نامور شاعر منیر نیازی مرحوم اکثر کیا کہا کرتے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) آج کل میں شدید قسم کے کنفیوژن کا شکار ہوں۔ عثمانی ترک جنہوں نے چھ سو سال پلس تین براعظموں پر حکومت کی، ان کے بانیوں بارے ٹی وی پر سیریلز سپرہٹ جا رہے ہیں۔ ان ڈراموں میں ترک خواتین مردوں کے شانہ بشانہ شیرنیوں کی طرح آپس میں بھی لڑ رہی ہیں،

نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ دشمنوں کےساتھ بھی نبرد آزما ہیں،گھوڑے بھی دوڑا رہی ہیں، تیر تلوار بھی چلا رہی ہیں تو ظاہر ہے یہ سب کچھ ’’چادر چاردیواری‘‘ میں تو نہیں ہو رہا اور آپ اسے ’’ڈرامہ‘‘ کہہ کر نظر انداز بھی نہیں کر سکتے کیونکہ یہ تاریخی سچائیاں ہیں۔ ترکوں کی تاریخ پڑھنا میرے محبوب ترین مشاغل میں سے ایک ہے اور اس موضوع پر بیسیوں کتابیں میری ذاتی لائبریری میں موجود ہیں سو مجھ جیسے کودن کے لئے فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ’’حجاب یا انقلاب‘‘۔۔۔پیر منیر نیازی یاد آئے جو کہا کرتے تھے کہ یہاں خاک ترقی ہونی ہے جہاں آدھی آبادی کو گھروں میں قید کرکے باقی آدھی آبادی ڈانگیں پکڑ کر گھروں کے باہر ان کی حفاظت میں مصروف ہے۔ ہماری بھی کیا قسمت ہے کہ کچھ قوموں کی رہنمائی ’’عقلیں‘‘ کرتی ہیں اور کچھ بدنصیبوں کی رہنمائی ’’توندوں‘‘ کے سپرد ہے جبکہ توندوں میں صرف اوجھڑیاں ہوتی ہیں اور اوجھڑیوں میں؟کاش کوئی ’’ایسا کرنٹ‘‘ میرے ہاتھ لگ جائے جو مریض کو صدیوں پر محیط ’’کومے‘‘ سے واپس لا سکے۔