ناقص کارکردگی کی وجہ سے پی ٹی آئی کا اگلے الیکشن جیتنا ناممکن :

لاہور (ویب ڈیسک) خانیوال کے الیکشن نے آئندہ انتخابات کیلئے مجوزہ سیاسی اتحاد کے حوالے سے بہت سے سوالات کا وقت سے پہلے ہی جواب دیدیا ہے اور بہت سی چیزیں واضح ہو گئی ہیں۔ یہ میری معلومات نہیں بلکہ اندازہ اور تجزیہ ہے کہ اگلے انتخابات جو کہ 2023 ء میں ہونے جارہے ہیں،

کیلئے پاکستان تحریک انصاف اپنی ’’کارکردگی‘‘ کے پیش نظر اکیلی انتخابی میدان میں اترنے کی بجائے پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک لبیک سے انتخابی اتحاد بنائے گی کیونکہ مسلم لیگ (ن) اب کسی بھی طور پر اسٹیبلشمنٹ کو قبول نہیں کہ میاں نواز شریف اور مریم نواز کی غیر لچکدار پالیسی قابل قبول ہو ہی نہیں سکتی۔ نامور کالم نگار میاں غفار احمد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اس ’’سرکاری‘‘ اتحاد میں (ق) لیگ شامل ہو گی یا نہیں یہ کہنا فی الحال قبل از وقت ہے کیونکہ چودھری پرویز الٰہی اقتدار میں رہ کر بھی حکومت سے نالاں ہی رہے۔ ویسے بھی وہ بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے والے لوگ ہیں ۔ پاکستان تحریک انصاف کو طشتری میں سجا کر پنجاب حکومت دی گئی، جہاز اڑانیں بھرتے رہے۔ آزاد حیثیت سے کامیاب ہونیوالے ہر رکن پنجاب اسمبلی کو پاکستان تحریک انصاف کے قافلے میں شامل کیا گیا۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بھی پاکستان تحریک انصاف ہی میں مدغم ہوا اور آزاد اراکین کی آزادی سلب کر لی گئی انہیں ہر حال میں پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ شامل ہونے پر راضی کیا گیا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا دعویٰ تو یہ تھاکہ پنجاب اب مسلم لیگ کا گڑھ نہیں رہے گا بلکہ تحریک انصاف کا بیس کیمپ ثابت ہو گا اور لاہور پر تو خاص توجہ دی جائیگی مگر نجیب الطرفین نااہلی نے لاہور پر کیا گرفت مضبوط کرنا تھی وہ تو خانیوال میں بھی اپنے ووٹ بنک میں تقریباً 14 ہزار ووٹوں کی کمی کر گئی ۔جبکہ مسلم لیگ کا ووٹ بنک بدرجہ اتم برقرار رہا اور

مسلم لیگی امیدوار رانا سلیم حنیف نے اتنے ہی ووٹ حاصل کئے جتنے مسلم لیگی امیدوار نشاط خان ڈاہا نے حاصل کیے تھے۔ دوسری طرف نشاط خان ڈاہا مرحوم کی اہلیہ نورین نشاط جو کہ پاکستان تحریک انصاف کی امیدوار تھیں، انکے شوہر مرحوم کئی مرتبہ اس شہری حلقے سے رکن صوبائی اسمبلی بن چکے تھے اور پھر شوہر کے انتقال کی وجہ سے ہمدردی کا ووٹ بھی انہی کو ملنا تھا جو ملا بھی ۔ گو کہ یہ حلقہ ہمیشہ ہی سے مسلم لیگ کا ہے اور 2002 ء کے انتخابات میں سرکاری سرپرستی میں بھی یہاں سے ڈاہا خاندان ہی کے ظہور خان ڈاہا کامیاب ہوئے تھے جو کہ مسلم لیگ (ق) کے امیدوار تھے۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے سسرالی ضلع ہونے کا بھرپور فائدہ یہاں سے نشاط خان ڈاہا مرحوم نے مسلم لیگی رکن اسمبلی ہونے کے باوجود اٹھایا‘ فنڈز بھی لئے اور زندگی کے آخری دوسال اپنے منہ بولے بھتیجے سردار محمد عثمان خان بزدار سے فنڈز اور ہر طرح سے مراعات بھی لیں۔ خانیوال میں ایاز خان نیازی ایک بڑا فیکٹر بن چکا ہے جن کے حکومتی حلقوں کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ حتیٰ کہ مسلم لیگ (ق) سے بھی بہت گہرے روابط ہیں۔ نیازی خاندان خانیوال میں ایک بااثر دھڑا ہے گو کہ ان کا مرکز کچا کھوہ ہے مگر شہر میں اچھا خاصا اثرو رسوخ رکھنے والی یہ برادری بھی بہت حد تک تحریک انصاف کی سپورٹر تھی۔ مگر سچ یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی عوام دشمن پالیسیوں کو شکست ہوئی ہے۔

