نامور صحافی نے مولانا کو شریفوں کی خوفناک سیاسی چال سے آگاہ کر دیا

لاہور (ویب ڈیسک) میاں نواز شریف لندن میں بیٹھ کر اپنے کارکنوں کا لہو گرما رہے ہیں،اُنہیں پیغام بھی دے رہے ہیں اور وارننگ بھی کہ گھروں سے نکلیں اور بزدلی کا مظاہرہ نہ کریں۔انہوں نے اپنی بیٹی مریم نواز سے بھی کہا ہے کہ وہ اپنا بیگ تیار رکھیں اور گرفتاری کی نوبت آئے تو

سینہ تان کر گرفتاری دیں۔نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔یہ بات خود مریم نواز نے پریس کانفرنس اور ٹکٹ ہولڈرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ لیڈر لندن میں بیٹھا ہے اور پاکستان میں اپنے کارکنوں اور رہنماؤں کو بزدلی نہ دکھانے کی تلقین  کر ر ہا ہے۔گویا یہ فلسفہ غلط ثابت کر دیا ہے کہ لیڈر آگے ہوتا ہے اور کارکن پیچھے ہوتے ہیں۔یہاں لیڈر غائب اور کارکنوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ سر پر کفن باندھ کر میدان میں کود پڑیں۔کیا اس طرح حکومت کے خلاف تحریک کامیاب ہو سکتی ہے؟ کیا نواز شریف یہ چاہتے ہیں کہ کارکنوں کی قربانیوں سے جب حکومت کا خاتمہ اور نئی حکومت کا امکان پیدا ہو جائے تو وہ شان و شوکت سے پاکستان میں لینڈ کریں؟کیا وہ پکی پکائی حکومت کے انتظار میں ہیں؟…… کیا واقعی ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک سیاسی رہنما خود تو بہادری کا مظاہرہ نہ کرے اور اپنے کارکنوں سے یہ چاہے کہ وہ بزدلی کو بالائے طاق رکھ کر تخت یا تختہ کے لئے تیار ہو جائیں؟ میرے خیال میں تو یہ ایک ناممکن سی بات ہے۔ حکومت گرانا اگر اتنا ہی آسان ہوتا اور لندن سے وڈیو لنک خطاب کے ذریعے یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا تو پھر شاید ہی پاکستان میں کوئی حکومت اپنی مدت پوری کر سکتی۔مجھے تو لگ رہا ہے کہ ایک مرتبہ پھر مولانا فضل الرحمن سے ہاتھ ہونے جا رہا ہے۔

اس وقت سوائے اُن کے پوری اپوزیشن کو کوئی دوسرا کندھا نظر نہیں آ رہا، ، وہ بھی آج کل خوشی سے پھولے نہیں سما رہے کہ مریم نواز اُن کا پورا ساتھ دے رہی ہیں اور آنے والے دِنوں میں جن اجتماعات کا اعلان کیا گیا ہے، وہ اُن میں شامل ہوں گی،مگر سوال پھر وہی ہے کہ اگر مریم نواز کو16 ایم پی او کے تحت گرفتار کر لیا جاتاہے تو پھر کیا بنے گا؟ کیا باقی مسلم لیگی قیادت میں اتنی سکت ہے کہ وہ خود اور کارکنوں کو ایک بڑی تحریک کے لئے سڑکوں پر لا سکے؟گھوم پھر کر بات مولانا فضل الرحمن پر آئے گی کہ وہ اپنے مدرسوں سے طالب علموں کو ان جلسوں میں لائیں اور ان کی شان بڑھائیں، کیونکہ مسلم لیگی کارکنوں میں اتنا سیاسی دم خم نہیں کہ قیادت کی عدم موجودگی کے باوجود قید خانے بھر دیں اور جلسوں میں جوق در جوق شامل ہوں،خاص طور پر ایسی صورت میں کہ جب نواز شریف لندن میں بیٹھ کر ڈوریں ہلائیں اور شہباز شریف و حمزہ شہباز گرفتار ہو کر منظر سے غائب ہوں۔رہی پیپلزپارٹی کی بات تو اپوزیشن کو کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہئے۔ آصف علی زرداری نے سیاست میں وقت ضائع نہیں کیا،بلکہ اس پر پی ایچ ڈی کی ہے۔ وہ بھلا کیوں چاہیں گے کہ اپنے رہنماؤں اور کارکنوں کو ایسی تحریک کا ایندھن بنائیں،کامیابی کی صورت میں جس کا سارا فائدہ نواز شریف کو ملے،جو فاتحانہ انداز میں لاہور ائر پورٹ پر اُتریں گے اور سیاست میں اُن کی دھاک بیٹھ جائے گی۔

