نئی تحقیق میں اہم بات کا پتہ چل گیا

لندن (ویب ڈیسک) ایک تازہ ترین تحقیق کے مطابق اس خدشے کا قوی امکان ہے کہ پوری دنیا میں جاری حالیہ لاک ڈاؤن کے باوجود کورونا وائرس کے پھیلنے کے پیش نظر 2022ء تک سوشل ڈسٹینسنگ کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔امریکی ہارورڈ یونیورسٹی کے محققین کے مطابق ٹھنڈے موسم میں ایک عام نزلہ،

زکام کی صورت میں لگنے والا نیا نول ’کووڈ 19‘ ایک سیزنل وبا کی صورت اختیار کر سکتا ہے، بدلتے اور ہر سال آنے والے ٹھنڈے موسم میں جیسے دوسرے عام فلو، وائرل کی شکایت ہو جاتی ہے اسی طرح کورونا وائرس بھی ہر سال ٹھنڈے مہینوں میں پلٹ کر واپس آ سکتا ہے ۔محقیقین کے مطابق تا حال اس بات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والے اس وائرس کی یہ حالیہ لہر پوری دنیا سے ختم کب ہوگی، مگر تحقیق کے نتیجے کے بعد یہ با وثوق طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ وائرس ایک بار کے لاک ڈاؤن یا سوشل ڈسٹنسنگ سے ختم نہیں ہوگا۔امریکی یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک انسان سے دوسرے انسان میں پھیلتا جائے جب تک کہ اس کی ویکسین تیار نہیں ہو جاتی، اسی لیے سوشل ڈسٹینسنگ اور لاک ڈاؤن کو ہی علاج کے طور پر استعمال کرتے ہوئے زیادہ وقت دینا ہوگا۔تحقیق میں کہا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن اور سوشل ڈسٹینسنگ بڑھانے سے ہی اسپتالوں میں طبی عملے اور ویکسین تیار کرنے والے سائنسدانوں اور ماہرین کو مدد مل سکتی ہے کہ وہ اپنا کام اس دورن سہی سے کریں، لاک ڈاؤن ختم کرنے یا سوشل ڈسٹینسنگ کا فارمولا نہ اپنانے سے یہ وابائی امراض پھیلتا چلا جائے گا اور حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.