نامور وفاقی وزیر نے جاوید چوہدری کو بڑی سیاسی بریکنگ نیوز دے دی ،

لاہور (ویب ڈیسک) آپ شاید یہ جان کر حیران ہوں گے ’’سعودی عرب نے پاکستان سے ایک بلین ڈالر واپس مانگ لیے ہیں‘‘ یہ خبر عمران خان سے پہلے میاں نواز شریف کو معلوم تھی اور یہ باقی رقم کب واپس لے رہا ہے یہ بھی عمران خان کی بجائے میاں نواز شریف کو پتہ ہے۔

نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ساری باتیں شاید میرا اندازہ رہتیں لیکن تین دن قبل ایک تگڑے وفاقی وزیر نے سگریٹ کا لمبا کش لگاتے ہوئے انکشاف کیا ’’سعودی عرب اور امریکا دونوں نواز شریف کے ساتھ مل گئے ہیں اور ہمارے آنے والے دن بہت مشکل ہوں گے‘‘ میں نے ان سے پوچھا ’’اور آپ اس صورت حال کا کس کو ذمے دار سمجھتے ہیں‘‘ وہ فوراً بولے ’’شاہ محمود قریشی‘ یہ اگر سعودی عرب کے خلاف بیان نہ دیتے تو ہم آسانی سے اپنے اختلافات سیٹل کر لیتے‘ ہمارے لیے یہ فصل شاہ محمود قریشی نے بوئی ہے اور ہم سب اس کے لیے پریشان ہیں‘‘ میں نے ان سے پوچھا ’’آپ یہ دباؤ کب تک برداشت کر لیں گے‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’یہ دباؤ پر منحصر ہے۔ہمارے لوگ مریم نواز‘ شاہد خاقان عباسی‘ رانا ثناء اللہ اور احسن اقبال کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں‘ میں اور فواد چوہدری ان گرفتاریوں کے خلاف ہیں‘ ہم سمجھتے ہیں یہ گرفتاریاں اپوزیشن کے فلاپ شو کو کام یاب بنا دیں گی‘ وزیراعظم بھی گرفتاریوں کے خواہش مند نہیں ہیں‘ یہ چاہتے ہیں اپوزیشن کو اپنا سارا زور لگانے کا موقع ملنا چاہیے‘ عوام ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے یوں یہ لوگ اسلام آباد آئیں گے اور مولانا فضل الرحمٰن کی طرح ناکام واپس چلے جائیں گے لیکن ہم نے اگر انھیں گرفتار کر لیا تو یہ تحریک واقعی تحریک بن جائے گی‘‘ وہ رکے‘ سگریٹ کا لمبا کش لیا اور بولے ’’میرا ذاتی خیال ہے نیب گند ڈالے گا۔

یہ ان لوگوں کو گرفتار کر لے گا اور یہ ہمارے کھاتے میں پڑ جائیں گے اور یوں ہم پر دباؤ بڑھے گا‘‘ ان کا خیال تھا ’’نیب اگر کبھی ہمارے کنٹرول میں تھا تو یہ اب ہمارے قابو میں نہیں‘ یہ اب کیا کر رہا ہے ہم نہیں جانتے‘‘ ان کا خیال تھا ’’حکومت نے پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمٰن کو نہ چھیڑنے کا فیصلہ کیا ہے‘ کیوں؟ کیونکہ مولانا کے ساتھ مدرسے ہیں اور ہم سب مل کر بھی مدرسوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے جب کہ پیپلز پارٹی سندھ میں حکمران ہے‘ یہ کبھی سندھ حکومت قربان نہیں کرے گی‘ حکومت ان کی اس کم زوری کو بنیاد بنا کر ان کے ساتھ رابطے بڑھا رہی ہے‘ ہم انھیں مزیدا سپیس دے کر پی ڈی ایم سے الگ کر لیں گے اور یوں یہ فورم اپنی موت آپ مر جائے گا‘‘۔میں ہمیشہ سے اس وزیر کی ایمان داری اور بہادری کا قائل رہا ہوں‘ یہ جو بھی بات کرتے ہیں لگی لپٹی کے بغیر کرتے ہیں اور کھل کر کرتے ہیں‘ میں اس بار بھی ان کے موقف کی سچائی اور کھلے پن کا قائل ہو گیا لہٰذا میں نے ان سے پوچھا ’’اگر آپ کے یہ تمام اندازے غلط ثابت ہو ئے اور پیپلز پارٹی نے بھی فروری میں استعفے دے دیے تو پھر ‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’عمران خان پارلیمنٹ توڑ کر نئے الیکشن کرا دیں گے۔ہم اس معاملے میں سو فیصد کلیئر ہیں‘‘ میں نے ہنس کر پوچھا ’’اور اگر محمد زبیر فارمولا کام یاب ہو گیا اور2014 کی طرح ان دھرنے والوں کو بھی مذاکرات کی دعوت دے دی گئی تو‘‘ وزیر صاحب نے سگریٹ فٹ پاتھ پر پھینکا‘

ایڑی سے رگڑا اور پورے یقین کے ساتھ بولے ’’یہ یاد رکھیں عمران خان‘ عمران خان ہے‘ یہ نواز شریف یا آصف علی زرداری نہیں‘ یہ خاموشی سے گھر نہیں جائے گا۔یہ کھل کر بات کرے گا اور پوری دنیا کا میڈیا اس کی بات سنے گا‘‘ وہ مسکرائے اور بولے ’’عمران خان کی الماری میں کوئی ڈھانچہ موجود نہیں‘ اس کے پروفائل میں کوئی سرے محل‘ کوئی ایون فیلڈ‘کوئی شوگر مل اور کوئی سوئس اکاؤنٹس نہیں‘ یہ مسٹر کلین ہے اور یہ کلین لی نیس اس کی اصل طاقت ہے چنانچہ اقتدار کے باہر کا عمران خان اقتدار کے اندر کے عمران خان سے زیادہ مضبوط اور خوف ناک ثابت ہو گا اور یہ وہ حقیقت ہے جس سے سب لوگ واقف ہیں‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو اپنی ہر حکومت کے خاتمے پر کیوں خاموش رہتے تھے؟ ان کی کم زوری سرے محل‘ ایون فیلڈ‘ شوگر ملز‘ سوئس اکاؤنٹس اور فلیٹس تھے جب کہ عمران خان کے پاؤں میں کوئی زنجیر نہیں چنانچہ یہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔یہ پوری دنیا کو بتائیں گے کون کس وقت کس سے کہاں ملا تھا؟ میاں نواز شریف کی رپورٹس کس نے مینوپلیٹ کی تھیں اور انھیں کس کے کہنے پر کس نے ملک سے باہر بھجوایا تھا اور میاں شہباز شریف کا نام کس نے ای سی ایل سے نکالا تھا اور یہ کیوں لندن بھجوائے گئے تھے‘ عمران خان پھر بولیں گے اور پوری دنیا سنے گی‘‘ وہ ہنسے اور گاڑی میں بیٹھ گئے اور میں فٹ پاتھ پر حیران کھڑا رہ گیا۔(ش س م)

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *