نامور خاتون صحافی نے حساس مسئلے کا حل سامنے رکھ دیا

لاہور (ویب ڈیسک) ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان ان ممالک میں سے ہے، جہاں بچوں کے ساتھ غلط کاری خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ صرف یہ ہی نہیں اتنے واقعات ہو جانے کے باوجود حکومتی سطح پر بھی اس مسئلے کو ایک سنجیدہ اور بڑا مسئلہ ہی نہیں سمجھا جا رہا۔

نامور خاتون صحافی سمیرا راجپوت اپنے ایک بلاگ میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔سوچتی ہوں تو روح کانپ جاتی ہے۔ کیا مائیں بچے ان درندوں کے لیے پیدا کر رہی ہیں؟ ایک مخصوص پیٹرن پر اگر غور کیا جائے تو اس طرح کے شرمناک کیسز زیادہ تر مضافاتی علاقوں سے رپورٹ ہوئے۔ یہ وہی علاقے ہیں، جہاں تعلیم نام کی چیز کوئی نہیں، خواتین کیا، بچے کیا، سب ہی اس کا شکار ہیں۔ لیکن حکومت کی جانب سے نہ تو ان علاقوں کی تعلیم پر توجہ دی جا رہی ہے اور نہ ہے کوئی رورل ڈویلپمنٹ پروگرام متعارف کروائے گئے ہیں۔ انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے قومی اسمبلی میں اس راز سے پردہ فاش کیا کہ دنیا بھر میں بچوں کے حوالے سے اس شرمناک کام کو دیکھنے والوں میں زیادہ تعداد پاکستانی مردوں کی ہے لیکن پاکستانی میڈیا میں یہ بات بھی سامنے نہیں لائی گئی۔اور یہ مسئلہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں پوری دنیا اس لعنت کا شکار ہے۔ غیر ملکی کمپنیاں پاکستان میں یہ کالا دھندہ کر رہی ہیں۔ ایسی ہزاروں ویب سائٹس اور لنکس کے ذریعے کم عمر ذہنوں کو اپنی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے۔ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے ڈائریکٹر کیپٹن (ر) محمد شعیب کے مطابق، بچوں کے حوالے سے یہ شرمناک جرم ایک بزنس کی شکل اختیار کر گیا ہے اور پاکستان میں موجود ایسے افراد کے لنکس غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ ہیں، جو اس کاروبار کے ذریعے پیسہ کما رہے ہیں۔ اکثر و بیشتر ایسے افراد سوشل میڈیا کے ذریعے بھی بچوں سے رابطہ کرتے ہیں۔‘‘ خدارا! اپنے بچوں کی حفاظت خود کریں، وہ وقت تو کب کا گزر گیا، جب بچے باہر بھی کھیلیں تو فکر ندارد تھی۔ خدارا! گھر میں بھی بچوں پر اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ ان کی آن لائن سرگرمیوں پر بھی نظر رکھیں۔ انہیں فلاں انکل، ڈھمکاں انکل سے دور رکھیں۔ انہیں رائٹ اور رانگ ٹچ کی پہچان دیں۔ ہو سکے تو اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ کے ذریعے بھی آگاہی پھیلائیں۔ پاکستان میں ڈیجیٹل رائٹس کے لیے کام کرنے والی تنظیم کی سربراہ نگہت داد کہتی ہیں کہ ”پہلے بچوں کے حوالے سے اس جرم کی روک تھام کے لیے کام کرنا بہت مشکل تھا لیکن حال ہی میں پیش آنے والے واقعات نے اس امر کی نشاندہی کی کہ اس مسئلے پر کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔‘‘ تاہم انہوں نے ایک ایپ بھی متعارف کروائی ہے، جس کے ذریعے اپنی پہچان سامنے لائے بغیر قابل اعتراض مواد کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *