نصرت جاوید نے اہم خبر دے دی

لاہور (ویب ڈیسک) تالبان حکومت کے چند سرکردہ رہ نمائوں اور اہلکاروں کے وڈیو پر ریکارڈ ہوئے کلمات مجھے فون پر فارورڈ کرتے ہوئے کئی افراد پریشانی سے جاننا چاہ رہے ہیں کہ ’’یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘میں نے کسی ایک کو بھی جواب نہیں دیا۔ سوشل میڈیا کے ذریعے علمی بحث ویسے بھی ممکن نہیں۔

سوچ رکھا تھا کہ موقعہ ملا تو اس کالم میں اپنی رائے بیان کردوں گا۔نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔مزید بڑھنے سے قبل دوبارہ یاد دلانا ہوگا کہ تالبان بھی بالآخر افغان ہی ہیں اور افغان قوم پرستی کا بیانیہ پاکستان کو وسیع تر پنجاب ہی تصور کرتا ہے۔ اس بیانیے کی بنیاد چند تاریخی وجوہات ہیں جو پنجاب کو دوستانہ بناکر نہیں دکھاتیں۔ تالبان کی اگست 2021ء میں اقتدار میں فاتحانہ واپسی کے بعد سوشل میڈیا پر متحرک ہوئے بے تحاشہ افغان انہیں پاکستان کا ’’ایجنٹ‘‘ بناکر پیش کررہے تھے۔ چند دن تک اس پراپیگنڈہ کو نظرانداز کرنے کے بعد تالبان کے لئے بالآخر لازم ہوگیا کہ وہ اپنی افغان شناخت کو بھی شدت سے اجاگر کریں۔قوم پرستی پر مبنی تعصبات کا اظہار ایسی مشق کے لئے لازمی ہے۔محض قوم پرستی ہی مگر تالبان کا کلیدی بیانیہ بن نہیں سکتی۔ اپنے بیانیے کو مزید طاقت ور بنانے کے لئے وہ پاکستان کا اب دینی معیارسے جائزہ لیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بناناشروع ہوگئے ہیں۔اسلام کے نام پر قائم ہوا پاکستان ان کی دانست میں ’’خالص‘‘ اسلامی ملک نہیں ہے۔ہمارے لئے بلکہ ’’کثیف‘‘ کا لفظ استعمال ہورہا ہے۔ہماری ریاست کو امریکہ اور مغرب کے تھلے لگاہوا بھی بتایا جارہا ہے۔ایمان داری کی بات یہ بھی ہے کہ اسلام کو معیا ر بناتے ہوئے ہماری ریاست،یہاں موجود سیاسی نظام اور ہماری ریاست کی خارجہ پالیسی پر جو سوالات تالبان کی جانب سے اٹھائے جارہے ہیں وہ بالکل ویسے ہی ہیں جو وطن عزیز میں مذہب کی بنیاد پر قائم ہوئی

سیاسی جماعتیں 1950ء کی دہائی سے اٹھاتی چلی آرہی ہیں۔حالیہ دنوں میں پاکستان کے خلاف بدکلامی کرنے والوں کی اکثریت اس گروہ سے ہے جو گزشتہ 20برسوں سے افغانستان ہی میں رہتے ہوئے غیر ملکی افواج کی مزاحمت میں مصروف رہا ۔ملاغنی برادر جیسے رہ نمائوں کی طرح وہ دنیا کے مشہور پنج ستاری ہوٹلوں میں قیام پذیر ہوکر امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کے طاقت ور افراد سے مذاکرات نہیں کرتے رہے۔اپنی جوانی کے طویل برس انہوں نے افغانستان کے مختلف دیہات اور قصبوں میں امریکی جاسوسوں اور ڈرون طیاروں سے محفوظ رہنے کی اذیت میں گزارے ہیں۔اپنی اذیتوں کو انہوں نے دین کی خاطر رونما ہوئی تکالیف شمار کیا۔میں اور آپ پسند کریں یا نہیں میدان لڑائی میں دو دہائیوں تک متحرک رہے تالبان کے بے تحاشہ فیلڈ کمانڈر ٹھوس بنیادوں پر یہ محسوس کرتے ہیں کہ دین اسلام کی خاطر لڑائی کے اصولوں پر ثابت قدمی سے قائم رہتے ہوئے انہوں نے دنیا کی واحد سپرطاقت کہلاتے ملک کو بالآخر ذلت آمیز انداز میں افغانستان سے بھاگنے کو مجبور کردیا۔طویل جدوجہد کے بعد اقتدار میں کامرانی سے لوٹے تالبان کی اکثریت اب دیگر اسلامی ممالک کا بھی اپنے نظریات کے معیار کے مطابق جائزہ لے گی۔پاکستان کو اس ضمن میں استثناء میسر ہونے کی امید رکھنا خام خیالی ہے۔

Comments are closed.