نواز شریف ، عمران یا بلاول بھٹو اس قوم کو دکھوں سے نجات نہیں دلا سکتے ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) جب دولخت پاکستان کے ملبے پر سوشلزم کا پرچم لہراتے ذوالفقار علی بھٹو سریر آرائے سلطنت ہوئے۔ اقتدار سنبھالتے ہی 31قسم کے سینکڑوں صنعتی یونٹ، تیرہ بینک، چودہ انشورنس کمپنیاں، جہازرانی کے د س ادارے اور دو پٹرولیم کمپنیوں سمیت بہت کچھ سرکاری ملکیت میں چلا گیا۔ سٹیل کارپوریشن آف پاکستان،

کراچی الیکٹرک، گندھارا انڈسٹریز، نیشنل ریفائنریز، پاکستان فرٹیلائیزرز، انڈس کیمیکلز، اتفاق فاؤنڈری، حبیب بینک، یونائیٹڈ بینک، مسلم کمرشل بینک، پاکستان بینک، بینک آف بہاولپور، لاہور کمرشل بینک، آدم جی انشورنس، حبیب انشورنس، نیو جوبلی، پاکستان شپنگ، گلف سٹیل شپنگ، سینٹرل آئرن اینڈ سٹیل ملز سمیت کتنے ہی ادارے بھٹو کی ملکیت ہو گئے۔نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ انتہا یہ ہے کہ آٹا پیسنے اور چاول صاف کرنیوالے چھوٹے چھوٹے کارخانے بھی۔ پہلا اعلان یہ تھا: حکومت فقط انتظام سنبھالے گی۔ ملکیت مالکان کی رہے گی۔ دوسرا یہ کہ حکومت ہی مالک ہوگی۔ کوئی زرِ تلافی نہیں ملے گا۔ ردعمل ہوا تو مالکان کو معاوضہ ادا کرنے کا فیصلہ ہوا لیکن یہ کہ قیمت کا فیصلہ حکومت کرے گی۔ مزدور کی فلاح ہی مقصود تھی تو ٹریڈ یونین شائستہ خطوط پر منظم کی جاتی۔ محنت کشوں کی مراعات بڑھا دی جاتیں۔قانونی تحفظ انہیں دیا جاتا۔ بھٹو کا مسئلہ مختلف تھا۔ وہ اپنے حامیوں اور مزدوروں کو انقلاب کا تاثر دینے پر تلے تھے۔اپنے نعروں کے اسیر اور خود کو ہیرو ثابت کرنے پر اتارو۔ رزاق داؤد کے دادا سیٹھ احمد داؤد قید سے رہا ہوئے تو امریکہ چلے گئے، جہاں انہوں نے تیل کمپنی بنا لی۔آج اس میدان میں ہم غیر ملکی کمپنیوں کے محتاج ہیں۔ ایم اے رنگون والا برما سے بمبئی آئے اور 1947ء میں اپنا کاروبار پاکستان منتقل کیا۔ ایک دو نہیں، 45کمپنیاں چلا رہے تھے، ملائیشیا چلے گئے۔ بٹالہ سے سی ایم لطیف آئے۔ بادامی باغ لاہور میں پاکستان کا سب سے بڑا انجینئرنگ کمپلیکس قائم کیا، ٹیوٹا کے

اشتراک سے۔رنگون والا ہی نہیں، ہارون، جعفر سنز، سہگل بھی پاکستان چھوڑ گئے۔ صنعت کاری تھم گئی۔ فینسی گروپ کے اکتالیس کارخانے تھے۔ بعد میں صرف ایک فیکٹری لگا سکے، وہ بھی بسکٹ کی۔ قومیائی جانے والی صنعتوں کا اسّی فیصد برباد ہو گیا۔ زراعت میں شرح ترقی ایک تہائی رہ گئی۔ مشرقی او ر مغربی پاکستان کیلئے جتنا قرض اب تک لیا تھا، اس سے زیادہ بھٹو کے پانچ برس میں۔ افراطِ زر تیزی سے بڑھا۔عمران خان کے عہد سے بھی زیادہ۔ ادائیگیوں کے خسارے میں 795فیصد اضافہ ہوا۔ بھٹو کے پورے عہد میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ ہی شائع نہ ہوئی۔ شرحِ ترقی دو فیصد رہ گئی۔ اب ہم چین کے مرہونِ منت ہیں۔ فارسی کا محاورہ یہ ہے ’’خود کردہ را علاجے نیست‘‘خود خریدی ہوئی بیماری کا علاج نہیں ہوتا۔ ملک کو لاحق بیماری کا علاج ممکن ہے۔ قوم اگر فکرو تدبر پے آمادہ ہو ‘ مہاتیر محمد ایسی کوئی شخصیت تلاش کی جائے‘ کوئی جمہوری پارٹی تشکیل دی جائے۔ لوٹ مار کے خوگر آصف علی زرداری کا فرزند بلاول بھٹو نہیں‘ انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے نواز شریف اور عمران خان نہیں۔

Comments are closed.