نواب امیر محمد خان آف کالا باغ کے عروج کو زوال کیسے آیا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور مضمون نگار فاروق عادل اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ایوب خان سے اختلافات اور گورنر مغربی پاکستان کے منصب سے استعفیٰ ایک ایسا واقعہ ہے جس سے نواب کالاباغ کے زوال کی ابتدا ہوئی۔ دونوں راہنماؤں کے درمیان کشیدگی کی ابتدا اُس واقعے سے ہوئی جب نواب صاحب نے ایوب خان کو

کراچی میں گوہر ایوب کی سیاسی و غیر سیاسی سرگرمیوں کی طرف متوجہ کیا جس پر ایوب خان نے جھنجھلا کر کہا کہ کیا میری اولاد کو پاکستان میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔دوسرا واقعہ ان کے علاقے کی ایک خاتون کے غائب ہونے کا تھا جس میں ایوب خان کے عزیز ملوث تھے۔ نواب صاحب نے یہ بات براہ راست ایوب خان سے کہی۔ کچھ دنوں کے بعد لڑکی تو واپس آ گئی لیکن دونوں خاندانوں کے درمیان دشمنی شروع ہو گئی۔اس سیاسی اتحاد کو سب سے بڑی زک کراچی کے ایک ضمنی انتخاب سے پہنچی جس میں ایوب خان کے امیدوار حبیب اللہ خان تھے جب کہ نواب صاحب بلوچستان کے قوم پرست راہنما میر غوث بخش بزنجو کی حمایت کر رہے تھے، بزنجو صاحب انتخاب جیت گئے جس سے ایوب خان کو بہت رنج پہنچا، اس کے بعد ان دونوں کے درمیان دوری بڑھتی چلی گئی اور نواب صاحب اس نتیجے پر پہنچے کہ انھیں حکومت سے علیحدہ ہو جانا چاہیے۔الطاف گوہر لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ ایوان صدر میں ایوب خان کے ٹیلی ویژن انٹرویو کے لیے کیمرے لگائے گئے۔ایوب خان ایک ایسی جگہ پر بیٹھنے والے تھے جس کے پس منظر میں نواب صاحب کی تصویر بھی آتی۔ نواب صاحب چونکہ اس وقت تک مستعفیٰ ہو چکے تھے، اس لیے ان کی تصویر ہٹا دی گئی۔ایوب خان نے جب یہ دیکھا کہ تصویر اپنی جگہ پر نہیں تو تصویر اپنی جگہ پر رکھنے کی ہدایت کی، اس موقع پر دھیمی آواز میں انھوں نے ایک جملہ کہا ’تنداں ٹٹیاں جڑدیاں نئیں‘

(ٹوٹے ہوئے رشتے دوبارہ استوار نہیں ہوتے)۔ایک طرف نواب آف کالاباغ کے بارے میں ایوب خان کا یہ رویہ تھا دوسری طرف ان ہی کے ایما پر گورنر جنرل موسیٰ خان ریٹائرڈ نے ضلعی انتظامیہ، خاص طور پر پولیس کو یہ ہدایت کر دی تھی کہ ان کے کا م نہ کیے جائیں اور انھیں پروٹوکول تو بالکل نا دیا جائے۔ گویا نواب آف کالا باغ کو سیاسی طور پر غیر مؤثر کرنے کے لیے منظم طریقے سے کام شروع کر دیا گیا۔نواب صاحب کی موت کے بعد صورتحال بدل گئی۔ ان کے خاندان کی گرفت اگرچہ کالا باغ کی سیاست پر تادیر برقرار رہی لیکن ان کے مخالفین مزید متحرک اور منظم ہو گئے، نواب صاحب کے زمانے میں جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔کالاباغ کے نواب زادگان کے خلاف سب سے مؤثر سیاسی تبدیلی اس علاقے میں پیپلز پارٹی کے قیام کی صورت میں رونما ہوئی۔ نواب زادگان نے اعلان کیا کہ اگر یہاں کسی نے پیپلز پارٹی کا جھنڈا لہرایا تو اسے سبق سکھا دیا جائے گا لیکن بعد میں وہ خود ہی پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے پرانے ارکان نے اعلان کیا کہ وہ ان لوگوں کی پارٹی میں شمولیت کے باوجود ان کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔سنہ 1976 میں نواب زادگان کے خلاف اس عوامی لہر کی شدت میں بتدریج اضافہ ہوا جس کا پہلا بڑا سیاسی نتیجہ سنہ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں سامنے آیا۔ ان انتخابات میں نواب صاحب کے صاحبزادے نواب زادہ مظفر خان کے مقابلے میں مقبول خان نیازی

بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔سنہ 1988 کے انتخابات میں جمعیت علمائے پاکستان کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالستار خان نیازی کی کامیابی سے نوابزادگان کی سیاسی اہمیت میں مزید کمی ہوگئی۔ کالاباغ کے اس طاقتور خانوادے کے خلاف رائے عامہ کو بیدار کرنے میں ایک مقامی تنظیم ’بغورچی محاذ‘ نے بھی اہم کردار ادا کیا۔سیاسی زوال کے اس وقفے کے بعد سنہ 2002 کے انتخابات میں یہ خاندان ایک بار پھر ابھر کر سامنے آیا جب نواب صاحب کی پوتیاں عائلہ ملک اور سمیرا ملک قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں، ان کے بعد نواب صاحب کا ایک پڑنواسہ بھی سنہ 2013 کی قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہوا۔نواب آف کالا باغ امیر محمد خان کا خاندان زوال کے اس دورانیے کے بعد بساط سیاست پر ایک بار پھر نمایاں ہے لیکن نواب صاحب کے زمانے کو لوگ اب بھی الف لیلوی داستانوں کی طرح یاد کرتے ہیں جب شام ڈھلے ان کے خاندان کی خواتین گھر سے نکلتیں تو روشنیاں گل کر دی جاتیں، ڈھنڈورچی ڈھول بجاتا ہوا نکلتا اور مرد راستے کی طرف پیٹھ کر کے کھڑے ہو جاتے تاکہ نوابوں کے خاندان کی عورتوں پر کسی غیر مرد کی نظر نہ پڑ سکے۔لوگوں کو بوڑھ والے بنگلے کی رونقیں بھی اب تک یاد ہیں جہاں نواب صاحب کچہری لگاتے اور فیصلے کیا کرتے۔ اس دوران ان کے مصاحبین اور کارندے حسب مرتبہ خاموش بیٹھے یا کھڑے رہا کرتے۔ ضرورت مند براہ راست سوال نہ کرتے، ان کے کارندوں کے ساتھ کھڑے ہو کر گانا شروع کر دیتے، نواب صاحب سمجھ جاتے، مسکراتے اور کسی کو اشارہ کرتے ’اس کا منھ بند کر اوئے‘ سوالی کا گھر دانوں سے بھر جاتا۔ اب وہ باتیں کہانیاں بن چکیں، خواب و خیال ہو گئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *