نواز شریف مکمل طور پر چپ ہیں ، آخر کیوں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار تنویر قیصر شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ افغان تالبان کی نئی حکومت بنتے ہی عالمی میڈیا میں یہ بات اچھالی جانے لگی کہ تالبان کی33رکنی عبوری حکومت میں تو ایک بھی خاتون کو وزیر نہیں رکھا گیا اور نہ ہی کوئی وزارت خواتین کے لیے مختص کی گئی ہے۔

یہ بھی کہا گیا کہ افغان تالبان کے مرکزی ترجمان نے تو وعدہ کیا تھا کہ حکومت میں خواتین بھی شامل کی جائیں گی لیکن اب عمل کے وقت اس وعدے سے ’’انحراف‘‘ کر دیا گیا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ افغان ترجمان نے واضح طور پر ایسا کوئی وعدہ سرے سے کیا ہی نہیں تھا۔ اوردوسری بات یہ ہے کہ افغان خواتین اور مستورات کے حوالے سے افغان تالبان کا ایک خاص نکتہ نظر ہے، ہمیں اس بارے میں بھی اُن کے خیالات و افکار کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ معلوم ہوتا ہے اس حوالے سے دُنیا کے دل افغان مقتدر تالبان بارے صاف نہیں ہُوئے ہیں۔مثال کے طور پر اقوامِ متحدہ میں دُنیا بھر کی خواتین کے مسائل سے متعلقہ معاملات کی سربراہ پرامیلا پٹین (Pramila Patten)نے بھی کہا ہے کہ ’’افغان تالبان کی عبوری کابینہ میں افغان خواتین کو شامل نہ کرکے مقتدر تالبان قوتوں نے دُنیا کو اچھا پیغام نہیں بھیجا ہے‘‘۔ بھارت بھی تالبان کی عبوری حکومت کے اس پہلو کو اچھال کر نہائت منفی پروپیگنڈہ کررہا ہے۔ ویسے بھارت کو تو مجموعی طور پر پوری تالبان حکومت ہی ایک آنکھ نہیں بھا رہی۔اِس وقت تالبان کی نئی حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ دُنیا کیسے اور کب تک انھیں تسلیم کرتی ہے۔ اندازے تو یہی ہیںکہ تالبان حکومت کیRecognition کا مرحلہ بھی جلد ہی اور آسانی سے طے پا جائے گا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ جب سے افغانستان میں تالبان کا حکومتی پرچم لہرایا ہے، پاکستان کے تین بار وزیراعظم منتخب ہونے والے جناب محمد نواز شریف بالکل خاموش ہیں۔اُن کی پارٹی کو بھی چپ ہے۔ نون لیگ کی نائب صدر محترمہ مریم نواز بھی خاموش ہیں۔ نون لیگ وطنِ عزیز کی اہم ترین پارٹی ہے اور نواز شریف ملک سے بوجوہ غیر حاضر ہونے کے باوجود اس ملک کے اہم اور موثر سیاسی لیڈر۔ پاکستان کے مغربی ہمسائے میں جنم لینے والی اس زبردست تبدیلی بارے ان کی خاموشی معنی خیز ہے۔نئی تالبان حکومت کے حوالے سے پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو زرداری کے بیانات تو میڈیا میں مسلسل آ رہے ہیں لیکن نون لیگ ونواز شریف کی خاموشی پُراسرار بھی ہے اور معنی خیز بھی۔ سید علی گیلانی کے انتقال پر بھی نواز شریف خاموش ہی رہے۔ چند دن پہلے6ستمبر کو پاکستان کا یومِ دفاع تھا لیکن اس موقع پر بھی نواز شریف اور مریم نواز شریف کے ٹوئٹرز پر خاموشی چھائی رہی۔ جناب شہباز شریف البتہ چھ ستمبر کو یومِ دفاعِ پاکستان کے حوالے سے راولپنڈی میں فوج کے زیر اہتمام تقریب میں ضرور شریک ہُوئے ہیں۔

Comments are closed.