نمبر گیم بتا کر پیشگوئی کردی گئی

لاہور(ویب ڈیسک)سینیٹ الیکشن میں اس بار 48 نشستوں پر انتخابی دنگل سجے گا ۔جس کیلئے سیاسی جوڑ توڑ عروج پر پہنچ چکا ہے، فاٹا کی چار نشستوں پر انتخابات نہیں ہوں گے جس کے باعث نشستیں 104 سے کم ہو کر 100 رہ جائیں گی۔ممکنہ طور پر فاٹا کی باقی چار نشستوں پر سینیٹرز

2024ء میں ریٹائر ہوجائیں گے جس کے بعد فاٹا کی آٹھ نشستوںکافیصلہ ہوگا کہ آیا یہ سیٹیں خیبرپختونخوا کو دی جائیں گی یا صوبوں میں برابر تقسیم ہوں گی ۔فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد اس کی نشستوں کی تقسیم کا آئینی سوال حل طلب ہے۔اس سال سینیٹ سے 52سینیٹرز ریٹائر ہوجائیں گے جن میں مسلم لیگ ن کے 15، پیپلزپارٹی کے 7، تحریک انصاف7 اور 5 آزاد سینیٹرز شامل ہیں۔جنرل نشستوںپر 33، ٹیکنو کریٹ کی نشست پر 8،خواتین کی 9 اورغیر مسلم کی دو نشستیں خالی ہو رہی ہیں۔سینیٹ انتخابات 2021 میں سیاسی حکمت عملی اور جوڑ توڑ کیلئے سیاسی جماعتیں مختلف آپشنز اختیار کرینگی،پہلا آپشن اختیار کرنے کی صورت میں تحریک انصاف کو 21،بلوچستان عوامی پارٹی کو 9،پیپلز پارٹی کو7،مسلم لیگ ن کو5، ایم ایم اے کو2،ایم کیو ایم کو ایک ،،عوامی نیشنل پارٹی کو ایک ،جی ڈی اے کو ایک سیٹ مل سکتی ہے، ممکنہ نتائج کے مطابق تحریک انصاف 28 نشستوں کے ساتھ سینیٹ کی اکثریتی جماعت بن جائے گی ۔پیپلز پارٹی 19 سینیٹرز کے ساتھ دوسری، مسلم لیگ ن 18 نشستوں کے ساتھ تیسری اور بلوچستان عوامی پارٹی 12 نشستوں کے ساتھ چوتھی بڑی جماعت بن کر سامنے آئے گی۔پارٹیوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہ ہونے پر سیٹیں کم یا زیادہ ہو سکتی ہیں سینیٹ میں پنجاب کی 11 نشستوں پر انتخابات ہونے جارہے ہیں جن میں 7 جنرل نشستیں،2 ٹیکنو کریٹ اور دو خواتین کی نشستیں شامل ہیں۔سینیٹ میں ریٹائر ہونے کے بعد پارٹی پوزیشن کے مطابق باقی 13 سینیٹرز میں سے 10 کا تعلق مسلم لیگ نواز جبکہ 3 کا تعلق تحریک انصاف سے ہے۔ پارٹی پوزیشن کے مطابق تحریک انصاف 181،مسلم لیگ نواز 164،مسلم لیگ ق 10،پیپلزپارٹی 7 نشستیں جبکہ 4آزاد ایم پی ایزاور ایک نشست پر راہ حق پارٹی کے رکن اسمبلی موجود ہیں۔

