نصرت جاوید کے کالم سے تہلکہ خیز اقتباس

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔PDMکے لاہور والے جلسے کی ’’ناکامی‘‘ کے بعد بہت ہی پُراعتماد ہوئی عمران حکومت تاہم مولانا فضل الرحمن کو Multi Prongedاٹیکس کے ذریعے قابو میں لانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔یوں کرتے ہوئے یہ حقیقت فراموش کردی گئی ہے

کہ سیاسی اعتبار سے مولانا سب سے زیادہ Vulnerableان ایام میں تھے جب اپنے والد مولانا مفتی محمود کی وفات کے بعد انہوں نے جمعیت العلمائے اسلام کی قیادت سنبھالی۔مرحوم مفتی محمود اپنی زندگی ہی میں ضیاء حکومت کے خلاف بنائے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد میں شامل ہوچکے تھے۔ جمعیت العلمائے اسلام میں شامل مولانا سمیع الحق جیسے قدآور علماء نے ضیاء الحق کی ’’اسلام پسند‘‘ حکومت کے خلاف ایم آر ڈی کے نام سے بنائے اتحاد کے خلاف تحفظات کا اظہار کرنا شروع کردیا۔مولانا فضل الرحمن مگر ایم آر ڈی سے وابستہ رہے۔ اس کی بدولت جمعیت العلمائے اسلام دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔1988کے بعد مگر مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں قائم جمعیت سیاسی اعتبار سے حیران کن حد تک طاقت ور ثابت ہونا شروع ہوگئی۔ 2020کے مولانا فضل الرحمن 1980کی دہائی کے مقابلے میں آج کہیں زیادہ مؤثر ہیں۔ تنظیم سازی کے لئے ہمہ وقت متحرک رہتے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر کسی نہ کسی شہر میں اپنی جماعت کے سرکرہ رہ نمائوں سے رابطوں کو یقینی بناتے ہیں۔2019میں ان کی جانب سے ہوا لانگ مارچ اپنے مقاصدحاصل کرنے میں یقینا ناکام رہا۔ مولانا مگر اس سے دلبرداشتہ نہیں ہوئے ا ور بالآخر اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کو اپنی قیادت میں PDMقائم کرنے کو مجبور کردیا۔مولانا کو ’’قابو‘‘ میں لانے کے لئے بہت مہارت کے ساتھ کوئی گیم سوچنا ہوگی۔ پنجابی محاورے والا ’’پکا‘‘ہاتھ نہ ڈالا گیا تو ان کے خلاف چلی چالیں اُلٹا اثر دکھانا شروع ہوجائیں گی۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *