ناصر درانی جیسا شخص ناقابل برداشت اور عثمان بزدار جیسا شخص کپتان کا محبوب ، آخر ماجرا کیا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ریاست نہیں، پاکستان ایک نیم ریاست ہے، مسخ شدہ سول اداروں کے رحم و کرم پر۔ وائٹ کالر کرائم کے ممتاز ترین ماہر سے پوچھا! سمندر پار سرمایہ کار کمپنیاں کس لیے بنتی ہیں؟ وہ ہنسے اور کہا:ظاہر ہے کہ

ناجائز آمدن چھپانے اور ٹیکس ادا نہ کرنے والے ہی یہ کارِ خیر انجام دیتے ہیں۔ دوسرا سوال یہ تھا: حکومت کیا اس صورت حال سے نمٹ سکے گی؟ جواب ملا:تقریباً ناممکن۔ کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں، جو یہ کارنامہ انجام دے سکے۔ نیب، ایف آئی اے، عدلیہ اور نہ پولیس۔ جرائم کی بیخ کنی کے لیے سول اداروں کی استعداد بڑھانا ہوتی ہے۔ آغاز تین برس پہلے ہونا چاہیے تھا۔ ٹھیک کہا: معاملات جب شہزاد اکبر وںکو سونپ دیئے جائیں تو نتیجہ معلوم۔ ایک ذمہ دار افسر نے گورنر ہائوس کے دمکتے ہوئے رہائشی بلاک کی طرف اشارہ کیا اور کہا: ان میں سے ایک کمرہ شہزاد اکبر کے استعمال میں رہتا ہے، جب وہ لاہور تشریف لائیں۔ گورنر کو مطلع کرنے کی وہ ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ درّاتے ہوئے آتے اور خدا حافظ کہے بغیر رخصت ہو جاتے ہیں۔ دو برس پہلے کا ایک واقعہ یاد آیا۔ شہباز گل کو عارضی رہائش کی ضرورت تھی۔ ایک سرکاری عمارت کا انہوں نے قصد کیا۔ زیادہ حصہ خستہ و خراب ’’دو تین اچھے کمرے بھی ہیں‘‘کمپٹرولر نے کہا: آصف علی زرداری اور نواز شریف کے دور میں، مولانا فضل الرحمن کے لیے مختص رہے۔ عالی جناب کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تھے۔ ملک پر جان قربان کرنے والوں کی زمینیں الاٹ کرانے والے، چند ماہ قبل، انہوں نے کہا تھا:کشمیر کی جدوجہد آزادی کو جہاد نہیں مانتا۔ لڑائی افغانستان میں برپا ہے۔ وہی لڑائی ، جس کے فاتحین نے 2015ء سے اب تک 70ہزار بے گناہ شہریوں کے مجرموں ، تحریک تالبان پاکستان کے پانچ ہزار شرپسندوں کو پناہ دیئے رکھی۔

ان میں سے کچھ گرفتار تھے کہ افغان تالبان کے پہلو بہ پہلو شریکِ لڑائی رہے۔ امریکی انخلا کے بعد، قید خانوں کے دروازے ان کے لیے کھول دیئے گئے ۔ افغان تالبان کی تجویز ہے کہ حکومت پاکستان ان لوگوں سے بات کرے، 150کمسن بچوں پر ظلم ڈھانے والوں سے۔ پٹرول پمپ پہ جانا ہوا۔ لکھا تھا:31اگست کے بعد کسی ایسے خریدار کو پٹرول نہ ملے گا، خاص انجکشن کی سند جس کے پاس موجود نہ ہو۔ کسی ایک نے بھی ماسک نہ پہن رکھا تھا۔ قریب ہی اس حجام کی دکان ہے، ہر ہفتے، جس کی زیارت کے ہنگام، ایک عدد ماسک میں اپنے ساتھ لے جاتا ہوں۔ سب جانتے ہیں کہ عمران خان کے سمارٹ لاک ڈائون میں، دکانداروں نے عقبی دروازے کھلے رکھے، تھانوں کی آمدن میں اضافہ ہو گیا۔ کم از کم رائے ونڈ روڈ پر، کوئی ریستوران پچھلے ڈیڑھ برس میں کبھی بند نہ پایا گیا۔ دکاندار، منیجر، ویٹر اور گاہک، سب کے سب ماسک کے بغیر! لاہور میں صرف ایک دفتر ایسا ہے، جس کے سب کارکن ماسک پہنے دکھائی دیتے ہیں، چغتائی لیبارٹریز، ممکن ہے کہ شوکت خانم اور آغا ہسپتال میں بھی اہتمام یہی ہو۔ شاید فوجی اداروں میں بھی۔ ریاست نہیں، پاکستان ایک نیم ریاست ہے۔ پولیس افسر جرائم میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ عدالتی اہلکار کس درجہ بدعنوان ہیں۔ چند ہزار روپے کے عوض سنگین ترین مقدمات کا التوا ممکن۔ کل ایک نہایت ہی معروف اور معزز خاتون نے بتایا کہ سرگودھا کے لیے وہ عازم سفر ہیں۔ سرگودھا؟ جی ہاں، میری زرعی زمین پر میرے سگے بھائی نے قبضہ کر رکھا ہے۔

