نواب کالا باغ ملک امیر محمد خان کی بہترین انتظامی صلاحیتوں کی گواہی دینے والے چند یادگار واقعات

لاہور (ویب ڈیسک) وہ ایک بیدار و باخبر گورنر تھے جنہیں ضلعی انتظامی اداروں اور دیگر معاونین سے براہِ راست رپورٹیں موصول ہوتیں اور احکامات صادر ہوتے رہتے۔ بلا شبہ وہ ایک قد آورشخصیت تھے اور حاکم تھے۔ اْن کا مطالعہ اور مشاہدہ وسیع تھا۔ اْنہیں بین الاقوامی امور پر حیران کْن دسترس حاصل تھی۔ 

نامور صحافی طارق انوار اپنے ایک خصوصی مضمون میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔اْن کے مہمان خانہ کی دیواروں پر آویزاں تصاویر اور سجاوٹ ماضی و حال کا حسین امتزاج  اور اْن کی جمالیاتی حس اور پسند کا مرقع نظر آتی تھیں۔نوجوان شاہ فیصل اور کئی سربراہان، نواب صاحب کے مہمان رہ چکے تھے۔ایک مرتبہ امریکہ کی خاتونِ اوّل، جیکولین کینیڈی نے اپنے اعزاز میں دی گئے ایک عشائیہ میں نواب صاحب سے ایک پھل کے متعلق پوچھا جو مسز کینیڈی کے لئے کچھ نیا تھا۔ملک صاحب نام کے نواب یا جاگیردار نہ تھے، وہ اپنی زرعی  اراضی میں گہری دلچسپی کے ساتھ زراعت کے متعلق بھی جانتے تھے۔اْنہوں نے ایک زرعی ماہرِ کی طرح، معزز مہمان کو امرود کے بارے میں بتایا جس سے  وہ محظوظ اور متاثر ہوئیں اور برجستہ کہا کہ”میں اپنے شوہر سے کہوں گی کہ وہ آپ کو اپنا  مْشیر زراعت بنالیں۔”جیسا کہ میں نے پہلے بتایا نواب امیر محمد خان ایک زبردست ایڈ منسٹریٹر تھے اور اس معاملے میں خداداد صلاحیتوں کے مالک۔ وہ سی ایس پی افسروں کے بجائے صوبائی سروس یا رینکر ملازمین پر زیادہ انحصار کرتے تھے۔ رینکر وہ طبقہ ہے جو محکمانہ ترقی کرکے اعلیٰ عہدہ پر پہنچتا ہے۔ یہ بڑے کاریگر اور گھاگ افسر ہوتے ہیں اور اپنے افسرِ اعلیٰ کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار رہتے ہیں۔نواب امیر محمد خان آف کالا باغ کی یادداشت کا یہ عالم تھا کہ انہیں بی ڈی ممبران کے نام اور ان کا حلقہ زبانی یاد تھا۔ ان ممبران کی تعداد مغربی پاکستان میں چالیس ہزار تھی۔ ایک دفعہ کسی نے سِبّی کے ایک بی ڈی ممبر کی شکایت کی

تو انہوں نے فورا اس کا نام لے کر کہا کہ وہاں سے تو وہ (نام لے کر کہا) ممبر نہیں؟ دراصل یہی ایوب خان کے ووٹر ہوا کرتے تھے۔ سن پینسٹھ کی پاک بھارت وار میں نواب صاحب کا اتنا کنٹرول تھا کہ لڑائی کے باوجود تاجروں کو ضروریات زندگی کی اشیاء میں ایک پیسہ بھی قیمت بڑھانے کا حوصلہ نہ ہوا اور کاروباری زندگی معمول کے مطابق چلتی رہی۔نواب صاحب کے بارے مشہور تھا کہ وہ سخت مزاج ہیں، دشمن غائب کرادیتے ہیں وغیرہ۔  یقیناً وہ سخت مزاج تھے مگر ظالموں کے لئے۔ ہوا یہ کہ جب وہ آکسفورڈ سے پڑھ کر واپس آئے تو ان کے مخالف نیازی فیملی  کے لوگ انہیں زچ کئے رکھتے.اس دور میں ایک کرنل اسلم نیازی تھے جو آئے روز ان کے خلاف پریس کانفرنس کرتے رہتے –  یہ لوگ اتنے ظالم تھے کہ وہ نواب صاحب کے بے زبان مویشیوں کی کبھی آنکھیں نکال لیتے تو کبھی چوری کرکے لیجاتے-  نواب صاحب بہت مہمان نواز تھے –  کالاباغ کے سرکاری ریسٹ ہاؤس میں کوئی آکر ٹھہرتا تو کھانا و ناشتہ نواب صاحب کے گھر سے آتا- ان کا دسترخوان بہت وسیع تھا-  ایک دفعہ مجھے ملک غلام مصطفے کھر کے ساتھ وہاں ڈنر کرنے کا موقع ملا۔ یہ کھانا کئی کورسز میں ہوا، دریائے سندھ کے کنارے بہتے پانی میں جہاں ہم بیس کے قریب مہمان تھے۔ بڑے لوگوں کی بڑی باتیں تھیں۔ان کی نرم طبیعت کا اندازہ لگائیے کہ ممتاز شاعر خیال امروہوی، نوجوان تھے، ترقی پسند خیالات رکھتے تھے اور ”فکرِ جواں“ کے نام سے ہفت روزہ نکالتے تھے۔

