نواب ٹاؤن: کیس میں نیا موڑ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی عمر دراز بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔کیمرے کی مدد سے دیکھا جا سکتا تھا کہ لاہور کے ایک نجی ہسپتال کے باہر ایک سفید کار آ کر رکتی ہے، اس میں سے تیزی سے ایک شخص نکلتا ہے جو گاڑی میں سے ایک لڑکی کو لے کر ہسپتال میں داخل ہوتا ہے۔

اندر ہسپتال کے عملے کو معلوم ہوتا ہے کہ جس لڑکی کو وہ اجنبی چھوڑ کر گیا ہے وہ پہلے سے انتقال کر چکی تھی۔ مزید طبی معائنے پر پتا چلا کہ لڑکی کا حال ہی میں آپریٹ ہوا تھا حال ہی میں گائنی سرجری ہوئی تھی ۔ اس کی عمر لگ بھگ 20 برس تھی۔حال ہی میں پیش آنے والے اس واقعے کی اطلاع پولیس کو دی گئی جس کے بعد ہسپتال کے سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج کی مدد سے پولیس نے سفید کار کا کھوج لگایا اور پھر اس شخص تک پہنچ گئی جو لڑکی کو اس حالت میں چھوڑ کر بھاگ نکلا تھا۔ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے پولیس کو بتایا کہ لڑکی اُس کی دوست تھی جو تقریباً چار ماہ کی امید سے تھی۔ حال ہی میں وہ لڑکی کو صوبہ پنجاب کے شہر شورکوٹ کے ایک کلینک پر لے کر گیا تھا جہاں اس کا آپریٹ کروایا ۔ملزم کے مطابق اس عمل کے بعد لڑکی کی طبیعت اچانک بگڑنے پر وہ اسے لاہور کے نجی ہسپتال لے کر آیا تھا جہاں وہ انتقال کر گئی۔ لاہور کے تھانہ نواب ٹاؤن میں پولیس کی مدعیت میں درج مقدمہ میں ملزم کو اس لڑکی کی موت اور سرجری کے کیس میں معاونت کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ملزم نے ابتدائی تفتیش کے دوران پولیس کو دیے گئے بیان میں اس بات سے انکار نہیں کیا کہ اس کے لڑکی کے ساتھ ’روابط تھے تاہم ملزم نے اس بات سے انکار کیا کہ بچہ اس کا ہو سکتا تھا۔ لڑکی کی طبیعت بگڑنے پر اس نے لڑکی کے گھر والوں کو آگاہ کیوں نہیں کیا؟ وہ لڑکی کوموت کے بعد لاہور کے نجی ہسپتال میں چھوڑ کر فرار کیوں ہوا؟یہ اور اس نوعیت کے دیگر سوالات فی الحال جواب طلب ہیں کیونکہ پولیس کے مطابق ملزم ان سوالات کے تسلی بخش جواب نہیں دے سکا ہے۔پولیس کو ملنے والی معلومات کے مطابق جو گاڑی ملزم کے زیر استعمال تھی وہ اس نے کرائے پر حاصل کر رکھی تھی۔ ملزم اور لڑکی دونوں کا تعلق گجرات سے تھا۔ ملزم نے پہلے اس کام کے لیے لاہور میں چند ڈاکٹروں سے بات کی

تاہم انھوں نے یہ عمل کرنے سے انکار کر دیا۔اس کے بعد ملزم نے شورکوٹ کے ایک نجی کلینک سے رجوع کیا۔ ملزم نے شورکوٹ کے کلینک کے ساتھ معاملات طے کرنے کے بعد لڑکی کو گجرات سے گاڑی میں لایا۔ انھوں نے اس کام کے لیے کلینک کو 35 ہزار روپے ادا کیے۔تفتیشی افسر غلام عباس کے مطابق ملزم کا کہنا تھا کہ ’وہ دوست ہونے کے ناطے محض لڑکی کی مدد کر رہا تھا۔ وہ کہتا ہے اسے نہیں معلوم تھا کہ معاملہ اتنا بگڑ سکتا ہے۔‘ تاہم پولیس کے مطابق وہ اس بیان سے مطمئن نہیں ہے۔ا’اس نے جب لاہور میں ڈاکٹروں سے اس حوالے سے معاملات طے کرنے کی کوشش کی تھی تو اسے یہی بتایا گیا تھا کہ اس عمر کی لڑکی کا ایسا آپریٹ انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے ‘آپریت کیے جانے کے بعد انھوں نے اسی طرح اسے مرہم پٹی کر کے ملزم کے حوالے کر دیا تھا کہ یہ ٹھیک ہو جائے گی لیکن اس کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی اور لڑکی انتقال کرگئی۔‘پولیس کے مطابق ملزم کو جب معلوم ہوا کہ لڑکی انتقال کرگئی ہے تو وہ اسے لاہور کے نجی ہسپتال میں چھوڑ کر فرار ہو گیا۔ تاہم ملزم نے پولیس کو دیے گئے ابتدائی بیان میں یہ دعوٰی کیا تھا کہ جب اس نے لڑکی کو ہسپتال پہنچایا تو وہ زندہ اور ہسپتال کے عملے نے ان سے پوچھ تاچھ میں وقت ضائع کیا جس کی وجہ سے لڑکی انتقال کر گئی جبکہ تفتیشی پولیس افسر غلام عباس کے مطابق ملزم کا یہ بیان بھی درست نہیں تھا۔ ’ایک تو سی سی ٹی وی فوٹیج میں صاف دکھائی دے رہا تھا کہ جب ملزم لڑکی کو اندر لے جا رہا تھا تو وہ انتقال کر چکی تھی ۔ اس کے ساتھ ہی نجی ہسپتال نے بھی پولیس کو اس بات کی تصدیق کی تھی کہ لڑکی کو بے جان حالت میں ہسپتال لایا گیا تھا۔پولیس کے مطابق ملزم ہسپتال کے عملے کو یہ کہہ کر باہر گیا تھا کہ وہ گاڑی سے موبائل فون لینے جا رہا ہے تاکہ لڑکی کے گھر والوں کو اطلاع دے سکے۔ لیکن اس بہانے وہ وہاں سے فرار ہو گیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.