میں کیوں واپس آؤں ؟؟

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان ہاکی ٹیم کے سابق گول کیپر سلمان اکبر نے کہا ہے کہ پاکستان ہاکی میں پروفیشنل ازم کی کمی ہے۔نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں سلمان اکبر نے کہا کہ میرا ہالینڈ میں اکیڈمی کا سیٹ اپ ہے، جس سے میرا روزگا روابستہ ہے۔انہوں نے تجویز دی کہ

میں پاکستانی گول کیپرز کی مدد کو تیار ہوں، لیکن کچھ چھوڑ کر تو نہیں آسکتا۔سابق گول کیپر نے مزید کہا کہ پاکستان میں لوگ سمجھتے ہیں ملک کی محبت میں رضا کارانہ کام کیے جائیں۔اُن کا کہنا تھا کہ ایک دو مہینے کے کیمپ سے گول کیپر نہیں بن سکتے، پاکستان ہاکی میں آپ کھلاڑی چھوڑیں، آپ ٹرینر نہیں بناسکے۔سلمان اکبر نے یہ بھی کہا کہ اولمپک کوالیفائرز سے ڈیڑھ ماہ قبل آصف باجوہ نے فون کرکے کہا آجاؤ جو میرے لیے ممکن نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہاکی میں پروفیشنل ازم کی کمی ہے، سمجھتے ہیں ایک کال پر سب آجائیں گے، میں کہتا ہوں پلان ڈسکس کریں پھر کام شروع کرتے ہیں۔سابق پاکستانی گول کیپر نے کہا کہ اپنا اچھا سیٹ اپ چھوڑکر، نان پروفیشنل سیٹ اپ میں کام کیسے کرلوں؟ یہ کہہ دینا تو آسان ہے کہ سلمان اکبر باہر کام کر رہا ہے ملک میں نہیں آرہا۔انہوں نے کہا کہ پلیئر تیار کرنے کے لیے پہلے ایج گروپ پر کام ہوتا ہے۔

Comments are closed.