انہوں نے بے روزگاری سے تنگ آکر ملازمت کے حصول کے لئے بھوک ہڑتال کردی۔ نواب صاحب نے مشتعل ہونے کے بجائے انہیں لیکچرر کی نوکری دلادی۔ وہ لیہ کے سرکاری کالج سے ریٹائر ہوئے اور پھر وہیں کے ہو رہے۔ان کے دور میں ایک شخص نقلی مونچھیں بیچا کرتا تھا وہ آواز لگاتا ”مونچھ کی مونچھ گورنر کا گورنر“ پولیس نے دھر لیا مگر نواب صاحب نے رہا کروا دیا۔ ایک ضروری بات رہ گئی کہ بڑے بڑوں کو خاطر میں نہ لانے والے نواب صاحب صرف اپنے علاقہ کے  پٹواری سے ذرا  گھبراتے تھے اور کام کے لئے اس کو طلب کرنے کے بجائے خود  اس کے پاس جانے میں تکلف نہ کرتے تاکہ ریکارڈ میں کوئی گڑبڑ نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا کوئی پتہ نہیں، کب میری زمین چپکے سے کسی اور کے کھاتے  میں درج کردے اور سالہا سال بعد پتہ چلے کہ میری تو زمین ہی نہیں۔ بھٹو کی طرح ان کا بھی ایک ملازم نور محمد عرف نورا تھا۔ ایک مرتبہ قصبہ لالیاں کے ایک لینڈ لارڈ نے نواب صاحب کی دعوت کی اور مقامی روایت کے مطابق نواب صاحب کو دو مربعہ زمین بھی تحفہ کی۔ نواب صاحب نے حکم دیا یہ زمین میرے ملازم نورا کے نام کردی جائے۔  چنانچہ اس کے نام کر دی گئی۔  اب نہ تو نواب صاحب ہیں نہ نورا اور نہ ہی ایوب خان۔ بس اس دور کی یادیں ہی رہ گئی ہیں۔پیپل حویلی اور بوڑھ حویلی یہ نواب صاحب کے دو گھر تھے ایک میں پیپل کا درخت اور دوسرے میں بوڑھ(برگد) کا درخت تھا۔فیملی کے لئے گھر جہاں  سخت پردہ تھا اور مہمانوں کے لئے“بوڑھ ہاؤس”جس کا ذکر پہلے آچکا ہے۔ایوب خان کی حکومت میں قدرت اللّہ شہاب اور الطاف گوہر کے علاوہ چار دیگر سی ایس پی کیڈر کے سیکرٹری بھی بڑے مشہور تھے۔  میری مراد ہے مسعود نبی نور،مسعود مفتی، مختار مسعود اور مسعود الرؤف۔ ایوب کے دور میں حکومت کا صحافت پر سخت کنٹرول تھا اور 1963ء کا پریس کنٹرول آرڈیننس نافذ تھا۔میں نے ایک اخباری ڈیکلریشن کے لئے درخواست دی  ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے وہ درخواست بلدیہ کے چیئرمین کو بھیج دی حالانکہ آرڈیننس میں کوئی تذکرہ نہ تھا۔  یہ سرگودھا کی بات ہے اس وقت وہاں ڈپٹی کمشنر مسعودالرؤف تھے۔ اچانک انہیں سیکرٹری انفارمیشن بناکر تبادلہ کردیا گیا۔ وہ  ایک دبنگ اور  وضعدار افسر تھے۔  ہم ملنے گئے تو انہوں نے سب پریس والوں کو کہا کہ جارہا ہوں، کوئی کام بتائیے؟  میں نے اپنے اخباری ڈیکلریشن کی بات کی تو انہوں نے ہیڈکلرک کو میری فائل لانے کو کہا اور ڈیکلریشن جاری کردیا اور کہا کہ لاہور جاکر میں اس کی توثیق کردوں گا اور پھر ایسا ہی ہوا۔ 

Sharing is caring!

Comments are closed.