ندیم افضل چن کی کپتان کے ساتھ ناراضگی کی وجہ شیخ رشید ۔۔۔۔۔۔

لاہور(ویب ڈیسک) نامور کالم نگار چوہدری فرخ شہزاد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ندیم افضل چن کا شمار ان سیاستدانوں میں ہوتا ہے جو تہذیب اور مروت کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور اختلاف رائے کو بڑے مدلل انداز میں بغیر کسی ناشائستگی کے پیش کر کے اپنے قدمیں اضافہ کرتے ہیں

جو کہ وقار کی علامت ہے۔ وہ خاموش رہنا پسند کرتے ہیں مگر بات اصول کی ہو تو بقول شاعر خاموش نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا کے مصداق اپنی رائے کو ریکارڈ پر لے آتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ پیپلزپارٹی میں مس فٹ تھے اور یہی بات کابینہ سے ان کے الوداع کی وجہ بنی۔ عمران خان کا اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو نیچا دکھانا ہو یا اس کی Ragging کرنی ہو تو ان کا ایک اپنا ہی طریقہ کار ہے۔ وہ خود براہ راست یہ کام کرنے کے بجائے اپنے inner circle میں سے کسی کو یہ ٹاسک دیتے ہیں۔ وہ پرانے ساتھیوں کو بھی معاف نہیں کرتے ۔ فوزیہ قصوری اور فارن فنڈنگ کیس کے مدعی ایس اکبر جو کہ تحریک انصاف کے بانیوں میں سے ہیں ان کی مثالیں موجود ہیں کہ ان لوگوں کو کیسے رسوا ہو کر پارٹی کو خیر باد کہنا پڑا۔ عمران خان خالی جگہ پر کرنے کے ماہر ہیں یہ بندہ Replace کر لیتے ہیں جہانگیر ترین کی مثال لے لیں۔ حامد خان کودیکھ لیں یہ لوگ آج کہاں ہیں۔ جاوید ہاشمی صاحب کا کیس دیکھ لیں۔ افضل چن کے گرہن لگنے میں شیخ رشید کا کلیدی کردار ہے۔ اس وقت پاکستان میں جس طرح کی سیاست ہو رہی ہے مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں حوادث زمانہ میں آ کر شیخ رشید پاکستان کے وزیراعظم نہ بن جائیں۔ کابینہ میں جس بندے نے سب سے زیادہ عروج حاصل کیا ہے وہ شیخ رشید ہیں حالانکہ وہ ایک ایسی اتحادی جماعت سے ہیں

جس کی صرف ایک سیٹ ہے۔ عمران خان نے جو پریشرائز کرنے والی بات کی تھی۔ وہ شیخ رشید نے Spoon Feed کی تھی کیونکہ کابینہ اجلاس میں شیخ صاحب کہتے تھے کہ اس طرح تو ہر کوئی وزیراعظم کو دباؤ میں لا کر مطالبہ کرلے گا کہ ہمارے پاس آؤ وغیرہ۔ کابینہ کا کلچر ایسا ہے کہ اختلافی رائے دینے والے کو منہ کی کھانا پڑتی ہے۔ شہباز گل فواد چودھری، شیخ رشید جیسے لوگوں کے سامنے ندیم چن تو کیا 14 ویں کا چاند بھی ماند پڑ جاتا ہے۔ پی ٹی آئی سوفٹ انداز میں یہ پراپیگنڈا بھی کر رہی ہے کہ ندیم افضل چن سینیٹ ٹکٹ نہ ملنے پر پارٹی سے ناراض ہوئے ہیں البتہ ایک بات طے ہے کہ کوئٹہ واقعہ سے پہلے بھی ندیم افضل پارٹی کو اس انداز سے ڈیفینڈ نہیں کر رہے شاید وہ ان معاملات کو ناقابل دفاع خیال کرتے ہیں۔ یہ سوچ راتوں رات پیدا نہیں ہوتی۔ البتہ اس وقت چن صاحب کی خاموشی خاصی معنی خیز ہے اگر اس موقع پر انہوں نے NRO کر لیا تو اس وقت ان کی سیاست اور شخصیت جس لیول پر پہنچی ہوئی ہے وہ برقرار نہیں رہے گی۔ وہ میڈیا پر آنے سے گریزاں ہیں جس سے حالات مشکوک دکھائی دیتے ہیں یہ افضل چن کے لیے Make or break image والی صورت حال ہے اگر انہوں نے اپنے لیے کوئی نئی سیٹ یا رعایت قبول کر لی تو ان کی باغی سیاست کا خاتمہ ہو جائے گا۔ مختیاریا اک واری فیر سوچ لا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.