اور عوام نے وقت سے پہلے ہی اپنا فیصلہ دینا شروع کردیا ہے ۔ اس حلقے سے پاکستان پیپلز پارٹی بھی اپنے ووٹ بنک میں اضافہ کرنے میں کامیاب رہی ۔ انہوں نے اس ضمنی الیکشن کو بہت منظم انداز میں لڑا ۔ پیپلز پارٹی نے تو اپنا امیدوار بھی تبدیل نہ کیا پھر بھی اپنے ووٹ بنک میں تقریباً 120 فیصد اضافہ کر لیا۔ حالیہ ضمنی الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار میر سید واثق حیدر نے 15 ہزار ووٹ لیا جو کہ جنرل الیکشن کے 6700 ووٹوں سے بہت ہی بہتر کارکردگی ہے۔ اس اضافے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب میں اپنی گرفت کو مضبوط کرنے پر بھرپور توجہ دے رہی ہے اور اسے کامیابی بھی مل رہی ہے۔اس ضمنی الیکشن میں یہ بات خاص طور پر نوٹ کی گئی کہ مسلم لیگ کے امیدوار رانا سلیم حنیف جو کہ نسبتاً ایک کمزور امیدوار تھے اور انکی مسلم لیگ میں انٹری بھی نئی تھی کہ انہوں نے تو 2018 ء کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا۔ رانا سلیم حنیف کی خانیوال میں برادری بھی تعداد میں کم ہے جبکہ اس حلقے میں کمبوہ برادری کا ووٹ سب سے زیادہ ہے اور اسکے بعد آرائیں ، اُردو سپیکنگ مہاجر، جاٹ و دیگر برادریاں ہیں۔شہری حدود میں مہاجرین کی تعداد مقامی افراد کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے اور سالہا سال تک ملتان کی تحصیل رہنے کے باوجود خانیوال شہر میں بولی جانے والی زبان پنجابی ہی ہے جبکہ ملتان کے آباد کار بھی سرائیکی بولتے اور سمجھتے ہیں کہ یہاں عام بولی جانیوالی زبان سرائیکی ہی ہے جو کہ 1970ء کے بعد سرائیکی کہلائی اس سے پہلے اسے ملتانی کہا جاتا تھا۔

باوجود اس امر کے کہ تحریک لبیک نے مسلم لیگ کا ووٹ بنک خراب کیا کہ وہ تو ٹارگٹ کے ساتھ الیکشن لڑ رہی تھی اور ٹارگٹ یہی تھا کہ خود بے شک نیچے آ کر اپنا نقصان کرے مگر شریکوں کی دیوار گرنی چاہئے۔ تحریک لبیک کا 9 ہزار ووٹ اگلے انتخابی اتحاد کی طرف اشارہ دے رہا ہے اور یہ بھی سمجھا گیا ہے کہ اسے ایزی نہ لیا جائے کیونکہ آئندہ حکومت بنانے کیلئے وہ مجوزہ اتحاد کا حصہ بن سکتے ہیں ۔ یہ معلومات نہیں جگاڑ ہے کہ اگلا الیکشن پاکستان تحریک انصاف پیپلز پارٹی اور تحریک لبیک کے ساتھ اشتراک کر کے لڑنے کی منصوبہ بندی ہو سکتی ہے کہ فیصلہ کن قوتیں اب اس بات کو تسلیم کر چکی ہیں کہ پیپلز پارٹی سے تو ورکنگ ریلیشن شپ بن سکتی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے نوازشریف اور مریم نواز فیکٹر سے نہیں البتہ جہاں تک ووٹ بنک کا معاملہ ہے تو یہ صرف اور صرف نواز شریف کا ہے۔ ووٹ بنک کے حوالے سے میاں شہباز شریف مکمل طور پر تہی دامن ہیں تاہم وہ اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کے تارے بننے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ آجکل مسلم لیگ (ن) کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل کی اطلاعات زبان زد عام ہیں مگر معلومات رکھنے والوں کے مطابق یہ ڈیل بطور پارٹی تو ہوسکتی ہے، انفرادی نہیں کیونکہ ابھی تک میاں نواز شریف و مریم نواز کو کسی بھی قسم کی کلیئرنس نہیں مل سکی ، برصغیر میں تو ایسی مثال بھی موجود ہے کہ یہاں 14 سال تک کھڑاویں (جوتیاں) حکومت کرتی رہیں اور صاحب اقتدار جنگلوں میں گم رہے۔ ہوسکتا ہے اسی قسم کی ڈیل میں میاں نواز شریف لندن میں بیٹھ کر حکومت چلائیں کہ سالہا سال تک پاکستان سے ایم کیو ایم کے خود ساختہ جلاوطن رہنما بھی تو لندن میں بیٹھ کر کراچی کا کنٹرول سنبھالتے رہے ہیں تو نواز شریف کیلئے ایسی کونسی رکاوٹ ہے کہ یہاں سب چلتا ہے ۔

Comments are closed.