اگلی پیشی کی نوید ہر بار ملتی ہے۔ دوسروں کے علاوہ قابض کے سرپرست، پنجاب کے ایک سابق چیف سیکرٹری ہیں، جو آج بھی ایک اہم منصب پر براجمان ہیں۔ پچھلے دنوں خاکسار سے رابطے کی زحمت انہوں نے گوارا کی ’’جناب افسر شاہی کی گروہ بندی میں خواہ مخواہ، میرا ذکر آپ نے کر دیا‘‘۔ وہ ہنس رہے تھے۔ وہ آسودہ تھے۔ لطف یہ ہے کہ اس ناچیز نے ہرگز کوئی الزام ان پر عائد نہ کیا تھا۔ پنڈورا لیکس کے ہنگام، ہمارے قابل صد احترام وزیر اطلاعات فواد چودھری نے ٹویٹ کیا۔ ’’پانچ کمپنیاں مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کے نام ہیں‘‘۔ فوراً ہی تردید ہو گئی۔ مگر معذرت کی ضرورت انہوں نے محسوس نہ کی۔ بدعنوانی کے مرتکب لڑکے کے بزرگوار ہیں۔ والدین، نانا اور ان کے بھائی شہباز شریف۔ دھڑلے سے جو اعلان کرتے ہیں کہ ایک دھیلے کی گڑ بڑ انہوں نے کبھی نہیں کی۔ 25ارب روپے کا کالا دھن سفید کرنے کے باب میں البتہ کبھی کوئی معقول جواب وہ نہ دے سکے۔ ان کی شوگر مل میں کام کرنے والے ڈرائیوروں، کلرکوں اور چوکیداروں کے پاس اربوں روپے کہاں سے آئے؟ آنجناب کے خلاف مقدمات کی سماعت کرنے والے ہائی کورٹ کے بنچ چند ماہ قبل توڑ دیئے گئے اور ججوں کے تبادلے کر دیئے گئے۔ ضمانت کی درخواست انہوں نے خود واپس لے لی تھی۔ کچھ عرصہ بعد ضمانت کرانے پر آمادہ ہوئے تو شرط عائد کی کہ پہلے ان کے صاحبزادے کو رہا کیا جائے۔ جنوبی پنجاب میں گزشتہ ہفتے جو پیپلزپارٹی کے کئی لیڈروں کو لے اڑے۔ چند دن قبل شیخ رشید نے کہا تھا:پیپلزپارٹی سمجھوتہ ایکسپریس پہ سوار ہو چکی۔ نون لیگ بھی ہوش کے ناخن لے۔

کیا اب انہوں نے ہوش کا راستہ اختیار کرلیا؟ خسرو بختیار وفاقی وزیر ہیں اور ان کے بھائی تاریخ انسانی کے عظیم ترین منتظمین میں سے ایک عثمان بزدار کی کابینہ میں شامل۔ بتایا جاتا ہے کہ نیب ان کے خلاف تحقیقات کر رہی ہے۔ ان کے ایک بھائی تین شوگر ملوں کے کرتا دھرتا ہیں۔ زرعی زمین ایک ڈیڑھ سو ایکڑ سے زیادہ نہیں۔ قاف لیگ کے اقتدار میں، ہر ماہ تین بار بیرون ملک وہ سفر کرتے رہے۔ خان صاحب کا کہنا یہ ہے کہ شوگر ملیں، ان کی نہیں، ان کے بھائی کی ہیں۔ ہر تین چار ماہ بعد نیب کے افسروں سے رابطہ کرتا ہوں کہ تحقیقات کس مرحلے میں ہے؟ ہر بار جواب ملتا ہے:ملتان والے دفتر سے پوچھئے، ہمیں کیا خبر۔ خسروبختیار کا مخالف وکیل آئے دن مجھے پیغام بھیجتا ہے: توہین عدالت کا حکم ان کے خلاف صادر ہو چکا۔ کبھی وہ کچھ دستاویزات بھی بھیجتا ہے۔ خسرو بختیار کا کہنا ہے کہ وہ انہیں پریشرایزکرنے کی کوشش کر رہا ہے۔لاہور کے ایک ’’نیک نام‘‘ ایڈیٹر کی کار چوری ہو گئی۔ شعیب بن عزیز کا تبصرہ یہ تھا: ’’اس کی گاڑی مور لے گئے‘‘ پنجابی کا محاورہ یہ ہے ’’چوروں کا مال مور لے گئے‘‘۔ کیا دراصل یہ “More”ہے۔ ظاہر ہے کہ پرندہ تو نہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی خان صاحب نے قائم کر دی ہے۔ سربراہ وہ خود ہیں۔ خود کیوں ہیں؟ یہ کام ان کا ہے یا اداروں کا؟ اس سوال کا جواب وہ کبھی نہ دے سکے۔ ایک بار ان سے پوچھا گیا کہ آئے دن کابینہ کے طویل اجلاس وہ کیوں برپا کرتے ہیں۔ جواب تھا: وزراء نکمے اور نا اہل ہیں۔ تقاریر اور تنبیہ سے کیا خالد بن ولیدؓکے رفیق ضرار بن الاسود جیسا ان میں سے کوئی ہو گیا؟ضرار کی کہانی پھر سہی۔ ایک ٹی وی مذاکرے میں برادرم ڈاکٹر معید پیرزادہ سے پوچھا:ناصر درانی ایسا آدمی ناقابل قبول اور عثمان بزدار محبوب کیسے ٹھہرے؟ ان تھک زود نویس نثرنگار اس سوال کا جواب دینے کی پوری اہلیت رکھتے ہیں۔ ریاست نہیں۔ پاکستان ایک نیم ریاست ہے۔ زرداریوں، شریفوں اور خسرو بختیاروں کا احتساب، اس نیم قبائلی معاشرے میں ممکن نہیں۔شہزاد اکبروں کے ہاتھوں تو بالکل نہیں۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ سرخرو ہونے والا نظام عدل اداروں پہ مشتمل ہوتا ہے، کسی لیڈر کے ذاتی عزم و ارادے کا نام نہیں۔

Comments are closed.