نعیم بخاری کو کام کرنے سے روک دیا گیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی وی چیئرمین نعیم بخاری کو کام کرنے سے روک دیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں نعیم بخاری کی بطور چیئرمین سرکاری ٹی وی تعیناتی کےخلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے یہ حکم جسٹس اطہر من اللہ

نے جاری کیا ۔ وزرات اطلاعات کی طرف سے ایک نمائندہ عدالت میں پیش ہوا ۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللّٰہ نے وزارتِ اطلاعات کے نمائندے سے سوال کیا کہ کیا کہ حکومت نے عمر کی حد میں نرمی کی ہے؟جواب میں نمائندۂ وزارتِ اطلاعات نے کہا کہ جی ہاں عمر کی حد میں نرمی کی گئی ہے، چیف جسٹس اسلام آباد نے کہا کہ آپ نے خود ہی نعیم بخاری کا بطور چیئرمین تقرر کر کے سمری کابینہ کو بھجوا دی، وزارتِ اطلاعات سرکاری ٹی وی کے چیئرمین کی تقرری کی مجاز نہیں ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ آپ نے سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں پڑھا؟ اُس میں کیا لکھا ہے؟ تنخواہ لیں یا نہ لیں وہ الگ بات ہے، طریقہ کار کے بارے میں بتائیں۔وزارتِ اطلاعات کے نمائندے نے بتایا کہ ہم نےلکھا ہے کہ نعیم بخاری اس عہدے کے قابل ہیں، ان کا کافی تجربہ بھی ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد نے کہا کہ عمر کی حد میں نرمی کے لیے آپ نے وجہ کیا لکھی ہے؟اس پر عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح لکھا ہے کہ وفاقی حکومت کسی کو چیئرمین نہیں بنا سکتی، آپ نے سمری بھیجتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کا متعلقہ پورشن نہیں پڑھا، نہ کابینہ نے واضح طور پر عمر کی ریلیکسیشن کا کوئی فیصلہ کیا، نہ آپ نے صحیح سمری بھیجی۔

Comments are closed.