نواز شریف دور میں۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار انجم فاروق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔مشہور محاورہ ہے جو کام سیدھی انگلی سے ہو جائے اس میں انگلی ٹیڑھی کرنے کی کیا ضرورت ۔ حکومت اگر تحرہک تالبان پاکستان سے مذاکرات کی بات کررہی ہے تو اس میں حیرت اور پریشانی کی کیا بات ہے ۔

مذاکرات تو پیپلزپارٹی کے دور میں بھی ہوئے تھے اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں بھی ۔ پیپلزپارٹی نے2008ء میں چند تنظیموں کے رہنماؤں سے بھی مذاکرات کیے تھے اور امن معاہدہ بھی ۔ متعدد رہنماؤں کو رہا بھی کیا تھا اور عوام کی سلامتی کی آس بھی لگائی تھی۔بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی ‘ 2014ء میں میاں نواز شریف کی حکومت نے بھی ایک تنظیم سے بات چیت کی تھی مگر مذاکرات کی بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی تھی ۔پھر ضرب ِ عزب اور ردالفساد جیسے ایکشنز کے ذریعے شرپسندوں کا قلع قمع کیا گیا ۔ اب تحریک تالبان پاکستان کے لوگ افغانستان میں ہیں اور شاید تالبان کے اتحادی بھی ۔ پاکستان نے تالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کرانے میں مدد کی تھی اس لیے اب تالبان ہمارے احسان کا بدلہ چکانا چاہتے ہیں ۔اگر امریکہ اور تالبان اپنے مفادات کے لیے ضد اور انا کو قربان کرسکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں ۔اگر ہم کراچی کو بدامنی کا اڈہ بنانے والوں کے ساتھ نرمی برت سکتے ہیں تو تالبان کے ساتھ یہی رویہ اختیار کرنے میں قباحت کیا ہے ۔اگر ہم بلوچ آزادی پسندوں کو قومی دھارے میں شامل ہونے کا موقع دے سکتے ہیں تو یہاں اگر مگرکا سوال کیوں پیدا ہورہا ہے ؟ الفاظ کی دھار تلوار سے تیز ہوتی ہے اور مذاکرات کی طاقت ہتھیاروں سے زیادہ۔ لڑائیاں جہاں تباہی لاتی ہیں وہیں امن کی پہلی سیڑھی بھی ہوتی ہیں ۔ تحریک تالبان پاکستان کے ساتھ ہم نے پندرہ سال لڑ کردیکھ لیا اب امن کو موقع دینے میں کیا حرج ہے ۔ اگر وہ سرنڈر کرنا چاہتے ہیں تو اس آفر کو قبول کرنے میں برائی کیا ہے ؟جو قومیں مذاکرات کو ٹھوکر رسید کرتی ہیں وہ عوام کی زندگیاں خطرے میں ڈالتی ہیں ۔ میاں نواز شریف تالبان سے مذاکرات سے پہلے عمران خان سے مشورہ کرنے بنی گالا گئے تھے کیا موجودہ وزیراعظم بھی ایسا کرسکیں گے ؟ ملاقات نہ سہی وزیراعظم نواز شریف اور آصف زرداری کو فون کال ہی کرلیں ۔ کیا نواز شریف اورآصف زرداری کا قصور تالبان سے بھی زیادہ ہے ؟(ش س م)