نامور امریکی شخصیت نے دنیا کو تہلکہ خیز بریکنگ نیوز دے دی

 واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکہ میں جب جوبائیڈن اقتدار سنبھالیں گے تو ان کے دور میں امریکہ ایران تعلقات بہتر ہو جائیں گے۔ ایران بھی اس وقت کا انتظار کر رہا ہے جب وہ بائیڈن انتظامیہ کے قریب آکر اپنے جوہری پروگرام پر پابندیوں کو ختم کرا کر اپنے جوہری عزائم کی تکمیل کرسکے گا۔

یہ جائزہ ٹرمپ انتظامیہ کے سابق اہم رکن مائیکل فلین کے ساتھ کام کرنے والی سابق ڈپٹی ایڈوائزر کے ٹی میکفارلینڈ نے ”سنکلیئر براڈ کاسٹنگ“ ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں پیش کیا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر بائیڈن نے ایران کو گلے لگایا تو مشرقی وسطی میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی ایک نئی دوڑ شروع ہو جائے گی۔ تحفظ کے معاملات کی خاتون امریکی ماہر امریکہ کے اتحادیوں کے حالات  سے خاصی باخبر ہے جس کی بنیاد پر انہوں نے بتایا کہ اسرائیل کو یقین ہے کہ بائیڈن انتظامیہ ایران سے تعلقات بہتر کرے گی جس کے بعد اگر اس کے جوہری پروگرام پر پابندیاں نرم ہوئیں تو اس کے جوہری طاقت بننے کا راستہ روکنا مشکل ہو جائے گا۔ میکفار لینڈ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ جس طرح ایران کے اوبامہ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات ٹرمپ سے بہت بہتر تھے اسی طرح ایران سابق صدر اوبامہ کے نائب صدر جوبائیڈن کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے تعلقات استوار کرکے اپنے جوہری پروگرام میں رکاوٹیں دور کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے دیگرممالک قیام امن کے خواہشمند ہیں اور اگر ایران کی حوصلہ افزائی کی گئی تو اس کے نتیجے میں امن درہم برہم ہو جائے گا اور مشرقی وسطی میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو جائے گی

Sharing is caring!

Comments are closed.