ناراضگی کی وجہ کیا تھی اور میں زیر عتاب آنے سے کیسے بچا رہا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے یقین ہے آئندہ الیکشن میں پی ٹی آئی کے پی کے میں وہ نتائج حاصل نہیں کرسکے گی جو 2018ءکے الیکشن میں کئے تھے۔ ناصر درانی کی ایک خصوصیت ، ایک خوبی جناب شہباز شریف نے

خود مجھے بتائی کہ کچھ بھی ہو جائے وہ جھوٹ نہیں بولتے، نہ سچ چھپاتے ہیں، بطور ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ اُنہوں نے سرکار کو کبھی کوئی غلط رپورٹ نہیں دی تھی، وہ کسی بھی معاملے کی تہہ تک جاتے، مکمل چھان بین کرتے، جب تک اپنی پوری تسلی نہ کرلیتے اپنی رپورٹ آگے نہیں بھجواتے تھے۔ ہماری خفیہ ایجنسیوں سے وابستہ کچھ افسران مختلف معاملات کی حکمرانوں کو رپورٹ دیتے ہوئے حقائق کے بجائے حکمرانوں کے مزاج اور موڈ کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ ناصر درانی جب ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ تھے وہ اس بات سے بے نیازہوکر کہ ان کی بھجوائی ہوئی کسی رپورٹ سے حکمران راضی ہوں گے یا ناراض ہوں گے، جو حقیقت ہوتی تھی اس پر مبنی رپورٹ حکمرانوں کو بھجوادیتے تھے شہباز شریف نے مجھے خود بتایا تھا وہ اُن کی اِسی خوبی کی بنیاد پر اُنہیں بہت پسند کرتے ہیں۔ ….دوسری طرف میں یہ سمجھتا ہوں اُن کی شاید اِسی خوبی کی بنیاد پر شہباز شریف نے اُنہیں آئی جی پنجاب بنانے سے گریز کیا تھا، یا شاید اِس ضمن میں چودھری نثارعلی خان کی دوستی آڑے آگئی ہو۔ ناصردرانی جب ڈی آئی جی راولپنڈی تھے چودھری نثار علی خان اپنے کچھ جائز ناجائز کام نہ ہونے کی وجہ سے اُن سے ناراض تھے۔ شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ میں چودھری نثار علی خان کو پنڈی ڈویژن کا وزیراعلیٰ شاید اِس لیے سمجھا جاتا تھا کہ ”پنڈی“ والوں سے اُس وقت اُن کا تعلق بہت اچھا تھا، شاید اِسی بنیاد پر شہباز شریف نے بھی اُنہیں پنڈی ڈویژن کا وزیراعلیٰ کہلوانے کی مکمل آزادی دے رکھی تھی،

اب شیخ رشید احمد خود کوپنڈی ڈویژن کا وزیراعلیٰ سمجھنے کی جتنی مرضی کوشش کرلیں، کردارکے اعتبار سے چودھری نثار علی خان اُن سے ہزاردرجے بہتر ہیں، …. میں جناب ناصردرانی کے بطور ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ کردار کی تعریف کررہا تھا، میں اِس حوالے سے اپنے ساتھ پیش آنے والا ایک واقعہ آپ کو سناتا ہوں۔ ایک بار جب شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے، میری کچھ تحریروں پر وہ مجھ سے ناراض ہوگئے۔ اب پتہ نہیں وہ ناراض ہوئے تھے یا اُن کے چہیتے چیف سیکرٹری جاوید محمود ناراض ہوئے تھے کہ اُن دنوں اُن کی کچھ پالیسیوں پر کھل کر میں تنقید کررہا تھا، ایک روز سپیشل برانچ میں تعینات میرے ایک دوست افسر (ڈی ایس پی) جو بعد میں بطور ایس پی ریٹائرڈ ہوئے (اُن کا نام بوجوہ میں نہیں لکھ رہا) اُنہوں نے ایک مشترکہ دوست سے مجھے فون کروایا اور یہ پیغام دیا وہ آج ہی مجھ سے ملنا چاہتے ہیں، رات کو میں اپرمال پر واقع اُس مشترکہ دوست کے گھر اُن سے ملا، وہ بڑے گھبرائے ہوئے تھے، کہنے لگے ”آپ کے خلاف سپیشل برانچ پنجاب کو ایک رپورٹ تیارکرکے بھجوانے کے لیے کہا گیا ہے“ …. تب میری ناصردرانی صاحب سے کوئی ملاقات نہیں تھی البتہ اُن کی اچھی شہرت کا اچھی طرح مجھے اندازہ تھا، مجھے نہیں پتہ تھا وہ اُن دنوں ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ ہیں، …. میں نے ڈی ایس پی سے پوچھا ”آپ کا ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ کون ہے؟، اُنہوں نے ناصر درانی کا نام لیا، میںنے فوراً عرض کیا ”اگر وہ ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ ہیں پھر آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت ہے نہ مجھے ہے، میں نے یہ بھی اُن کی خدمت میں عرض کیا اللہ نے مجھ پر اپنا خاص فضل ترس اورکرم فرماتے ہوئے کچھ ایسی بشری خامیوں و کمزوریوں سے مجھے بچاکررکھا ہوا ہے جن کی بنیاد پر حکمران میرے خلاف اخلاقی یا قانونی طورپر کوئی کارروائی کرہی نہیں سکتے، نہ وہ سپیشل برانچ میرے خلاف کوئی جھوٹی رپورٹ دے سکتی ہے جس کے سربراہ ناصردرانی ہیں،…. میرا وہ ڈی ایس پی دوست اِ س کے باوجود اصرار کرتا رہا ” میں حکمرانوں کے ساتھ اپنا تعلق ٹھیک کرلوں ورنہ وہ مجھے کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں“۔ میں مسکرایا، میں نے اُن سے ازرہ مذاق پوچھا ”آپ میرے دوست بن کر مجھے اطلاع کرنے آئے ہیں یا حکمرانوں کے پیامبربن کرمجھے وارننگ دینے آئے ہیں؟“….میں نے اُن کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اُن سے مزید کہا ”اے میرے پیارے دوست فائدے، نقصان، عزت، ذلت، زندگی موت، ہارجیت اگر انسانوں کے ہاتھ میں ہوتی اب تک دنیا ختم ہوچکی ہوتی، شکر ہے یہ سب معاملات اللہ نے اپنے اختیار میں رکھے، دنیا کی رونقیں اور خوشیاں اِسی وجہ سے اب تک قائم ودائم ہیں ۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *