نواز شریف کو سزا یافتہ کرنے یا کروانے والے ثاقب نثار آصف زرداری کو سزا کیوں نہ دلوا سکے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) آج جسٹس ریٹائرڈ ثاقب نثار کی آڈیو کا بڑا چرچا ہے مگر ستم ظریفی دیکھئے جب وہ ملک کے چیف جسٹس تھے تو انہوں نے ایک قیدی سے خود مشروب خاص برآمد کی تھی، جو بعد میں شہد کی بوتل بن گئی تھی اور چیف جسٹس دیکھتے رہ گئے تھے گویا

اس ملک میں ایک چیف جسٹس بھی اپنی گواہی کے باوجود سچ سامنے لانے پر قادر نہیں ہوتا۔نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ جہاں حالات اس قدر دگرگوں ہوں وہاں ہم صرف آوازوں اور تصویروں کی بنیاد پر سچ ڈھونڈ رہے ہیں۔ یہ اتنا آسان نسخہ ہوتا تو ہر جگہ کامیاب رہتا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے سچ کو چھپانا بھی انتشار سے بچنے کا ایک راستہ ہے۔ اس لئے ہماری تاریخ میں سچ چھپانے کے جتنے واقعات نظر آتے ہیں انہیں اس نظر سے دیکھنا چاہئے۔ تاویل تو بہت اچھی ہے مگر کیا اسے ایک دستور مان لینا چاہئے۔ بڑے سے بڑا سانحہ اور واقعہ بھی ہو جائے اس کا سچ سامنے نہیں لانا۔ بعض واقعات کو مان لیا ریاستی رازوں کی زد میں آتے ہیں مگر سانحہ بلدیہ ٹاؤن، سانحہ ماڈل ٹاؤن، سانحہ ساہیوال اور یہ آڈیو ویڈیو کے معاملات، جنہوں نے ہماری معاشرتی زندگی کو تباہ کر دیا ہے، ہمیں ایک گہرے ابہام میں مبتلا کر دیاہے، انہیں بھی چھپانا چاہئے، ان کے سچ پر بھی پردہ ڈالنا چاہئے، کیا ان کے ذمہ داروں کو سزا نہیں ملنی چاہئے کیا بدعنوانی اور لوٹ مار کی جن داستانوں میں قوم کو الجھا دیا گیا، ان کی حقیقت کو سامنے لانا ضروری نہیں، نیب کی کہانیاں سنو تو لگتا ہے پورا ملک ہی چور ہے۔ لوٹا مال واپس لینے کی تفصیل مانگی جائے تو یہی نیب والے بغلیں جھانکنے لگتے ہیں۔ بڑی دھوم دھام سے گرفتاریاں عمل میں آتی ہیں اور اتنی ہی دھوم دھام سے پکڑے جانے والے باہر آ جاتے ہیں

، کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے کے مصداق یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا ہے۔نوازشریف بہت کرپٹ ہے یہ سن سن کر کان پک گئے ہیں۔ اس طرح آصف علی زرداری کی بدعنوانی کے قصے بھی ایک اپنی تاریخ رکھتے ہیں۔ نوازشریف کو تو ایک کیس میں سزا بھی ہو گئی، آصف علی زرداری ابھی تک ایک مقدمے میں بھی سزا یافتہ قرار نہیں پائے نوازشریف کو جو سزا ملی، اس کے حوالے سے اب ان گنت کہانیاں سامنے آ چکی ہیں۔ ان کی جماعت کا کہنا انہیں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت راستے سے ہٹانے کے لئے سزائیں دلوائی گئیں اس حوالے سے آڈیو لیکس کو بھی بطور ثبوت پیش کیا جا رہا ہے۔ اب اس بارے میں ایک مستند کمیشن کے ذریعے تحقیقات کی ضرورت ہے۔ مٹی پاؤ کا رویہ اگرچہ ہمارے ہاں بہت کارآمد ہے لیکن جب حالات کی الجھنیں اس قدر بڑھ جائیں کہ سچ ہی ناپیدا ہو جائے تو اسے سامنے لانے کے لئے اس رویے کو ترک کرنا ضروری ہے۔ اپنی اپنی مصلحتوں اور ضرورتوں کے تحت سچ کو دبانے کی کوششیں ہمیں ایک بیمار قوم بنا چکی ہیں جن قوموں نے ترقی کی ہے، انہوں نے سچ کو دبانے کی کبھی کوشش نہیں کی، چاہے آسمان ہی کیوں نہ ٹوٹ پڑے، جب تک ہمارے ہاں بھی یہ نہیں ہوگا ہم جھوٹ کے اندھیروں میں کولہو کے بیل کی طرح بھٹکتے رہیں گے۔ آج ہمارے ملک میں سچ کا قحط اتنا زیادہ ہے کہ عمالِ حکومت کی ہر بات، ہر دعویٰ جھوٹ لگتا ہے۔ صرف یہی نہیں شماریات کا ادارہ جو اعداد و شمار جاری کرتا ہے ان پر بھی کوئی یقین کرنے کو تیار نہیں حتیٰ کہ اسٹیٹ بنک کی باتوں پر بھی گمان ہوتا ہے کہ وہاں بھی جھوٹ کی ملمع کاری کی جار ہی ہے۔ یہ وتیرہ صرف حکومت کا نہیں اپوزیشن کا بھی ہے۔ بلا ثبوت پریس کانفرنسوں کے ذریعے حکومت پر الزامات کی بارش کر دینا ایک عام سی بات ہے اور یہی ہمارا آج کا سب سے بڑا سچ ہے۔