نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان کے مثالی طرز حکومت کے چند یادگار واقعات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور مضمون نگار فاروق عادل اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔نواب ملک امیر محمد خان نے صوبے کے حالات سے آگاہی کے لیے تمام متعلقہ افسروں کو ہدایت کر رکھی تھی کہ وہ اپنے محکمے اور علاقے کی تمام تر معلومات براہ راست گھر کے پتے پر انھیں روانہ کیا کریں۔

صوبے کے حالات کے بارے میں اس طرح کی رپورٹیں اور اپنے نام آنے والے تمام خطوط وہ اپنے ہاتھ سے کھولتے، براہ راست احکا م جاری کرتے اور ان احکامات پر ہونے والی پیش رفت سے ذاتی طور پر آگاہ رہتے۔اس مقصد کے لیے انھوں نے ذاتی طور پر ایک نظام قائم کر رکھا تھا۔ ان کی کارکردگی اور حالات سے واقفیت سے حیران ہو کر لوگ ان سے سوال کیا کرتے کہ یہ سب آپ کیسے معلوم ہو جاتا ہے؟ وہ کہا کرتے کہ یہ باتیں مجھے میرا جن بتاتا ہے۔سنہ 1965 کی لڑائی اور اس سے پہلے مشن جبرالٹر اور گرینڈ سلام کے بارے میں ان کی رائے یہ تھی کہ یہ ایک سازش ہے جس میں بھٹو اور ان کے ساتھی ملوث ہیں۔ ان واقعات کے بارے میں وہ سمجھتے تھے کہ ان کی وجہ سے ناصرف ملک نقصان میں رہے گا بلکہ ایوب خان کا اقتدار بھی کمزور ہو جائے گا۔ایوب خان کے سیکریٹری اطلاعات الطاف گوہر نے لکھا ہے کہ لڑائی کے زمانے میں نواب صاحب منظر سے غائب ہو گئے تھے لیکن دوسری طرف اس کے بالکل متضاد اطلاعات بھی موجود ہیں۔ان کے سوانح نگار نے جنرل شیر علی کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایک بار وہ ہیلی کاپٹر میں لڑائی والے علاقے کا دورہ کر رہے تھے کہ زمین پر انھوں نے ایک سویلین کو فوجیوں کے ساتھ باتیں کرتے دیکھا۔ یہ منظر حیرت انگیز تھا، لہٰذا انھوں نے ہیلی کاپٹر اتروا کر صورت حال کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ معلوم ہوا کہ وہ تو نواب آف کالا باغ ہیں جو فوجیوں میں بسکٹ تقسیم کر رہے تھے۔

سوجی، السی اور دیسی گھی سے بنے ہوئے یہ بسکٹ انھوں نے خصوصی طور پر اپنے گھر میں تیار کرائے تھے۔ جنرل شیر علی یہ دیکھ کر متاثر ہوئے اور انھوں نے کہا کہ قوم کو آپ جیسے لیڈروں ہی کی ضرورت ہے۔ نواب صاحب نے جواب دیا کہ لڑائیاں ہمیشہ قوم کے جذبے سے لڑی جاتی ہیں اور میں بھی اسی قوم کا ایک فرد ہوں۔اسی لڑائی کے دوران ایوب خان نے انھیں مشورہ دیا کہ حفاظت کے پیش نظر وہ گورنر ہاؤس سے ملٹری ہاؤس میں منتقل ہو جائیں جس پر انھوں نے کہا کہ جوانوں کو محاذ پر بھیج کر میں خود چھپ کر بیٹھ جاؤں، یہ میرے لیے ممکن نہیں۔یہ لڑائی کے بالکل ابتدائی دنوں کی بات ہے کہ انھوں نے تاجروں کو طلب کیا، یہ لوگ گورنر ہاؤس کے دربار ہال میں جمع ہو گئے جہاں وسط میں صرف ایک کرسی رکھی تھی۔تاجروں کا وفد ہال میں آ کر کھڑا ہوا تو کچھ دیر کے بعد وہ ہال میں آئے اور وہاں موجود واحد کرسی پر بیٹھ کر کہا کہ لمبی چوڑی گفتگو کی گنجائش نہیں یہ لڑائی کا زمانہ اور قربانی کا وقت ہے۔ اگر کسی نے اشیائے ضرورت ذخیرہ کیں یا مقررہ نرخ سے زائد پر فروخت کیں تو ذخیرہ شدہ سامان عوام میں تقسیم اور دکان مستقل طور پر سیل کر دی جائے گی۔ ان ہی دنوں میں ایک بار حفاظتی انتظامات کے بغیر وہ بازار پہنچ گئے۔ انھیں اطلاع ملی تھی کہ کوئی تاجر مقررہ نرخ سے زائد پر گندم فروخت کر رہا ہے۔ اسے کہا تم شاید یہ سمجھتے ہوگے کہ امیر محمد محاذ میں مصروف ہے اور تم من مانی کر لو گے؟ میری مونچھ کو تاؤ آنے سے پہلے نرخ اپنی جگہ پر آ جائیں ورنہ ایسی سزا دوں گا کہ دنیا یاد کرے گی، اس کے بعد پورے صوبے سے ایسی کوئی شکایت نہ آئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *