نامور پاکستانی قانون دان کی نئی شائع ہونے والی کتاب میں بڑا اعتراف

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حامد میر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔حال ہی میں ایس ایم ظفر صاحب کی ایک نئی کتاب History of Pakistan Reinterpretedکے نام سے شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب کا دیباچہ آصف سعید کھوسہ نے بطور چیف جسٹس آف پاکستان لکھا حالانکہ کتاب میں ان کے سسر

جسٹس نسیم حسن شاہ کے بارے میں ایس ایم ظفر نے ایسے انکشافات کئے ہیں کہ دل و دماغ ہل کر رہ جاتا ہے۔ ایس ایم ظفر نے لکھا ہے کہ جنرل ضیاالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو 3اپریل 1979کو کراچی لے جانے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ وہاں 4اپریل کو تختہ دار پر لٹکایا جا سکے لیکن موسم خراب ہو گیا اور بھٹو کو طیارے کے ذریعہ کراچی لیجانا ممکن نہ رہا۔ سزا پر عمل سے کچھ دیر قبل جیل سپرنٹنڈنٹ یار محمد نے بھٹو صاحب سے کہا کہ براہِ کرم اپنی وصیت لکھوا دیں تو بھٹو نے جواب میں کہا کہ میری وصیت اب تاریخ لکھے گی۔ ایس ایم ظفر نے لکھا ہے کہ جسٹس نسیم حسن شاہ کو بھٹو حکومت نے سپریم کورٹ کا ایڈہاک جج بنایا تھا لیکن جسٹس مولوی مشتاق حسین اور شریف الدین پیرزادہ نے انہیں بھٹو کے خلاف مقدمے کی سماعت کرنے والے بنچ میں شامل کرنے کا مشورہ دیا حالانکہ اس بنچ میں صرف مستقل ججوں کو بیٹھنا چاہئے تھا۔ اس بنچ نے بھٹوکی سزا برقرار رکھی تھی اور نسیم حسن شاہ یہ فیصلہ کرنے والوں میں شامل تھے۔ریٹائرمنٹ کے کچھ سال بعد نسیم حسن شاہ نے Memories and Reflectionکے نام سے آپ بیتی لکھی۔ ایس ایم ظفر نے اپنی کتاب میں بتایا ہے کہ اس کتاب کےGhost Writerیعنی خاموش مصنف نصیر فاروقی تھے۔ نسیم حسن شاہ نے کتاب کا مسودہ ایس ایم ظفر کو بھجوایا تاکہ اشاعت سے قبل ان کا مشورہ لیا جا سکے۔

نسیم حسن شاہ نے مسودے میں دعویٰ کیا تھا کہ بھٹو کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس انوار الحق نے مجھے کہا کہ بھٹو کی سزا کو عمر قید میں بدلنے کیلئے ان ججوں سے بات کرو جو انہیں لٹکانے کے مخالف ہیں اگر سب متفقہ طور پر عمر قید کا فیصلہ کرلیں تو بھٹو کی جان بچ جائے گی اور یہ تاثر زائل ہو جائے گا کہ پنجابی ججوں نے بھٹو کو مروایا۔نسیم حسن شاہ نے جسٹس دراب پٹیل سے بات کی تو انہوں نے اپنا فیصلہ بدلنے سے انکار کر دیا۔ ایس ایم ظفر نے نصیر فاروقی سے کہا کہ اس واقعہ کو مسودے میں شامل رکھنے پر نظرثانی کر لیں یہ بڑا حساس معاملہ ہے۔ نصیر فاروقی نے نسیم حسن شاہ سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ میں یہ واقعہ منظر عام پر لاکر اپنے ضمیر سے بوجھ اتارنا چاہتا ہوں۔ایس ایم ظفر کی اس نئی کتاب میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا بھی ذکر ہے۔ 2004میں امریکی دبائو پر ڈاکٹر صاحب کے خلاف کارروائی شروع ہوئی تو ایک دن جنرل پرویز مشرف نے ایس ایم ظفر کو کہا کہ مجھے پتا چلا ہے آپ نے ڈاکٹر قدیر کو مشورہ دیا ہے کہ مجھ سے پوچھے بغیر کسی دستاویز پر دستخط نہ کریں، مشرف نے کہا کہ یہ اب قانونی معاملہ نہیں رہا لہٰذا آپ اس میں مداخلت نہ کریں اور 5فروری 2004کو ڈاکٹر قدیر کو ٹی وی پر لاکر ان سے اعتراف جرم کروا لیا گیا۔ شاید یہ باتیں لکھ کر ایس ایم ظفر نے بھی اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کر لیا لیکن سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی نے تو 2010میں اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کر لیا تھا۔ انہوں نے مجھے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پرویز مشرف ڈاکٹر قدیر کو امریکہ کے حوالے کرنا چاہتے تھے اور امریکی ہوائی جہاز آ چکا تھا لیکن میں نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ مشرف نے جمالی کے اس دعوے کی تردید کر دی تھی لیکن جمالی صاحب اپنے بیان پر قائم رہے۔ کورونا کے اس دور میں کئی کتابیں لکھی جا رہی ہیں جن میں اہم لوگ اپنے اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کریں گے اور ایس ایم ظفر کی طرح یہ انکشاف کریں گے کہ جب دنیا کورونا سے لڑرہی تھی تو کچھ صاحبانِ اختیار نے کب اور کہاں میر شکیل الرحمٰن کے خلاف ایک جھوٹا مقدمہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ضمیر کا بوجھ وہی ہلکا کرتے ہیں جنہیں اپنی موت یاد رہتی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.