نجی ٹی وی کے لائیو پرگروام میں مزید انکشافات

کراچی (ویب ڈیسک)نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ کے سینئر رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ میرے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں کہ رانا شمیم کی نواز شریف سے ملاقات ہوئی ثاقب نثار کے ساتھ پی ٹی آئی کے تعلق کے بہت سے شواہد دستیاب ہیں،

ثاقب نثار پی ٹی آئی اراکین کے ساتھ غیرملکی دورے کرتے رہے ہیں،، ماہر قانون رشید اے رضوی نے کہاکہ اس معاملہ میں انگلی عدلیہ پر اٹھ رہی ہے انہیں وضاحت پیش کرنا پڑے گی،سینئر صحافی و تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا کہ حکومت کو پارلیمنٹ کے اجلاس میں اتحادیوں کے ساتھ اپنے اراکین سے بھی مسائل کا سامنا ہے۔ماہر قانون رشید اے رضوی نے کہا کہ سابق چیف جج جی بی رانا شمیم کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار پر الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئے، رانا شمیم کا حلف نامہ جس کورٹ میں فائل ہورہا ہے انہوں نے پہلے ایک درخواست کے ساتھ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا بھی ریفرنس دیا تھا ، میں سمجھتا ہوں یہی فورم ہے یا سپریم کورٹ اس پر ازخود نوٹس لے کر جے آئی ٹی یا کمیشن بنائے، سابق چیف جج کے سابق چیف جسٹس پر الزامات سے عدلیہ کو نقصان پہنچ رہا ہے، اس معاملہ میں انگلی عدلیہ پر اٹھ رہی ہے انہیں وضاحت پیش کرنا پڑے گی۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا کہ حکومت کو پارلیمنٹ کے اجلاس میں اتحادیوں کے ساتھ اپنے اراکین سے بھی مسائل کا سامنا ہے،اطلاعات کے مطابق مونس الٰہی نے میٹنگ میں حکومت کو ای وی ایم پر قانون سازی کیلئے حمایت کا اعلان دلایا لیکن طارق بشیر چیمہ نے انہیں روک دیا اور کہا کہ ہم اس پر قطعی طور پر کوئی کمٹمنٹ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں جو ہماری قیادت کہے گی اس پر معاملات طے کریں گے۔ عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ

جی ڈی اے نے حکومت کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر حمایت کا یقین دلایا ہے لیکن ایم کیو ایم خاموش ہے، ایسا لگتا ہے ایم کیو ایم وقت کا انتظار کررہی ہے، پی ٹی آئی پریقین نہیں کہ اس کے اپنے لوگ بھی ای وی ایم پر قانون سازی میں حصہ لیں گے۔ میزبان شاہ زیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے سابق جج رانا محمد شمیم نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار پر سنگین الزامات لگادیئے ہیں، رانا شمیم نے الزام لگایا ہے کہ جسٹس ثاقب نثار نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی ضمانت پر رہائی میں رکاوٹ ڈالی،ن لیگ اسے اپنے موقف کی فتح جبکہ حکومت اسے سازش قرار دے رہی ہے، حکومت سابق چیف جج گلگت بلتستان کی ساکھ پر سوالات اٹھارہی ہے، اب یہ معاملہ اسلام آباد ہائیکور ٹ میں چلا گیا ہے۔شاہ زیب خانزادہ نے کہا کہ یہ پورا معاملہ پاناما کیس سے شروع ہوا تھا جب سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا، مگر جے آئی ٹی بننے سے ایک تنازع کھڑاہوگیا تھا، سپریم کورٹ کے حکم کے بعد 6اداروں نے 27اپریل سے جے آئی ٹی کیلئے مختلف نام عدالت کو بھیجے، 27اپریل ہی کو اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی کو سپریم کورٹ کی طرف سے مزید نام بھیجنے کا حکم ملا، اسی دن ان اداروں کو واٹس ایپ کال موصول ہوئی اور ان سے مخصوص نام شامل کرنے کا کہا گیا، ایس ای سی پی سے بلال رسول اور اسٹیٹ بینک سے عامر عزیز کا نام شامل کرنے کا کہا گیا،

اس کے بعد سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی تشکیل کیلئے پہلی سماعت 3مئی کو کی جس میں عدالت نے ایس ای سی پی اور اسٹیٹ بینک کے پیش کیے گئے ناموں کو منظور نہیں کیا، آئندہ سماعت میں اسٹیٹ بینک اور ایسی ای سی پی سے 18گریڈ اور اس سے اوپر کے تمام افسران کی فہرست طلب کی، پانچ مئی کی سماعت میں جے آئی ٹی کے ناموں میں کا انتخاب کرلیا گیا جس میں ایس ای سی پی سے انہی بلال رسول اور اسٹیٹ بینک سے انہی عامر عزیز کا انتخاب کیا گیا۔شاہ زیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ اہم بات یہ ہے کہ جسٹس رانا شمیم سے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت صدیقی نے بھی الزام لگایا تھا کہ اداروں نے نواز شریف اور مریم نواز کی درخواست ضمانت کے حوالے سے ان سے رابطہ کیا تھا، چھ جولائی 2019ء کو مریم نواز نے پریس کانفرنس میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیو چلائی، اس کے بعد حکومت جج ارشد ملک کے دفاع میں آگے آئی اور کہا کہ ن لیگ نے اداروں پر دھاوا بول دیا ہے، آج حکومت کہہ رہی ہے کہ جسٹس ثاقب نثار پر الزام اداروں پر دھاوا ہے ، حکومتی وزیر نے الزام لگانے والے سابق چیف جج رانا شمیم کے بارے میں کہا ہے کہ ایسے پاگل لوگوں کی چوک پر سر عام لتریشن کرنی چاہیے ۔ شاہ زیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ حکومت نے اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ایک بار پھر بلالیا ہے، حکومت دعویٰ کررہی ہے کہ اپنے اتحادیوں کو منالیا ہے ، اتحادیوں میں ق لیگ کی طرف سے متضاد بیانات سامنے آرہے ہیں جبکہ ایم کیو ایم خاموش ہوگئی ہے،جی ڈی اے واضح طور پر حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔

Comments are closed.