نانی دادی کے ہاتھوں بچے کی اس مالش کا کیا فائدہ ہوتا ہے ؟

لندن (ویب ڈیسک) مشہور مضمون نگار کمالا تھیا گراجن بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔اکتوبر کی ایک ٹھنڈی شام کو انڈیا کے جنوبی شہر بینگلورو سے رینو سازینا اپنی نومولود بیٹی کو ہسپتال سے گھر لا رہی تھیں۔ اس دوران اپنی بیٹی کو تھامے ہوئے انھیں یہ احساس ہوا کہ

وہ کتنی نازک ہے، اس کی شفاف جلد سے پتلی پتلی رگیں نمایاں نظر آ رہی ہیں۔ان کی بیٹی کی ولادت پری میچور (قبل از وقت پیدائش) ہو گئی تھی۔ 36 ماہ کے حمل پر ہی پیدا ہونے والی اس بچی کا وزن 2.4 کلوگرام تھا۔ رینو سازینا کے خاندان نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ایک قدیم انڈین ٹوٹکا آزمائیں جس کے ذریعے نومولود بچوں کی نشوونما میں مدد ملتی ہے، یعنی روزانہ بچی کی مالش کیا کریں۔تاہم ان کے ڈاکٹر اس بارے میں زیادہ محتاط رویہ اپنائے ہوئے تھے اور انھوں نے رینو کو تب تک مالش نہ کرنے کا مشورہ دیا جب تک بچی کے وزن میں مزید اضافہ نہ ہو جائے۔رینو نے درمیانی راہ نکالی اور ابتدائی دو ہفتے تک مالش نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس دورانیے میں ان کی بیٹی کے وزن میں انتہائی معمولی اضافہ ہوا۔ ایک ہفتے کے دوران ان کی بیٹی کے وزن میں صرف 100 گرام کا اضافہ ہوا اور اس کی نیند بھی متاثر رہی۔پھر رینو نے نومولود بچوں کا خیال رکھنے والی ریٹائرڈ نرس کی خدمات حاصل کیں اور ان سے بچوں کی روایتی مالش کا طریقہ پوچھا اور یوں ان کی بیٹی کی صحت بہتر ہونے لگی۔ ان کی بیٹی نے نہ صرف سکون سے سونا شروع کر دیا، بلکہ ان کے وزن میں بھی اضافہ ہونے لگا۔رینو اکیلی نہیں ہیں جنھیں اس تجربے کے بعد کامیابی حاصل ہوئی ہو، اب تحقیق سے حاصل ہونے والے شواہد بھی خصوصاً جنوبی ایشیا میں بچوں کی مالش کے حیران کن فوائد بیان کر رہے ہیں خصوصاً وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں میں۔

تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ تیل سے کی جانے والی یہ مالش جب درست انداز میں کی جائے تو اس سے بچے کے وزن میں اضافہ ہوتا ہے، بچہ بیکٹیریئل انفیکشن سے بھی بچ جاتا ہے اور بچوں کی اموات کی شرح بھی 50 فیصد تک گر جاتی ہے۔تاہم ایسے والدین جو اس تکنیک میں دلچسپی رکھتے ہیں انھیں پہلے اس حوالے سے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے تاکہ یہ یقین کر لیا جائے کہ ایسا کرنا بچے کے لیے محفوظ اور موزوں ہے۔ایسے خاندان جو نسل در نسل چلی آ رہی اس روایات کے مداح ہیں، یہ شواہد ان کے اپنی مشاہدات کی تصدیق کرتے ہیں۔رینو سابق ایڈورٹائزنگ ایگزیکٹیو ہیں اور ان کا تعلق شمالی انڈین ریاست اترپردیش سے ہے جہاں پیدائش کے بعد ماں اور بچے دوںوں کی مالش کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان کا خاندان اس روایت پر نسل در نسل عمل کرتا آیا ہے۔رینو بتاتی ہیں کہ ’جب ہم بڑے ہو رہے تھے تو میری والدہ مجھے بتایا کرتی تھیں کے وہ میری پیدائش کے بعد فوراً تندرست ہو گئی تھیں حالانکہ میں ان کا تیسرا بچہ تھی اور کیسے میری نشونما بہترین انداز میں ہوئی کیونکہ انھوں نے ہسپتال سے گھر آنے کے بعد سے میری روزانہ مالش کا باقاعدگی سے آغاز کر دیا تھا۔‘نومولود بچوں کا خیال رکھنے والی نرس نے انھیں سکھایا کہ تیل کیسے گرم کرتے ہیں، ناریل اور بادام کے تیل کو کب استعمال کیا جا سکتا ہے اور ان کی بیٹی کی جلد پر اس تیل کو روزانہ آدھے گھنٹے کے لیے کیسے لگایا جا سکتا ہے اور اس کے بعد کیسے گرم پانی سے غسل دیا جاتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم نے بچی کے پیٹ کو دل کی شکل میں آہستہ آہستہ سہلانا شروع کیا اور پھر اس طریقہ کار کو پورے جسم پر استعمال کیا۔ پھر ہم نے ان کی ٹانگوں کی ورزش کروائی اور پاؤں کی انگلیوں کو ماتھے سے لگا کر اس بات کا یقین کیا کہ ان کے پیٹ میں گیس موجود نہ ہو۔‘محققین کا کہنا ہے کہ نومولود بچوں کے لیے مالش کے فوائد ان کی صحت کے لیے بڑی عمر تک رہتے ہیں۔سٹینوفورڈ یونیورسٹی کے سکول آف میڈیسن کے پروفیسر گیری ڈارمسٹاڈٹ کہتے ہیں کہ جلد جسم کا سب سے بڑا عضو ہے، لیکن ہم اکثر اس پر دھیان نہیں دیتے کہ مجموعی صحت کے لیے جلد کی دیکھ بھال کتنی اہم ہے۔بنگلہ دیش اور ہندوستان کے اپنے ابتدائی سفر میں ڈارمسٹاڈٹ نے مشاہدہ کیا کہ خاندان، خاص طور پر مائیں اور نانیاں، اپنے نوزائیدہ بچوں کی مالش کرنے میں کافی وقت صرف کرتی تھیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جب میں نے پتہ چلایا تو معلوم ہوا کہ یہ صدیوں سے کیا جا رہا ہے، میں حیران ہوا اور پھر (میں نے) اس کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔‘سنہ 2008 میں قبل از وقت پیدا ہونے والے 497 بچوں کے مطالعے میں، جنھیں بنگلہ دیش کے ایک ہسپتال میں روزانہ مساج دیا جاتا تھا، ڈرمسٹاٹ اور اس کے ساتھیوں نے دیکھا کہ یہ قدیم طریقہ زندگی بچا سکتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’ہم نے انفیکشن کے خطرے میں تقریباً 40 فیصد کمی اور اموات کی شرح میں 25-50 فیصد کمی دیکھی جو کہ نمایاں تھی۔‘علیحدہ ٹرائلز کے ذریعے ٹیم کو پتہ چلا کہ باقاعدہ مساج بچے کے مائیکرو بایوم بنانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ بیکٹیریا کی وہ تہہ ہوتی ہے جو جلد اور آنتوں میں رہتی ہے۔ مائیکرو بایوم ایک موثر رکاوٹ کے طور پر کام کرتے ہوئے قوت مدافعت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جس سے انفیکشن دور رہ سکتا ہے۔

Comments are closed.