نمبر گیم میں 18 اور 20 کا فرق ۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بدھ کے روز 2 بجے طلب کرنے کے اعلان کے بعد مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے اپوزیشن قائدین سے ایک بار پھر رابطے شروع کردئیے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ایوانوں میں مشترکہ طور پر حکومتی اتحاد کو 6 سے 8 ووٹوں کی اکثریت حاصل ہے۔

اگرچہ اپوزیشن اور حکومتی دعووں کے مطابق دونوں اپنے آپ کو اکثریت میں سمجھتے ہیں لیکن پارٹی پوزیشن کے مطابق قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے اتحادیوں کو 342 ارکان کے ایوان میں 181 ووٹوں سے برتری حاصل ہے جبکہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے ووٹوں کی تعداد 160 ہے۔ اپوزیشن کے ایک رکن پرویز ملک کے انتقال کے باعث اپوزیشن کی ایک سیٹ کم ہوئی ہے جبکہ اپوزیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سینٹ میں انہیں 58 ووٹوں سے اکثریت حاصل ہے اور حکومتی اتحاد کے پاس 45 ووٹ ہیں۔ اس طرح تحریک انصاف کے اتحادیوں کو مجموعی ووٹوں کی تعداد226 سے 229 جبکہ اپوزیش اتحادیوں کی تعداد 215 سے 218 گنی جا رہی ہے لیکن اپوزیشن کا یہ دعویٰ کہ تحریک انصاف کا ایک ناراض گروپ اور ووٹنگ کی صورت حکومتی اتحادیوں کے کئی ووٹ بھی انہیں ملیں گے اس صورت میں اپوزیشن کی کامیابی کا امکان موجود ہے۔ اس کے بر عکس تحریک انصاف کے رہنمائوں کا خیال ہے کہ بعض اپوزیشن کے ارکان جو اپنی جماعتوں سے ناراض ہیں وہ تحریک انصاف کی حمایت کریں گے۔ میاں شہباز شریف نے بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمن، سراج الحق، آفتاب شیرپاؤ، سردار اختر جان مینگل، امیر حیدر ہوتی، شفیق ترین اور ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور محسن داوڑ کو ٹیلی فون کرکے موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی متحدہ کاوشوں کو سراہا اور تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے قومی اور عوامی مفاد میں بے مثال اتحاد اور یک جہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وزیر اطلاعات نشریات فواد چودھری کے مطابق اتحادی جماعتوں نے وزیراعظم کی قیادت پراعتماد کا اظہار کردیا ہے، وزیراعظم نے ای وی ایم سمیت تمام تحفظات دور کردیئے، حکومت اور اتحادیوں کے اتفاق پر مشترکہ اجلاس بدھ کے روز بلایا جائے گا جس میں 8 سے 10 قانونی بل منظوری کیلئے پیش کئے جائیں گے۔ وزیر اطلاعات کا اعتماد ظاہر کرتا ہے کہ حکومت نے نمبر پورے کر لئے ہیں۔

Comments are closed.