نبی آخرالزماںؐ کی یہ پیشگوئی کیسے سچ ثابت ہونے والی ہے ؟ اوریا مقبول جان کی خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) بنی اسرائیل کی طرح ذِلّت و رسوائی تو ہمارا مقدر اس دن سے بن چکی ہے جب ہم نے اس ملک میں اللہ کی شریعت کے نفاذ کو چار سو کے قریب جاہل اراکین پارلیمنٹ کے سپرد کر دیا کہ وہ جس حصے کو چاہیں نافذ کریں یا جس کو چاہیں نہ نافذ کریں

یا پھر اللہ کے ساتھ کئے گئے اس وعدے کا ٹھیکہ جرنیلوں نے لے لیا کہ ضیاء الحق آئے تو وہ بھی آدھا دین قابل نفاذ سمجھے اور مشرف آئے تو شریعتِ وجۂ تضحیک بن جائے۔ نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اہلِ نظر جانتے تھے کہ پوری قوم کو اس جرم کی بدترین سزا ایک دن ضرور ملنا ہے۔ اس لئے کہ ہماری قوم کے رہنما یعنی ’’الملائ‘‘ وہ ہیں جن کا دین کے ساتھ دُور دُور تعلق نہیں۔ آج اس سزا کی گھن گرج چاروں طرف سنائی دے رہی ہے اور اگر ہم اس کے مستحق ٹھہرے تو پھر ہم میں سے نہ کوئی پارسا و تہجد گزار بچے گا اور نہ کوئی مجرم اور قصور وار۔ یہ ہے اس حدیث کی موجودہ حالات پر تطبیق کہ سندھ کی خرابی ہند سے اور ہند کی خرابی چین سے۔لیکن یہ معرکہ چونکہ آخرالزما ں اور کائنات کے انجام سے پہلے اسلام کے غلبے کے معرکوں میں سے ایک معرکہ ہے اس لئے اس معرکے کی تیاری اور اس میں حصہ لینے والوں کے ایمان خالص کی پختگی کا بھی اہتمام ضروری ہے۔ حق و باطل کے معرکوں میں بالآخر وہی سرخرو ہوتے ہیں جن کا توکل اور ایمان کامل ہو۔ بدر کے یوم الفرقان میں اللہ دلوں کومضبوط کر دیتا ہے، اُحد میں متزلزل ایمان والوں کو رستے ہی سے واپس موڑ دیتا ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے کہ طالوت اور جالوت کے معرکے میں شدید پیاسی بنی اسرائیل کو ایک میٹھے دریا سے گزارتا ہے اور پانی

نہ پینے کا حکم دے کر آزماتا ہے، جو حکم مانتا ہے، صرف وہی معرکے میں شامل ہوتا ہے۔ چالیس سالہ افغان لڑائی میں اللہ نے خراسان کے باسیوں کے ایمان کو ٹھونک بجا کر دیکھا، حکمت یار سے احمد شاہ مسعود تک جو کوئی قبیلے، قوم اور علاقے کی محبت میں گرفتار تھا، اسے چھانٹ کر علیحدہ کر دیا اور فتح اس عمرِ ثالث ملا محمد عمرؒ کے ساتھیوں کو دی گئی کہ جس نے کہا تھا نہ ہم زمین کیلئے لڑ رہے ہیں اور نہ قومیت کیلئے۔ آخرالزماں کا سب سے بڑا معرکہ برپا ہونے جا رہا ہے، یہاں ایمانِ خالص بہت ضروری ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ ’’وہ گندگی کو پاکیزگی سے چھانٹ کر علیحدہ کر دیگا‘‘ (الانفال: 23)۔ سٹیج تیار ہو چکا ہے۔ دُنیا دو حصوں میں تقسیم ہونے والی ہے۔ رسول اکرمﷺ نے فرمایا، ’’لوگ دو خیموں میں تقسیم ہو جائیں گے، ایک اہل ایمان کا خیمہ جس میں بالکل نفاق نہیں ہو گا، دوسرا منافقین کا خیمہ، جس میں بالکل ایمان نہیں ہو گا‘‘ (ابو دائود، مستدرک، الفتن)۔ صف بندیوں کے اس موسم میں اپنا ٹھکانہ خود تلاش کر لو۔ اب وسیع النبیادی کے دن گئے، معرکوں کے دن آ گئے۔

Comments are closed.