نامور پاکستان اداکارہ صبیحہ خانم کی ایک مشہور صحافی کے والد سے پیار کی سچی کہانی

لاہور (ویب ڈیسک) یہ بات ہے اس زمانے کی جب پاکستان میں آزادی صحافت کے لئے دنیا کی سب سے بڑی لڑائی لڑی گئی تھی، 1977-1978ء پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی قیادت منہاج برنا اور نثار عثمانی جیسے بے باک اور دوٹوک صحافیوں کے ہاتھوں میں تھی، کارکن صحافیوں کی ملک گیر فوج ظفر موج

نامور کالم نگار خاور نعیم ہاشمی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے راہنماؤں پر اندھا اعتماد رکھتی تھی، ایک پر دھاوا سب پر دھاوا کا تصور ایمان کی حد تک مستحکم تھا، چلیں آج کے کالم میں امریکہ میں مقیم صبیحہ خانم کی باتیں کرتے ہیں، ان کا تعارف کرانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا، آج کے کچھ میڈیا اسٹارز سمیت اگر کوئی انہیں نہیں جانتا تو یہ اس کی جہالت ہوگی، ٭٭٭٭ کئی سال پہلے۔ ایک دن نیوز روم میں فون کی گھنٹی بجی ،رسیور اٹھایا تو ایک نسوانی آواز سنائی دی ,بیٹا میں تمہاری پھو پھو بول رہی ہوں،، پھو پھو ؟ کون پھوپھو؟ میں نے ایک لمحہ سوچا،لیکن خاتون نے میرا تجسس خود ہی ختم کر دیا، بیٹا، میں تمہاری صبیحہ آنٹی ہوں، کسی کام سے تمہارے آفس فون کیا تھا، آپریٹر نے تمہارا نام بتایا تو جان گئی۔۔ تم نعیم صاحب کے بیٹے ہی ہو سکتے ہو۔۔۔ اداکارہ صبیحہ خانم نے تو اپنا مدعا بیان کرکے فون بند کر دیا،لیکن میری یادوں کے دریچے کھل گئے، وہ زمانہ آنکھوں کے سامنے آگیا جب فلم نگر کے لوگ ایک فیملی کی طرح ہوا کرتے تھے، وہ دن بھی یاد آگئےجب صبیحہ آنٹی رائل پارک میں اپنے والد محترم محمد علی ماہیا کے ساتھ نوعمری میں ایک کھولی میں رہا کرتی تھیں، اور وکٹوریہ پارک میں اینگلو انڈین لڑکیوں کے ساتھ بھی دکھائی دیا کرتی تھیں، فلم چھوٹی بیگم میں نعیم صاحب اور صبیحہ دیور بھابی بنے اور دیور بھابی کے رشتے کو فلم سکرین پر امر کر دیا، لقمان صاحب کی فلم ایاز میں بھی دونوں کے کردار بھر پور تھے ، نعیم صاحب نے نذیر صاحب سے آخری لڑائی صبیحہ خانم کے حوالے سے ہی لڑی اور اس کے بعد دونوں میں کبھی صلح نہ ہو سکی، ہوا کچھ یوں کہ نعیم صاحب نے نذیر صاحب کے ادارے کے لئے آخری فلم لکھی،، بہن کی محبت،، یہ فلم ریلیز ہوئی،، شوہر،، کے نام سے، یہ کہانی تھی دو بہنوں کی، چھوٹی بہن کا ہیرو سے افئیر ہوتا ہے، بڑی بہن کو اس بات کا علم نہیں ہوتا اور وہ بھی ہیرو سے محبت کر بیٹھتی ہے، اب ایک بہن نے دوسری کے لئے قربانی دینا ہوتی ہے۔

اور یہ قربانی دیتی کون ہے؟ نعیم صاحب نے یہ کہانی ایکٹرز (کردار نگاروں )کو مد نظر رکھ کر لکھی ،ہیرو سنتوش کمار ، ہیروئن دیبا اور اداکارہ کی بڑی بہن صبیحہ۔ جب کاسٹنگ اور شوٹنگ کا مرحلہ آیا تو نذیر صاحب نے صبیحہ والا رول اپنی شہرہ آفاق اداکارہ بیوی سورن لتا کو دیدیا، نعیم صاحب کا موقف تھا کہ میڈم سورن لتا ایجڈ ہیں وہ اداکارہ کی ماں تو بن سکتی ہیں بہن نہیں ، ہاشمی صاحب نے یہ کردار ہی صبیحہ خانم کو مدنظر رکھ کر لکھا تھا لیکن نذیر صاحب اپنی اہلیہ کے سامنے یہ دلیل پیش نہیں سکتے تھے، کیونکہ میڈم سورن لتا تو سب کے سامنے کہہ دیا کرتی تھیں کہ وہ جوان ہیں اور نذیر صاحب بڈھے۔۔ سنتوش کمار کے انتقال کے کئی سال بعد جب صبیحہ خانم کے بیٹے امریکہ میں سیٹل ہوگئے تو صبیحہ خانم بھی مستقل طور پر پاکستان چھوڑ گئیں ، کئی سال بعد جب وہ پہلی بار اپنے خاندان میں شادیوں کی تقریبات میں شرکت کے لئے لاہورآئیں تو میں نے ان کے چھوٹیدیور منصور سے کہا کہ میڈم سے ملنا چاہتا ہوں ، منصور نے مجھے جمیلہ بھابی ( سنتوش کمار کی پہلی بیوی) کے گھر بلوا لیا،صبیحہ خانم قدرے دیر سے ڈرائنگ روم میں آئیں اور کہنے لگیں، بڑھاپے اور کمزوری کے باعث اب خود تیار نہیں ہو سکتی ، نہانے اور لباس کی تبدیلی کے لئے بچے ان کی مدد کرتے ہیں، میں نے رسمی گفتگو کے بعد سوال جواب شروع کئے تو منصور نے صبیحہ خانم کو مخاطب کرکے میری جانب اشارہ کیا،، بھابی پتہ ہے یہ کس کا بیٹا ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔ ہاں، میں جانتی ہوں،، منصور بھائی شاید شرارت کے موڈ میں تھا، ہم جونہی باتوں کا سلسلہ جوڑتے منصور بھر پور مسکراہٹ کے ساتھ پھر وہی سوال دہرا دیتا ، یہ منصور کا بڑی بھابی سے لاڈ تھا، منصور نے یہی سوال ایک بار پھر کر دیا تو صبیحہ خانم نے انتہائی ٹھہراؤ سے جواب دے دیا، وہ جواب جو شاید شرارتی منصور سننا چاہتا تھا۔ ہاں، ہاں ، کہا ناں ، جانتی ہوں کہ یہ نعیم صاحب کا بیٹا ہے، اورنعیم صاحب مجھ سے بہت پیار کرتے تھے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.