نامور مضمون نگار نے ایک پرانا واقعہ بیان کرکے وزیراعظم عمران خان کو بڑا سبق دے دیا

لاہور (ویب ڈیسک) پاک فوج کے سابق افسر اور نامور مضمون نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ایک چینی مورخ ’سوماچین‘ کے مطابق سن تزو ریاست چی (Ch`I)کا رہنے والا تھا۔ اس کی تحریر ”دی آرٹ آف وار“ نے 500 ق م میں ریاست وو (Wu) کے حکمران،

کنگ ہولو (Ho Lo) کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ یہ ریاست شنگھائی کے مغرب میں وسطی چین میں واقع تھی اور اس کے دارالحکومت کا نام ووچانگ (Wuchang) تھا۔ آج بھی یہ شہر جدید چائنا کا ایک معروف شہر شمار ہوتا ہے…… جب کنگ ہولو کی ملاقات سن تزو سے ہوئی تو اس نے سن تزو سے کہا: ”میں نے آپ کی کتاب کے 13ابواب کا بڑی توجہ سے مطالعہ کیا ہے…… کیا میں آپ کی تھیوری کی عملی صداقت کو پرکھنے کے لئے اس کا ٹیسٹ کر سکتا ہوں؟“سن تزو نے جواب دیا: ”بصد شوق“…… ہولو نے پھر پوچھا: ”کیا اس ٹیسٹ کا اطلاق خواتین پر بھی ہو سکتا ہے؟“…… سن تزو نے اس سوال کا جواب بھی اثبات میں دیا۔یہ سن کر کنگ ہولو نے حکم دیا کہ اس کے محل سے 180 نو عمر اور حسین خواتین کو فی الفور حاضر کیا جائے۔ سن تزو نے ان کنیزوں کو دو کمپنیوں میں برابر برابر تقسیم کر دیا۔ اس طرح ہر کمپنی میں 90خواتین ہو گئیں۔ سن تزو نے ہر کمپنی کی کمانڈ ایک ایسی خاص حسینہ کے سپرد کی جو بادشاہ سلامت کی خاص منظورِ نظر تھی!سن تزو نے ہر حسینہ کو کہا کہ وہ اپنے ہاتھ میں ایک نیزہ پکڑ لے۔ جب ایسا ہو چکا تو سن تزو ان سے مخاطب ہوا: ”میں یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں کہ آپ کو آگے اور پیچھے اور دائیں اور بائیں سمتوں کا پتہ ہے“۔…… لڑکیوں نے جواب دیا: ”ہاں“ سن تزو نے اپنا بیان جاری رکھا اور کہا: ”جب میں یہ کاشن دوں کہ ”سامنے دیکھ“ تو آپ سب نے ناک کی سیدھ میں سامنے دیکھنا ہے اور جب میں بولوں: ”بائیں مُڑ“ تو آپ سب نے بائیں طرف منہ کر لینا ہے

اور جب میں ’اباؤٹ ٹرن‘ کا کاشن دوں تو آپ سب نے دائیں ہاتھ سے پیچھے کی طرف مُڑ جانا ہے“۔اس طرح جب کمانڈ کے یہ الفاظ ان حسین خواتین کے ذہن نشین کروا دیئے گئے تو سن تزو نے ان سب کے ہاتھوں میں کلہاڑے پکڑوا دیئے تاکہ ڈرل شروع ہو…… پھر ڈرم بجنے لگے اور ان کی آوازوں کے ساتھ ہی سن تزو نے پہلا آرڈر دیا: ”دائیں مُڑ“ لیکن ان لڑکیوں نے تعمیلِ حکم کی بجائے ہنسنا اور قہقہے لگانا شروع کر دیا۔ یہ دیکھ کر سن تزو نے کہا: ”اگر کمانڈ کے الفاظ صاف اور واضح نہ ہوں اور ان میں کوئی شک ہو اور احکامات پوری طرح سپاہ کی سمجھ میں نہ آئیں تو قصور جرنیل (کمانڈر انچیف) کا ہوگا“۔اس کے بعد سن تزو دوبارہ شروع ہوا اور کاشن دیا: ”بائیں مُڑ“…… یہ سن کر دوبارہ تمام داشتائیں ہنسی سے لوٹ پوٹ ہونے لگیں۔ جب قہقہوں کا شور تھما تو سن تزو گویا ہوا: ”اگر کمانڈ کے الفاظ صاف اور واضح نہ ہوں اور پوری طرح سپاہ کے فہم میں نہ آئیں تو جرنیل موردِ الزام ہے۔ لیکن اگر اس کے احکام صاف اور صریح ہوں اور سولجرز پھر بھی ان کی تعمیل نہ کریں تو پھر سولجرز کا آفیسر قصور وار ہے“…… چنانچہ یہ کہہ کر سن تزو نے حکم دیا کہ دونوں کمپنی کمانڈروں کے سر علیحدہ کر دیئے جائیں!کنگ ہولو ایک بلند پاولین سے یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ اس کی دو محبوب ترین حسیناؤں کے سر اتارے جا رہے ہیں تو اس نے بہت تیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے

سن تزو کو یہ پیغام بھجوایا: ”مابدولت اپنے جنرل کی اہلیت و قابلیت پر حد درجہ مطمئن ہیں۔ ہم یقین کرتے ہیں کہ وہ سپاہ پر حکم چلانے پر ہر طرح قادر ہیں …… اگر ہم ان دوحسیناؤں سے محروم ہو گئے تو ہماری خاص و خلوت کی محفلوں میں خلل واقع ہو گا۔ اس لئے مابدولت کی خواہش ہے کہ ان دونوں لڑکیوں کو معاف کردیا جائے “۔یہ پیغام سن کر سن تزو نے جواب دیا: ”جب جہاں پناہ نے مجھے اپنی فوج کی کمانڈ پر فائز فرمایا تھا تو عزت مآب کی اس کمانڈ میں بعض شقیں ایسی بھی تھیں جن کو میں آپ کی افواج کا جرنیل ہونے کی حیثیت میں تسلیم کرنے کا پابند نہیں“…… یہ کہہ کر سن تزو نے دونوں حسیناؤں کو سزا دے دی اور ان کی جگہ دونوں کمپنیوں سے ایک ایک نیا لیڈر منتخب کرکے اسے کمپنی کمانڈر کے عہدے پر فائز کر دیا۔جب سزا دینے کی کارروائی مکمل ہو چکی تو ایک بار پھر ڈرم گونجنے لگے اور ڈرل کا از سر نو آغاز ہوا۔ اب کی بار یہ تمام لڑکیاں ٹھیک ٹھیک دائیں بائیں اور آگے پیچھے مڑنے لگیں اور احکامات بجا لانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔ ان کو جو حکم بھی دیا جاتا خواہ وہ سیدھا کھڑا ہونے کا تھا یا گھٹنوں کے بل جھکنے کا، اس کو من و عن بجا لایا جاتا اور کسی طرف سے بھی کوئی ہلکی سی آواز سنائی نہ دیتی۔اس کے بعد سن تزو نے کنگ ہولو کو یہ پیغام بھیجا: ”سر! آپ کے سولجرز کی ڈرل مکمل ہو چکی اور ڈسپلن کا نفاذ ہو چکا۔ اب جہاں پناہ تشریف لا کر پریڈ کا معائنہ کر سکتے ہیں“۔

Comments are closed.