دوسری طرف مریم نواز کی باتوں سے لگ رہا ہے کہ وہ جلد از جلد گرفتار ہونا چاہتی ہیں تاکہ منظر سے ہٹ جائیں اور مولانا فضل الرحمن تحریک چلاتے رہیں۔قابل ِ غور نکتہ یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) پی ڈی ایم کی تحریک کو نواز شریف کے ”ووٹ کو عزت دو“ والے بیانیہ سے جوڑنا چاہتی ہے،جس سے پیپلزپارٹی کو اتفاق نہیں،کیونکہ اس طرح تو یہی لگے گا کہ اداروں سے تصادم کی تحریک چل رہی ہے،پیپلزپارٹی کبھی جس کا حصہ نہیں بننا چاہے گی……میاں صاحب کو نجانے کس ذریعے نے یہ امید دلائی ہے کہ اُن کی ویڈیو لنک تقریروں کے ذریعے پاکستان میں تبدیلی آ جائے گی،حالانکہ وہ خود اس نظام کا حصہ رہے ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستان میں تحریکیں یا جلسے تبدیلی نہیں لاتے،بلکہ اسٹیبلشمنٹ تبدیلی لاتی ہے، ہاں جب وہ تبدیلی لانا چاہتی ہے تو ایسے حالات پیدا کر دیتی ہے کہ جلسے جلوس تبدیلی کی بنیاد بن جاتے ہیں۔ یہاں تو معاملہ الٹ ہے، نواز شریف پی ڈی ایم کی تحریک کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ تحریک میں بدلنا چاہتے ہیں۔ایسا کرنے کی صورت میں وہ کس سے یہ تقاضا کریں گے کہ منتخب حکومت کو وقت سے پہلے رخصت کر دیا جائے؟کیا واقعی اُن کی عدم موجودگی کے باوجود ایسی زور دار تحریک چل سکے گی کہ اُس کے سامنے حکومت، اسٹیبلشمنٹ تک ڈھیر ہو جائیں گے؟میرے نزدیک یہ دیوانے کا خواب ہے۔سنا ہے آئی جی پنجاب نے تمام ضلعی پولیس افسروں کو یہ حکم دے دیا ہے کہ وہ مسلم لیگ(ن) کے سرگرم کارکنوں کو گرفتار کر لیں۔

ایسا ہوا تو مسلم لیگ(ن) جو احتجاجی سیاست کا کوئی اچھا ٹریک ریکارڈ نہیں رکھتی، شاید منظر ہی سے غائب ہو جائے،پھر کارکنوں کا لہو گرمانے کا ایک طریقہ بھی ہوتا ہے۔ عدلیہ بحالی تحریک کی کامیابی کا جو یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ نواز شریف لاہور سے اسلام آباد کی طرف ریلی کے ساتھ روانہ ہوئے تو گوجرانوالہ پہنچنے سے پہلے ہی ججوں کی بحالی کا اعلان ہو گیا۔ چلیں یہ مان لیتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا، مگر اِس بار تو میاں نواز شریف ساتھ ہوں گے ہی نہیں،وہ تو ہزاروں میل دور بیٹھے ہیں،اُن کی تحریک تو اُس وقت بھی کامیاب نہیں ہوئی تھی، جب وہ اپنی نااہلی کے بعد جی ٹی روڈ کے راستے لاہور آئے تھے اُس وقت بھی انہیں یہ شکوہ کرتے دیکھا گیا کہ کارکنوں نے اُن کا ساتھ نہیں دیا۔میاں صاحب اگر واقعی ناممکن کو ممکن بنانا چاہتے ہیں تو انہیں کارکنوں کو بزدلی نہ دکھانے کا درس دینے کی بجائے اس تاثر کو دور کرنا چاہئے کہ وہ خود بزدل نہیں اور حکومت کی انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنے کے لئے پاکستان واپس آ رہے ہیں۔ وہ اپنی واپسی کو ایک بڑی تحریک کا نقطہ آغاز بنا سکتے ہیں ……فرض کیا وہ لاہور ائر پورٹ پر اُترتے ہیں اور پہلے کی طرح انہیں تن تنہا گرفتاری کے لئے نہیں چھوڑ دیا جاتا اور استقبال کے لئے لاہور ائر پورٹ پر دو چار لاکھ کارکن پہنچ جاتے ہیں تو یہ واضح پیغام جائے گا کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی تمام تر انتقامی کارروائیوں کے باوجود عوام آج بھی نواز شریف کو اپنا نجات دہندہ کہتے ہیں۔اگر وہ ایسا نہیں کرتے اور لندن میں بیٹھ کر پکی پکائی حکومت کا انتظار کرتے ہیں تو پھر اُن کی کامیابی کے لئے صرف دُعا ہی کی جا سکتی ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *