ندیم افضل چن کی رخصتی کی اصل کہانی ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعظم کے معاون خصوصی وترجمان ندیم افضل چن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے،”ماڑے داکیہ زور محمدنس جانا یارونا“….اُنہوں نے ہزارہ برادری کے ساتھ ہونے والی روایتی بربریت پر وزیراعظم عمران خان کے رویے یا اُن کی اِس پالیسی سے اختلاف کیا تھا کہ وہ اِس بربریت کا  شکار ہونے والوں

کے جائز مطالبے کے مطابق اُن کی غمگساری کے لیے اُن کے پاس غیر مشروط جانے کے بجائے اُلٹا یہ ضِدلگابیٹھے تھے جب تک ہزارہ برادری میتیں نہیں دفنائے گی وہ اُن کے پاس نہیں جائیں گے…. پر عرض کیاناں فطرت کبھی تبدیل نہیں ہوتی، یہاں تو عادت تبدیل نہیں ہوتی فطرت تو پھر فطرت ہے، اِس امر کے باعث ہمیں اگلے اڑھائی برسوں میں بھی ”تبدیلی“ کی کوئی توقع نہیں ہے، یہ الگ بات ہم دعاگوضرور ہیں،…. جہاں تک ندیم افضل چن کا تعلق ہے موجودہ سیاسی واخلاقی اور حکومتی ماحول میں اُس کا یقیناً یہ ایک بڑا ”جُرم“ ہے وہ اپنے وزیراعظم یا اپنی پارٹی پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے مظلوم ہزارہ برادری کے ساتھ کھڑے ہوئے یا اُن کے مو¿قف کی تائید کی، میرے نزدیک اُن کا اِس سے بھی بڑا جرم یہ ہے وہ مختلف ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر وزیراعظم یا پی ٹی آئی کے ذاتی و سیاسی مخالفین کے لیے وہ زبان استعمال نہیں کرتے جو حکمران وقت کو بے حد پسند ہے، وہ ایک شائستہ، مہذب اور اعلیٰ سیاسی تربیت رکھنے والے ایسے انسان ہیں جو اپنے بدترین دشمن کے لیے بھی بدزبانی نہیں کرتے چاہے اُن کا وہ مخالف یا دُشمن اِس کے لیے اُنہیں مجبور ہی کیوں نہ کررہا ہو،…. اُنہیں اگر یہ معلوم ہوتا وزیراعظم اُنہیں اِس توقع کے تحت اپنا معاون خصوصی یا ترجمان مقرر کررہے ہیں کہ وہ اِس عہدے پر تقرری کے بعداُن کے سیاسی وذاتی مخالفین کے خلاف بدزبانی کریں گے وہ شاید یہ منصب قبول ہی نہ کرتے، وہ میرے مشورے سے پی ٹی آئی میں اِس یقین کے ساتھ شامل ہوئے تھے کہ پی ٹی آئی سیاست یا حکومت میں اُن اخلاقیات کو فروغ دے گی جنہیں دیگر سیاسی جماعتیں یا حکومتیں مکمل طورپر نظر انداز کرتی رہی ہیں، وہ شاید اِس یقین کے تحت وزیراعظم کے ترجمان یا معاون خصوصی بنے ہوں گے وہ وزیراعظم کو صحیح مشوروں سے صحیح راستوں پر چلانے کی پوری کوشش کریں گے، وہ خود کو وزیراعظم کا دُم ہلاتا ہوا وفادار ثابت نہیں کریں گے، بلکہ اُن کے ایک ”مخلص ساتھی“ یا ٹیم ممبر کی حیثیت میں کام کریں گے۔ افسوس ہمارے حکمرانوں کو ”مخلص “ لوگوں کی نہیں، دُم ہلاتے ہوئے وفاداروں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ،….

Comments are closed.