نمیبیا کی ٹیم کو شکست دینے کے بعد انکے ڈریسنگ روم میں جانے کا مشورہ شاہینوں کو کس نے دیا تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی عبدالرشید شکور بی بی سی کے لیے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔دو نومبر کی شب ابو ظہبی کے شیخ زاید کرکٹ سٹیڈیم کے ڈریسنگ روم میں نمیبیا کے کھلاڑی پاکستان سے 45 رنز کی شکست کے بعد بیٹھے تھے کہ اسی دوران دروازے پر دستک ہوئی ۔

دستک دینے والے کوئی اور نہیں بلکہ پاکستانی ٹیم کے منیجر منصور رانا تھے۔ وہ اندر داخل ہوئے تو پتہ چلا کہ وہ اکیلے نہیں ہیں بلکہ پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی بھی ان کے ساتھ ہیں۔نمیبیا کے کھلاڑیوں کے لیے یقیناً یہ لمحہ خوشگوار حیرت سے کم نہ تھا کہ ایک ایسی ٹیم جس نے ابھی کچھ دیر پہلے ہی انھیں شکست سے دوچار کیا ہے، ان کے سامنے حریف کے بجائے دوستانہ انداز میں کھڑی ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان لمحات کی جو ویڈیو جاری کی اس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے منیجر منصور رانا اور دیگر کھلاڑی نمیبیا کے کھلاڑیوں سے گھل مل گئے اور ان کے ساتھ دوستانہ انداز میں گپ شپ کر رہے ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔نمیبیا کی ٹیم میں شامل ڈیوڈ ویزے پاکستانی کرکٹروں اور شائقین کے لیے نئے نہیں ہیں۔ وہ پاکستان سپر لیگ میں لاہور قلندر کی طرف سے کھیل چکے ہیں اسی وجہ سے میچ ختم ہونے کے بعد بھی وہ لاہور قلندرز کے کھلاڑیوں سے ہنسی مذاق کر رہے تھے اور پھر جب پاکستانی کھلاڑی ڈریسنگ روم میں آئے تو ویزے خاص کر شاہین شاہ آفریدی سے بغلگیر ہوئے اور کافی دیر تک ان سے بات کرتے رہے۔نمیبیا کی ٹیم کے ڈریسنگ روم میں جا کر ان کے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کا آئیڈیا پاکستانی ٹیم کے میڈیا منیجر ابراہیم بادیس کا تھا جو گذشتہ کئی غیرملکی دوروں پر ٹیم کے ساتھ نہایت ہی پیشہ ورانہ انداز میں اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔پاکستانی ٹیم کے منیجر منصور رانا کا کہنا ہے

کہ انھیں یہ بات ہمیشہ اچھی لگتی ہے کہ آپ اگر دوسروں کی کوئی اچھی بات دیکھیں تو اسے ضرور سراہا جائے۔اس عمل کا بنیادی مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ پاکستان اور پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مثبت امیج کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔نمیبیا کی ٹیم کے ڈریسنگ روم میں جانے کے بعد پاکستانی ٹیم نے سکاٹ لینڈ کی ٹیم کو اپنے ڈریسنگ روم میں مدعو کیا۔یہ موقع فاسٹ بولر حارث رؤف کی سالگرہ کا تھا جس میں سکاٹ لینڈ کے کھلاڑی بھی شریک ہوئے جن کی پاکستانی کرکٹروں نے اپنی روایت کے مطابق مہمان نوازی کی۔پاکستانی کرکٹ ٹیم کووڈ کی غیرمعمولی صورتحال کی وجہ سے غیرملکی دوروں میں قرنطینہ میں بہت زیادہ وقت گزارنے پر مجبور رہی ہے۔ورلڈ کپ سے قبل بھی کیے گئے دوروں میں ٹیم منیجمنٹ اور کھلاڑی ہوٹل کے ان اسٹاف کو قطعاً نہیں بھولے جنھوں نے ان کا بہت زیادہ خیال رکھا۔پاکستانی ٹیم نے اس کا اظہار جنوبی افریقہ کے دورے میں ٹیم ہوٹل کے سٹاف کو ٹیم کی شرٹس اور دیگرسووینئر پیش کرکے کیا تھا۔ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سیمی فائنل سے قبل پاکستانی ٹیم کو دبئی میں اپنا ہوٹل شفٹ کرنا پڑا ہے اور اس نے اس موقع پر بھی ہوٹل سٹاف کو جاتے ہوئے سووینئر پیش کیے۔پاکستانی کرکٹ ٹیم کے نمیبیا کے ڈریسنگ روم میں جانے کی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں دوسری ٹیموں نے بھی اسے ایک مثبت عمل سمجھتے ہوئے اسے اپنایا ہے۔اس سلسلے میں انڈین ٹیم سکاٹ لینڈ کے ڈریسنگ روم میں گئی اور اس کے کھلاڑی سکاٹش کھلاڑیوں سے ملے۔پاکستانی ٹیم کے لیے یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ وہ کسی ٹیم کے ڈریسنگ روم میں جاکر اس کے کھلاڑیوں سے ملی ہو۔پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی بنگلہ دیش اور سری لنکا کے ٹیموں کے خلاف میچوں کے بعد پاکستانی ٹیم ان کے ڈریسنگ روم میں جاکر نیک تمناؤں کا اظہار کرچکی ہے۔(بشکریہ : بی بی سی )

Comments are closed.