نائی نائی ہوتا ہے ، اور وزیر وزیر ہوتا ہے

کبیر بادشاہ کا عزیز ترین حجام تھا, یہ روزانہ بادشاہ کے پاس حاضر ہوتاتھا اور دو تین گھنٹے اس کے ساتھ رہتاتھا‘ اس دوران بادشاہ سلطنت کے امور بھی سرانجام دیتا رہتا اور حجامت اور شیو بھی کرواتا رہتا تھا۔ ایک دن کبیر نائی نے بادشاہ سے عرض کیا ”حضور میں وزیر کے

مقابلے میں آپ کے زیادہ قریب ہوں, میں آپ کا وفادار بھی ہوں, آپ اس کی جگہ مجھے وزیر کیوں نہیں بنا دیتے. بادشاہ مسکرایا اور اس سے کہا, میں تمہیں وزیر بنانے کیلئے تیار ہوں لیکن تمہیں اس سے پہلے امتحان دینا ہوگا, پہلےامتحان دینا ہوگا, پہلے امتحان دینا ہوگا, پہلے امتحان دینا ہوگا, کبیرنائی نے سینے پر ہاتھ باندھ کر کہا, بادشاہ سلامت آپ حکم کیجئے, بادشاہ بولابندرگاہ پر ایک بحری جہاز آیا ہے مجھے اس کے بارے میں معلومات لا کر دو نائی بھاگ کر بندرگاہ پر گیا اور واپس آ کر بولا جی جہاز وہاں کھڑا ہے بادشاہ نے پوچھا یہ جہاز کب آیا, نائی دوبارہ سمندر کی طرف بھاگا, واپس آیا اور بتایا, دو دن پہلے آیا, بادشاہ نے کہا, یہ بتاؤ یہ جہاز کہاں سے آیا, نائی تیسری بار سمندر کی طرف بھاگا, واپس آیا تو بادشاہ نے پوچھا, جہاز پر کیا لدا ہے, نائی چوتھی بار سمندر کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔ قصہ مختصر نائی شام تک سمندر اور محل کے چکر لگا لگا کر تھک گیا, اس کے بعد بادشاہ نے وزیر کو بلوایا اور اس سے پوچھا, کیا سمندر پر کوئی جہاز کھڑا ہےوزیر نے ہاتھ باندھ کر عرض کیا بادشاہ سلامت دو دن پہلے ایک تجارتی جہاز مصر سے ہماری بندرگارہ پر آیاتھا اس میں جانور خوراک اور کپڑا لدا ہے اس کے کپتان کا نام شہرام ہے‘ یہ چھ ماہ میں یہاں پہنچا ہے یہ چار دن مزید یہاں ٹھہرے گا, یہاں سے ایران جائے گا اور وہاں ایک ماہ رکے گااور اس میں دو سو نو لوگ سوار ہیں اور میرا مشورہ ہے ہمیں بحری جہازوں پر ٹیکس بڑھا دینا چاہئےبادشاہ نے یہ سن کر کبیر حجام کی طرف دیکھا اور اس سے پوچھاکیا تمہیں حجام اور وزیر کا فرق معلوم ہوا, حجام نے چپ چاپ استرااٹھایا اور عرض کیا, جناب نائی نائی ہوتا ہے اور وزیر وزیر ہوتا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.