نمبر گیم اور جی بی کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے پیشگوئی کردی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) گلگت بلتستان میں انتخابات ہو گئے۔غیر حتمی نتائج آ چکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف تئیس میں سے دس نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی تھی۔پاکستان پیپلز پارٹی نے تین نشتیں حاصل کیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حصے میں صرف دو ہی نشستیں آئیں۔ایک نشست مجلس وحدت مسلمین

نامور صحافی عمران گورائیہ اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ کے حصے میں آئی جبکہ سات آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے جو کہ حکومت سازی میں اہم کردار ادا کریں گے،روایت تو یہی رہی ہے کہ آزاد امیدوار اسی پارٹی کا ساتھ دیتے ہیں جس کے حکومت بنانے کیامکانات نمایاں ہوتے ہیں۔ سب سے بڑا اپ سیٹ تو یہ ہے کہ دو سابق وزرائے اعلی بھی انتخابات میں شکست کھا گئے۔ اب اپوزیشن جماعتیں کافی مشکل میں ہیں، انہیں یہ شکست  کسی طورہضم نہیں ہو رہی، وہ تو وہاں حکومت بنانے کے خوب دیکھ رہی تھیں تبھی تو وہاں زور شور سے جلسے منعقد کئے جا رہے تھے، دعوے کئے جا رہے تھے، وہاں کی عوام کومستقبل کے سہانے خواب دکھائے جا رہے تھے۔ بلاول بھٹو زرداری تو ایک ماہ سے وہیں قیام پذیر تھے، ان کو تو لگتا ہے زیادہ ہی دکھ لگ گیا ہے۔اب پی پی پی، مسلم لیگ (ن)ا ور جے یو آئی نے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ مریم اورنگ زیب کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کو گرفتار کر کے گلگت بلتستان کا الیکشن چوری کیا گیا۔ ویسے یہ تو ہمارے سیاستدانوں کی ریت رہی ہے کہ ہار جاؤ تو دھاندلی کا نعرہ لگانا شروع کر دو، اب تو یوں لگتا ہے کہ ہمارامجموعی رویہ یہی ہو گیا ہے کہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے۔دوسری طرف تازہ خبر یہ ہیکہ کرونا کی دوسری لہر کے باعث جلسے جلوسوں پہ پابندی لگا دی گئی ہے اور یہ پابندی اپوزیشن کو ایک آنکھ بھاتی نہیں نظر آ رہی،اسی لئے تو اپوزیشن طے شدہ پروگرام کے تحت جلسے کرنے پر بضد ہے۔یہ وقت جوش کی بجائے ہوش سے کام لینے کا ہے، کروناکی دوسری لہر زیادہ خطرناک ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ایسے میں جلسے جلوسوں کی گنجائش نکالنا کافی مشکل ہے۔ بہر حال اب دیکھنا یہ ہے کہ گلگتبلتستان میں انتخابات کے حتمی نتائج کے بعد کیا صورتحال بنتی ہے، ایسے میں آزاد امیداروں کا کردار انتہائی اہم ہے۔  کہا تو یہ جا رہا ہے کہ اب وہاں ہارس ٹریڈنگ عروج پر ہو گی۔ امید ہے جلد ہی  سب کچھ صاف ہو جائے گا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *