نامور سیاسی تجزیہ کار نے حیران کن بات کہہ دی

کراچی (ویب ڈیسک)نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں ایک سوال کہ شہباز شریف ، نواز یا مریم ، پارٹی کارکنان کس کے بیانئے کا ساتھ دیں گے کے جواب میں تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے اپنی اگلی نسل لاؤنچ کردی۔ تجزیہ کارمحمل سرفرازنے کہا کہ شہباز شریف

کا مفاہمتی بیانیہ آج کا نہیں ہے وہ گرفتاری سے قبل بھی مفاہمتی بیانیہ پیش کررہے تھے۔اس بات کو مریم نواز بھی کہہ چکی ہیں کہ شہباز شریف کا مفاہمتی بیانیہ ہے ۔ نظریاتی یاسیاسی طور پر ان کابیانیہ بڑے بھائی سے مختلف ہے۔وہ کہتی ہیں کہ ان کی جو مرضی سوچ ہو مگر آخر کار بڑے میاں صاحب جو کہتے ہیں وہ اس کو مان لیتے ہیں۔مریم نواز نے پارٹی کا کنٹرول لے لیا ہے اس سے لگتا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز جو فیصلہ کریں گے کارکنان ان فیصلے کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔کارکنان کہتے ہیں کہ ووٹ نواز شریف کا ہے۔تجزیہ کارارشاد بھٹی نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی بی گریڈ سیاستدان ہیں ۔ن لیگ میں نواز شریف، شہبا زشریف، حمزہ شہباز، مریم نواز اے گریڈ سیاستدان ہیں ۔دوسری طرف بلاول بھٹوان کا خاندان اور آصف زرداری اے گریڈ ہیں ۔اسی طرح تحریک انصاف میں عمران خان اور دو چار اور شامل کرلیں ۔کارکنان نواز شریف یا شہباز شریف کو ووٹ دیں مگر ایک ہی گھر میں ووٹ جانا ہے ایک ہی گھر کا فائدہ ہے۔تجزیہ کاربینظیر شاہ نے کہا کہ جتنی بڑی تعداد میں کارکنان نے جلسوں میں شرکت کی ہے اس سے ظاہر ہے کہ وہ نواز شریف کے بیانئے کو ہی آگے لے کر چلیں گے۔جہاں تک ڈائیلاگ کی بات ہے ڈائیلاگ تو ہوگا۔پی ڈی ایم کی بڑی ناکامی یہ ہے کہ بظاہر جو ان کا ایک مقصد تھا کہ ہم حکومت کو گرائیں گے اس کو وہ حاصل نہیں کر پائے۔ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے اپنی اگلی نسل لاؤنچ کردی ہے۔ اس طرح انہوں نے آئندہ انتخابات کی مہم شروع کردی ہے۔پی ڈی ایم نے اس حکومت پر ایک لیبل لگا دیا جس کو ہٹانا بہت مشکل ہوگا۔تجزیہ کاررسول بخش رئیس نے کہا کہ مسلم لیگ ن متحد جماعت رہے گی اس میں دراڑیں نہیں پڑ سکتیں ۔شہباز شریف مفاہمت کی بات کرتے رہیں گے ہر جماعت میں ایک سے زائد آرا ہوتی ہیں۔شہباز شریف فیصلے نہیں کرسکتے اپنی بات منوانے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔دوسرے سوال کہ فضل الرحمٰن کے خلاف ان کی اپنی پارٹی میں بغاوت شروع ہوگئی کیا حکومتی وزراء کا بیان درست ہے؟ کے جواب میں تجزیہ کارمحمل سرفرازنےکہا کہ جے یو آئی ایف کے مولانا شیرانی کے کافی عرصے سے مسائل چل رہے ہیں ان سے بیان دلوایا بھی جاسکتا ہے کیونکہ اس طرح کہ لوگ ہر پارٹی میں ہوتے ہیں۔اگر اختلاف رائے ہے تو اس کو بات چیت اور دلیل کے ساتھ حل کرنا چاہئے۔جمہوری جماعتوں میں اس طرح کی چیزیں نہیں ہونی چاہئیں۔تجزیہ کاربینظیر شاہ نے کہا کہ اگر جمہوری پارٹیوں میں اس طرح نہیں ہوتا تو پھر پی ٹی آئی سے جسٹس وجیہہ الدین، حامد خان ، جاوید ہاشمی کو پارٹی سے کیوں نکالا گیا۔میرا نہیں خیال کہ یہ چار افراد مولانا فضل الرحمٰن کی لیڈر شپ کے لئے کوئی مسئلہ بن سکتے ہیں ۔ نہ ہی ان کو پارٹی سے نکالنے سے اتنا زیادہ فرق پڑے گا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *