ناقابل یقین حقائق

 لاہور (ویب ڈیسک) میری نظر میں تحریک انصاف نے اپنی لاابالی حرکت اور سنگین غلطی سے اپنے دو سیا سی مخالفین کو کارنر کرنے کا موقع ضائع کر دیا ہے بلکہ الٹا کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کا معاملہ اب اس کے گلے پڑ گیا ہے۔ شاید حکومت کے سیاسی مشیروں اور ترجمانوں میں سے

نامور کالم نگار منیر احمد بلوچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی کو احساس ہی نہیں ہو سکا یا کسی نے انہیں بریف نہیں کیا کہ اس وقت ان کے خلاف ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے۔ مزارِ قائد پر جیسے ہی سیاسی کارکنوں کے نعرے بازی کی وڈیو سامنے آتی ہے‘ ملک کے ہر باشعور شخص کو یہ حرکت انتہائی ناگوار گزرتی ہے اور سینکڑوں دانشوروں اور تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لینے والے بزرگ افراد کی جانب سے سوشل میڈیا پر احتجاج ریکارڈ کرانے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ایک عام پاکستانی کے احساسات اور جذبات مجروح ہونے کا ردعمل نواز لیگ کے خلاف آ رہا تھا۔ اگر تحریک انصاف میں پختہ سیاسی ذہن کے لوگ ہوتے تو وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مزارِ قائد کی بے حرمتی پر عوامی جذبات کو اپنے حق میں استعمال کرتے لیکن سیاسی فہم سے عاری لوگ مار کھا گئے۔ اسی طرح گوجرانوالہ میں اداروں کے خلاف میاں نواز شریف کی تقریر اور پھر کراچی میں مزارِ قائد کی بے حرمتی کو ایک اسلوب سے عوام تک یہ کہتے ہوئے پہنچایا جاتا سکتا تھا کہ میاں نواز شریف اینڈ کمپنی قومی اداروں کے بعد قوم کے معمار اور بانیٔ پاکستان کے مقدس مزار کی بے حرمتی کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ اگر پی ٹی آئی میں کوئی سمجھ دار شخص ہوتا تو وہ مزارِ قائد پر ملک بھر کے دانشوروں کے ٹویٹس اور سوشل میڈیا پر کیپٹن (ر) صفدر پر ہونے والی تنقید کو اپنے حق میں بہتر طور پر استعمال کر سکتا تھا۔

تحریک انصاف کو خود اس معاملے کی ایف آئی آر درج نہیں کرانا چاہیے تھی بلکہ اس کیلئے عوامی دبائو بڑھاتے ہوئے گیند پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کی کورٹ میں پھینکنا چاہئے تھی۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو پھر انہیں جس عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا‘ وہ بھی قابلِ دید ہوتا۔ اس طرح پوری اپوزیشن بیک فٹ پر جا سکتی تھی اور یہ معاملہ اپوزیشن جماعتوں کے گلے میں اٹک جاتا کہ مقدمہ درج کر کے کارروائی کی جاتی تو مصیبت تھی‘ نہ کی جاتی تو مصیبت تھی۔اپوزیشن کی ذہنی استعداد کا اندازہ کیجئے کہ کیپٹن (ر)صفدر پر ایف آئی آر درج ہونے کے بعد مسلم لیگ نواز کے سوشل میڈیا سیل سے جو تحریر وائرل کی گئی اس میں سوال کیا گیا تھا ”اگر مزارِ قائد پر فوج کا بینڈ بجایا جا سکتا ہے تو کیپٹن (ر)صفدر کے نعروں پر تکلیف کیوں؟‘‘۔ کیا اب انہیں فوج کے بینڈ سے بھی تکلیف ہونے لگی ہے؟ اعتزاز احسن جیسے معروف وکیل کا بیان اور مشہور مصنف مستنصر حسین تارڑ کا مزارِ قائد کی بے حرمتی پر خون کے آنسو رلا دینے والا کھلا خط‘ دونوں سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ مزارِ قائد کی بے حرمتی کے حوالے سے ہر پاکستانی دل گرفتہ ہے۔ اس واقعے کے بعد پوزیشن گٹھ جوڑ کے خلاف پڑھے لکھے اور ملک کے باشعور طبقات کے دلوں میں جو غصہ بڑھ رہا تھا‘ اس کا رخ اچانک اداروں کی جانب کس نے موڑا؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب جنوری تک ‘سب کچھ ملیامیٹ کرنے کی سوچ رکھنے والوں‘ کے اصل عزائم تک پہنچا سکتا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.