تحریک انصاف کی کنفرم سیٹوں کی بات کی جائے تو اسے تین سینیٹ کی نشستیں ملیں گی ۔دو سری اکثریتی جماعت مسلم لیگ ن کو بھی تعداد کے حساب سے تین مکمل نشستیں مل سکتی ہیں۔ ، صوبہ سندھ کی سینیٹ کی 11 نشستوں 7 جنرل ،2 ٹیکنو کریٹ اور دو خواتین نشستوں پر الیکشن ہوگا۔پارٹی پوزیشن کے مطابق 17 سینیٹرز کا تعلق پیپلزپارٹی سے،پانچ ایم کیو ایم اور ایک کا تعلق فنکشنل لیگ سے ہے ۔ریٹائر ہونے والے سینیٹرز کے بعد سینیٹ میں پیپلزپارٹی کی 10 ،ایم کیوایم اور فنکشنل لیگ کی ایک ،ایک نشست رہ جائے گی۔سندھ اسمبلی کی پارٹی پوزیشن کے مطابق پیپلزپارٹی 96 نشستوں کیساتھ سر فہرست ہے ۔تحریک انصاف 30 نشستوں کیساتھ دوسرے جبکہ ایم کیوایم 21 نشستوں کیساتھ اسمبلی کی تیسری اکثریتی جماعت ہے ۔گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے پاس 14،تحریک لبیک پاکستان 3 جبکہ ایم ایم اے ایک نشست پر براجمان ہے ،ووٹوں کے اعدادوشمار کے مطابق پیپلزپارٹی ممکنہ طور پر چار نشستیں اپنے نام کرے گی۔تحریک انصاف ایک اور ایک ہی نشست متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ ہوگی ۔جی ڈی اے اتحاد کیساتھ ایک نشست حاصل کرسکتی ہے۔ خیبر پختونخوا کی سینیٹ کی 12 نشستوں 7 جنرل ،2 ٹیکنو کریٹ ، دو خواتین اور ایک اقلیتی نشست پر الیکشن ہوگا۔سینیٹ میں پارٹی پوزیشن کے مطابق 12سینیٹرز کا تعلق تحریک انصاف ،جمعیت علماء اسلام ف ،پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ نواز ،جماعت اسلامی اور آزاد سینیٹرز دو ،دو نشستیں رکھتے ہیں۔ایک کا تعلق اے این پی سے ہے۔خیبر پختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف 94 نشستوں کیساتھ سر فہرست ہے ۔جے یو آئی ایف 14 سولہ نشستوں کیساتھ دوسرے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی 12 نشستوں کیساتھ اسمبلی کی تیسری اکثریتی جماعت ہے ۔مسلم لیگ نواز کے پاس 6،پیپلزپارٹی 5 جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی 4 نشستوں پر براجمان ہے ۔جے یو آئی ایف تین ،مسلم لیگ ق اور جماعت اسلامی ایک ،ایک نشست پر جبکہ آزاد ایم پی ایز کی تعداد چار ہے۔اعدادوشمار کے مطابق یہاں تحریک انصاف ممکنہ طور پر پانچ نشستیں اپنےنام کرے گی۔اپوزیشن کی کوئی بھی سیاسی جماعت ممکنہ طور پر ایک مکمل نشست حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی جس کی وجہ سے اتحاد کرنا ناگزیر ہوگا۔صوبہ بلوچستان کی سینیٹ کی 12 نشستوں 7 جنرل ،2 ٹیکنو کریٹ،دو خواتین اور ایک اقلیتی نشست پر الیکشن ہوگا۔ ووٹوں کے اعدادوشمار کے مطابق بی اے پی اکثریتی پارٹی اور ممکنہ طور پر تین نشستیں لےسکے گی۔ایم ایم اے اوربی این پی مینگل ایک ایک سینیٹر منتخب کرواسکیں گی۔بلوچستان اسمبلی کی دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ یہاں سیٹوں کی تقسیم مشکل مرحلہ ہوگا کیونکہ یہاں سے کم ایم پی ایز کے ووٹ سے ایک سینیٹر منتخب ہوتاہے جو ممکنہ طورپر سیاسی جماعتوں کیلئے بارگین کرنے کیلئے آئیڈیل صورتحال ہو سکتی ہے۔،،، بلوچستان اسمبلی میں سیٹوں کی تقسیم مشکل مرحلہ ہوگا –

Comments are closed.