو بیٹھ جائیں پلیز۔‘مگر کچھ صارفین نے سیاسی وفاداریوں کے اظہار کے بجائے دوسرے چیزوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے۔ جیسے سعدیہ احمد ’آلو گوشت کے ساتھ کھڑی ہیں‘، ثنا آفریدی ’(تصویر میں) اپنے شوہر کے ساتھ کھڑی ہیں‘ اور جاوید ’پی ایس ایل کے چھٹے سیزن کے بقیہ میچز کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘مگر بعض افراد نے ’آئی سٹینڈ وِدعمران خان‘ کے ہیش ٹیگ کو کافی سنجیدگی سے استعمال کیا ہے۔جب وفاقی وزیر شفقت محمود نے ’عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونے‘ کا اعلان کیا تو نمرہ نے بڑے انگریزی حروف میں جارحانہ انداز میں پوچھا کہ ’کیا آپ لوگ پلیز طلبہ کے ساتھ کھڑے ہوسکتے ہیں، ان کے مستقبل کے لیے، اور ہمارے امتحانات موخر کرسکتے ہیں تاکہ ہم بہتر کارکردگی دکھا سکیں؟‘اسی طرح علشبہ نے گزارش کی کہ ’ویسے تو میں عمران خان کے ساتھ ہی کھڑی ہوں لیکن کیا آپ امتحانات منسوخ کر سکتے ہیں؟‘عدنان نظیر نے سیاسی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ سب لوگ بجٹ تک ہی کھڑے ہوں گے، اس کے بعد بیٹھ جائیں گے۔‘جبکہ سیٹھ احسن نامی صارف کی نصیحت یہ ہے کہ ’تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز، دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا۔’سامنے کھڑے مخالف سے زیادہ خطرناک آپ کی صفوں میں کھڑے منافق ہوتے ہیں۔‘

Comments are closed.