ناقابل یقین اطلاعات

اسلام آباد (ویب ڈیسک) حساس معاملات کی تفتیش اور گرفتاری میں معاونت کرنے والے انٹیلیجنس بیورو کے افسر کو پڑوسی ملک کے موبائل نمبروں سے مسلسل وارننگ ملنے کے بعد افسر پولیس سے حفاظت مانگنے پر مجبور ہو گیا ہے، انسپکٹر راجہ راحت جاوید نے آبپارہ پولیس کو تحریری درخواست دی کہ

وہ حساس ادارے میں خدمات سر انجام دے رہا ہے، کافی دنوں سے میرے ذاتی نمبروں پر مختلف اوقات میں کالز آتی ہیں ،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کال کرنے والا مجھے خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، قبل ازیں میں حساس ادارے سے اسلام آباد پولیس میں آیا اور اسلام آباد پولیس میں انچارج ہائی پروفائل یونٹ اسلام آباد خدمات سر انجام دے چکا ہوں، اس دوران میں نے ہائی پروفائل کیس ٹریس کر کے ملزموں کو گرفتار کرایا،قوی امکان ہے کہ مجھے کی جانے والی کالز اس سلسلے کی کڑی ہو سکتی ہے ،میں اور میری فیملی اس وجہ سے خوفزدہ ہے میں نے اپنے دفتر کے افسران کو بھی آگاہ کر دیا ہے آبپارہ پولیس نے اس حوالے سے رپورٹ درج کر لی ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس ادارے کے افسر کو کی جانے والی کالز پڑوسی ملک کے نمبروں سے آ رہی ہیں ۔معاملے کی تفتیش کرنے والے اے آئی ایس کا کہنا ہے کہ سی ڈی آر کیلئے کہا ہوا ہے کارروائی جاری ہے ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.