نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان خاندانی پس منظر اور حسب و نسل کو انتہائی اہمیت کیوں دیتے تھے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور مضمون نگار طارق انوار اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ملک امیر محمد خان“اصل سے خطا نہیں اور کم اصل سے وفا نہیں ”کے مصداق خاندانی پس منظر اور حسب و نسب کو اہمیت دیتے تھے – ایک مرتبہ اْنہوں نے اپنے ملٹری سیکریٹری جہانداد خان کو یہ بتا کر حیران کردیا کہ

جہانداد خان کے دادا اپنے علاقہ سے حج کے لئے جانیوالے پہلے شخص تھے۔ اور یہ کہ اْنہوں نے جہانداد خان کی تقرری کی منظوری دینے سے پہلے ضروری چھان بین کر لی تھی – انتظامیہ پر اْن کی گرفت مضبوط تھی اور افسروں کو بے محکمہ بنانے کے لئے بھی مشہور تھے-ہمارے پی-آئی-اے کے جنرل منیجر، اسلام آباد، قمر علی خان مرحوم اکثر نواب کالا باغ کے“افسرِ بے محکمہ ”فارمولہ کا پسندیدگی کے ساتھ ذکر کیا کرتے تھے اور حسبِ ضرورت استعمال بھی۔قمر صاحب پی۔آئی-اے مارکیٹنگ کے ایک فعال اور فرض شناس افسر تھے – وہ ہاکی کے ایک معروف سابق کھلاڑی تھے – ایک مرتبہ اسلام آباد بکنگ آفس کے ایک عارضی کارکْن کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی اور اْسے فارغ کردیا گیا- ایک دن، میں قمر صاحب کے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا کہ اْن کے سیکریڑی نے اطلاع دی کہ وفاقی وزیر شیر افگن کے حوالہ سے دو افراد اْن سے ملنے آئے ہیں – اْنہیں بھیج دو- جی فرمائیے؟ سر، آپ نے فلاں کو برخاست کردیا ہے۔ قمر صاحب نے جواب دیا -“وہ چور ہے اور چوری تسلیم بھی کر چکا ہے”سر، چور ہے تو کیا ہوا بندہ تو ہمارا ہے -“ یہی وزیر بہادر، ہمارے دوست حبیب اللّہ فاروقی، ڈائریکٹر نیوز، پی-ٹی-وی سے محض اس لئے ناراض ہوگئے کہ خبرنامہ میں اْن کی خبر نہیں چلی اور غصہ اْن کی بیگم اور ہماری بھابی آصفہ پر اْترا جو ایک وفاقی تعلیمی ادارے سے وابستہ تھیں اور اْن کا تبادلہ اسلام آباد سے کسی دور دراز شہر کردیا گیا – وہ تو اللّہ بھلا کرے اظہر سہیل مرحوم کا کہ اْنہوں نے مدد کی اور دونوں میاں بیوی عتاب سے بچ گئے- آصفہ فاروقی اب اس دْنیا میں نہیں۔ ان کی یادیں“یاد کی دستک”کے نام سے اْن کی زندگی میں شائع ہوگئی تھیں۔آپ بھی سوچیں گے کہ ملک امیر محمد خان کا تذکرہ چھوڑ کر کہاں جا نکلا – معاف کیجئے گا! بتانا یہ مقصود ہے کہ بْرائی کو اگر کْچلا نہ جائے اور پھولنے پھلنے دیا جائے تو پھر وہی کچھ ہوتا ہے جو ہمارے یہاں ہوا اور ہورہا ہے- بھوسہ جب بکھر جائے تو پھر اسے سمیٹنا ممکن نہیں رہتا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *